پشاور: عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خودکش دھماکہ، صوبائی امیدوار ہارون بلور سمیت 20 ہلاک

عوامی نیشنل پارٹی تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت جلسہ گاہ کے اندر اور باہر درجنوں افراد موجود تھے

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی میٹنگ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے اور اے این پی نے اس واقعے پر تین دن تک سوگ منانے اور سیاسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کی جانب سے بھی پشاور میں ہونے والے سیاسی جلسے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حکام نے بدھ کی صبح بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا ہے کہ منگل کی شب ہونے والے اس دھماکے کے مزید سات زخمی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’ہارون بلور میرے بھائیوں کی طرح تھے‘

پشاور: خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین

بشیر بلور نے ہمیشہ طالبان کی مخالفت کی

ہارون بلور کی میت رات گئے بلور ہاؤس منتقل کر دی گئی تھی اور ان کی نماز جنازہ بدھ کی شام وزیر باغ میں ادا کی گئی ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں عوام کو اے این پی کے دفاتر اور ان کے جلسوں اور کارنر میٹنگ سے دور نہ رہنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔

Image caption وہ مقام جہاں دھماکہ ہوا

پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ منگل کو رات 11 بجے کے قریب ہوا جب یکہ توت کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ جاری تھی جس میں شرکت کے لیے ہارون بلور پہنچے تو انھیں خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو دھماکہ ہو گیا۔

ہارون بلور اور دیگر زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان ذوالفقار باباخیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کی صبح تک ہلاک ہونے والوں میں ہارون بلور سمیت 20 افراد شامل ہیں جبکہ 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی تھی اور احتجاج شروع کر دیا تھا۔

ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہارون بلور کی ہلاکت کی خبر ملنے پر مشتعل ہونے والے کارکنوں نے توڑ پھوڑ بھی کی جس کے بعد حالات قابو میں لانے کے لیے انتظامیہ کو فوج کی مدد حاصل کرنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عینی شاہدین نے بتایا کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو ساتھ ہی دھماکہ ہو گیا

بدھ کو بھی پشاور شہر میں سوگ کا سماں ہے اور کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اس دھماکے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے’ تحقیقات میں دشمن کی پہچان کی جانی چاہیے بجائے کہ صرف بتایا جائے کہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بات یہاں تک نہیں رکے گی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے۔‘

میاں افتخار حسین نے ہارون بلور کی ہلاکت کو ظلم کی انتہا اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جماعت آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے سنجیدہ ہے اور اس کے لیے فیصلہ کرنا ہو گا۔

خیال رہے کہ یہ انتخابی مہم کے آغاز کے بعد خیبر پختونخوا میں کسی امیدوار کو نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سات جولائی کو بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے قافلے پر بھی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔

ہارون بلور کون تھے؟

پشاور میں بلور خاندان اہم سیاسی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو دسمبر 2012 میں پشاور میں ہی پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

ہارون بلور پشاور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 78 سے انتخابات میں حصہ لے رتھے۔ گذشتہ انتخابات میں انھوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تین سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ان کی قربانیوں کی ذرا بھی قدر نہیں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption ہارون بلور کے والد بشیر بلور خودکش حملے میں 2012 میں ہلاک ہو گئے تھے

سنہ 2013 کے انتخابات سے قبل بھی ہارون بلور ایک دھماکے میں بال بال بچے تھے۔ اپریل 2013 میں پشاور کے علاقے یکہ توت میں ہی منعقدہ اے این پی کے ایک جلسے میں ہونے والے دھماکے میں 17 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ دھماکا ایک عمارت کے باہر ہوا تھا جس کی پہلی منزل پر غلام احمد بلور اور ہارون بلور ایک اجلاس میں شریک تھے تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

ہارون بلور سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم نہیں تھے تاہم 23 مئی کو انھوں نے ایک ٹویٹ میں فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے نام ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ 'ملک کے لیے بشیر بلور کی شہادت کو تسلیم کرنے پر آرمی چیف اور آئی ایس پی آر کے شکر گزار ہیں۔' یہی ان کی آخری ٹویٹ بھی تھی۔

سیاسی ردعمل

پاکستان کے نگران وزیراعظم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہارون بلور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ہارون بلور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ ’عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ پر دہشت گرد حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور ہارون بلور اور ان کے ساتھیوں کی شہادتوں پر دل انتہائی مغموم ہے۔‘

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کے لیے سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے ہارون بلور اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ہلاکت کے بعد 14 جولائی کو پشاور اور مردان میں طے شدہ جلسے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تحریکِ انصاف کے مطابق یہ فیصلہ ہلاک شدگان کے سوئم کے احترام میں کیا گیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’شہید بشیر بلور کے بیٹے کی شہادت پر سب وطن پرست غمگین ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جمہوریت پسندوں پر دہشتگرد حملے بہت بڑی سازش ہے اور دہشتگرد کسے کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں یہ ظاہر ہو رہا ہے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ بلور خاندان اور اے این پی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک دن کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں جبکہ جمعرات کو پشاور میں ہونے والا جلسہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اپنے پیغام میں بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں اور ’سانحات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ انتہاپسندی کے مقابلے میں ناگزیر قومی اتفاق رائے کی جانب دعوت دے رہا ہے۔‘

پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہارون بلور اور دیگر ہلاکتوں پر بلور خاندان اور اے این پی کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں