مریم نواز: ’ ای سی ایل کی خبریں ملک واپس آنے سے روکنے کی آخری کوششیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کی خبریں شاید انھیں واپس آنے سے روکنے کی آخری کوششیں ہیں۔

یہ بات انھوں نے منگل کو لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔

احتساب عدالت کی جانب سے سزائیں سنائے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی نے جمعے کو لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف کے عروج و زوال کی تصویری کہانی

پاکستان میں منگل کو مقامی میڈیا پر یہ خبریں آئی تھیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا پر یہ خبر بھی آئی تھی کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ انھیں لاہور ایئر پورٹ سے ہی گرفتار کر کے اسلام آباد لے جایا جائے گا۔

اس بات کا جواب میں کہ انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایئرپورٹ سے ہی لے جایا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ 'اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر پاکستان میں کوئی ایسا لیڈر ہے جس کی سب سے بڑی پبلک سپورٹ ہے، جس کے پیچھے عوام کھڑے ہیں اور مسلسل 40 سال سے کھڑے ہیں، جو حالات کا رخ موڑنے کی طاقت رکھتا ہے، تو سب یہ جاتنے ہیں کہ یہ طاقت نواز شریف کے پاس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کو عوام سے دور رکھنا ایک سطحی سوچ ہے‘۔

امیدواروں پر مقدمات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ارادے متزلزل نہیں مزید پختہ ہوئے ہیں کہ اس طرح کے جو ہتھکنڈے ہیں پاکستان میں کہ اپنی رائے عوام کی رائے پر مصلت کرنے کی کوشش، پورے پاکستان کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش۔۔۔ اس سے پاکستان کو نجات دلائیں گے۔'

اسلام آباد میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کرنے والی احتساب عدالت نے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کو دس،ان کی بیٹی مریم نواز کو سات جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے جبکہ نواز شریف کو 80 لاکھ جبکہ مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

کیپٹن (ر) صفدر اتوار کو نیب کے اہلکاروں کو گرفتاری دے چکے ہیں۔

اسی بارے میں