چوڑیاں بنانے والے ہاتھ چوڑیوں سے محروم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
حیدرآباد کی اہم صنعت چوڑیاں بنانے کی ہے اور ملک بھر میں یہاں سے چوڑیاں بھیجی جاتی ہیں

جیسے جیسے چوڑی پاڑہ قریب آتا جا رہا تھا گرمی اور ہمارے تجسس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ حیدر آ باد کی شدید گرمی میں ہم لیاقت کالونی کے اندر چوڑی پاڑہ کی طرف جا رہے تھے۔

ہم بی بی سی اردو کی سیریز 'بی بی سی اردو آن ویلز' کے سلسلے میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعد سندھ پہنچے تھے۔ حیدرآباد میں چوڑیوں کی صنعت میں کام کرنے والی خواتین کے مسائل کو منظر عام پر لا نا ہمارے اِس شہر میں آنے کا مقصد تھا۔

ہم آگے بڑھ رہے تھے، گلیاں تنگ ہوتی جا رہی تھیں۔ کیمیکلز اور سیوریج کی کھلی نالیوں کی بو بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ گلیوں میں جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی چوڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ہمارے ہاتھوں میں کیمرے دیکھ کر بچے اور بڑے ٹولیاں بنا کر ساتھ چلنے لگے۔

اسی بارے میں

چوڑیوں کی کھنک کے پیچھے خطرے کی گھنٹی

وہاں ہماری ملاقات نظیرہ زاہد سے ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ دن میں دس گھنٹے چوڑیاں بنانے والی کے اپنے ہاتھوں میں چوڑیاں نہیں تھیں۔ میں نے نظیرہ سے پوچھا کیا انھیں چوڑیوں کا شوق نہیں ہے تو وہ کہنے لگیں کہ شوق تو ہے لیکن چوڑیاں بازار میں مہنگی ملتی ہیں اِس لیے وہ صرف خاص مواقع پر پہنتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WAQAR ASHRAF
Image caption دن میں دس توڑے بنا کر یہ خواتین 100 روپے کما لیتی ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ WAQAR ASHRAF
Image caption شکیلہ نے بتایا کہ ساڑھے تین لاکھ افراد چوڑیاں بنانے کی صنعت سے منسلک ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں

نظیرہ 25 سال سے یہ کام کر رہی ہیں۔ ساڑھے تین سو چوڑیاں بنانے کے انھیں 10 روپے ملتے ہیں۔ 350 چوڑیوں کے گھچے کو یہ لوگ توڑہ کہتے ہیں۔ دن میں دس توڑے بنا کر یہ خواتین 100 روپے کما لیتی ہیں۔

چوڑیاں پانچ مختلف مراحل سے گزر کر بازار پہنچتی ہیں۔ اِن مراحل کو جڑائی، صدائی، چکلائی، چٹک اور گنائی کہتے ہیں۔ اِن سارے مراحل میں 350 چوڑیوں پر مزدوری کے لحاظ سے 20 روپے لاگت آتی ہے۔ یہی چوڑیاں بازار میں 120 روپے درجن میں بکتی ہیں۔

چوڑی پاڑہ میں ہم نے چوڑیاں بننے کے کئی مراحل دیکھے ایک گھر میں بھٹی لگی ہوئی تھی جس میں چوڑیاں پکائی جا رہی تھیں۔ اِس عمل کو صدائی کہتے ہیں۔ جبکہ ایک اور گھر میں آگ کے چھوٹے چھوٹے شعلوں پر جڑائی ہوتے دیکھی۔

چکلائی کا عمل بھی دیکھا جو ایک طرح کوائلٹی کنٹرول کا کام ہے جس میں چوڑیوں کی سطح کو ہموار کیا جاتا ہے۔ یہ سب ایک سخت کام ہے جو پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجۂ حرارت میں کیا جاتا ہے۔ اِس کا سبب بھٹی سے نکلتی گرمی اور ہر تین چار انچ کے بعد گیس کی لائن میں سے نکلنے والے شعلے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WAQAR ASHRAF
Image caption اِن کی انگلیاں اور انگھوٹے کی کھال اتنی مرتبہ جلتی ہے کہ فنگر پرنٹس ختم ہو جاتے ہیں

میں نے نظیرہ سے پوچھا کہ اگر آج انھیں کوئی اور کام کرنے کا موقع ملے تو کیا وہ چوڑیاں بنانا چھوڑ دیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ اب یہ ممکن نہیں۔

'ہم نے ساری زندگی یہی کام کیا ہے اب کچھ اور نہیں کر سکتے۔'

ہمیں چوڑی پاڑہ میں شکیلہ خان لے کر گئیں تھیں جو ہوم بیس ووِمن ورکرز فیڈریشن کی سیکریٹری اطلاعات ہیں۔

شکیلہ نے بتایا کہ ساڑھے تین لاکھ افراد چوڑیاں بنانے کی صنعت سے منسلک ہیں جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں۔

شکیلہ کا کہنا تھا کہ چوڑیاں کی جڑائی کے دوران آگ کے شعلے پر کام کرنے کی وجہ سے اِن خواتین کی انگلیاں اور انگھوٹے کی کھال اتنی مرتبہ جلتی ہے کہ فنگر پرنٹس ختم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انھیں بایو میٹرکس میں مسائل ہوتے ہیں اور چھ مہینے انتظار کرنا پڑتا ہے کہ فنگر پرنٹس بحال ہو جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ WAQAR ASHRAF
Image caption بھٹی میں چوڑیاں پکانے کے عمل کو صدائی کہتے ہیں

'اگر کوئی حادثہ ہو جائے یا مسلسل گرمی اور کیمیکلز کے بخارات کے سانس میں جانے سے بیماریاں ہو جائیں تو علاج کے لیے کوئی مدد نہیں کرتا۔ ٹھیکے دار مدد کو آتا ہے نہ ہی مالک جس کے لیے ہم یہ چوڑیاں بناتے ہیں۔'

شکیلہ کے مطابق اب ورکرز میں اپنے حقوق کے بارے میں شعور بڑھ رہا ہے۔

' ایک وقت تھا جب اِن خواتین کو اپنے حقوق کے بارے میں پتہ نہیں تھا لیکن اب ہمارا پیغام پھیل رہا ہے۔'

شکیلہ نے بتایا کہ اب کئی خواتین اپنے حقوق کے لیے مطالبات کرنے لگی ہیں۔ ملک میں عام انتخابات ہونے والے ہیں اور ہم اِس موقع پر اپنے علاقوں کے امیدواروں کے پاس جا رہے ہیں، ریلیاں نکال رہے ہیں، اپنے حقوق کے لیے مطالبے کر رہے ہیں۔ یہی موقع ہے کہ یہ لوگ ہماری بات سنیں گے۔

'ہم چاہتے ہیں کہ مزدوروں سے متعلق جو قوانین ہیں اُن کا اطلاق چوڑیاں بنانے والی اِن مزدور خواتین پر بھی ہو۔ یہی ہماری جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔'

لیکن ابھی یہ سب بہت دور نظر آتا ہے۔ مہینے بھر کی محنت کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار روپے کمانے والی یہ خواتین ایک ایسے بھنور میں پھنسی ہوئی ہیں جس سے نکلنا کوئی آسان کام نہیں۔ حالات کے جبر نے انھیں اِسی کام پر لگایا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ WAQAR ASHRAF
Image caption یہی چوڑیاں بازار میں 120 روپے درجن میں بکتی ہیں

چوڑیاں بنانے والی ایک اور مزدور جمیلہ کا کہنا تھا کہ مالکان تو امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن مزدور اگر آٹھ آنے یا ایک روپیہ فی توڑہ بڑھانے کا مطالبہ کریں تو رد کر دیا جاتا ہے۔ 'جو ہاتھ یہ چوڑیاں بناتے ہیں اُن کی کوئی قدر ہے۔'

حیدرآباد کے چوڑی پاڑہ میں خاندان کے خاندان اِس کام میں مصروف ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہوش سنبھالتے ہی چوڑیاں سنبھال لیتے ہیں۔ سکول کے بجائے یہ گھریلو کارخانے اِن کا مقدر ہیں۔ میں جب میں چوڑی پاڑہ سے واپس آ رہا تھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ نازک چوڑیاں نہیں بلکہ لوہے کی بیڑیاں ہیں جو اِن لوگوں کو ایک بہتر مستقبل کی طرف بڑھنے سے روک رہی ہیں۔

اسی بارے میں