’نظریاتی اختلاف ہی انتہائی اقدام کی وجہ‘

پشاور تصویر کے کاپی رائٹ EPA

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک طویل عرصے بعد پاکستانی جمہوریت پر ایک کاری ضرب لگائی ہے۔ سنہ 2013 کے عام انتخابات کے بعد سے صورت حال آج یقیناً کافی مختلف اور بہتر ہے۔

طالبان نے پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے تقریباً دو ہفتے قبل پشاور میں ایسی کارروائی کی ہے۔

منگل کو پشاور میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں اے این پی کے رہنم ہارون بلور ہلاک ہوگئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے۔

اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی کے لیے یہ ایک بڑا نقصان اور اس کی انتخابی مہم کے لیے شدید دھچکہ ہے لیکن یہ پاکستانی طالبان کے حملے کرنے کی صلاحیت میں انتہائی کمی کا اشارہ بھی دیتی ہے۔

تحریک طالبان نے اس حملے سے شاید یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک مرتبہ جو ان کا دشمن بن جائے تو پھر وہ چاہے گذشتہ پانچ سال حکومت میں ہو یا نہ ہو، نظریاتی اختلاف ہی انتہائی اقدام کی وجہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ہارون بلور میرے بھائیوں کی طرح تھے‘

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

تحریکِ طالبان کی قیادت پھر محسود جنگجوؤں کے ہاتھوں میں

مفتی نور ولی محسود تحریکِ پاکستان طالبان کے نئے امیر مقرر

عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کی ہے اور تحریک طالبان کو چیلنج کیا ہے۔

پاکستانی فوج کی گذشتہ چند برسوں میں کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں تحریک طالبان کا نیٹ ورک کافی کمزور ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں امریکہ نے ڈرونز کے ذریعے اس کی اعلیٰ ترین قیادت کو افغانستان میں نشانہ بنایا ہے جس کے بعد ان کی جانب سے کارروائیوں میں تو کمی آئی ہے لیکن عام انتخابات کا انتظار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ شدت پسند آسان ہدف کی تلاش میں تھے۔ انتخابات کی گہما گہمی میں سکیورٹی یقینی بنانا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

تحریک طالبان نے ایک پیغام میں عوام سے کہا ہے کہ وہ ’اے این پی کے دفاتر، جلسوں اور کارنر میٹنگوں سے دور رہیں، ورنہ نقصان کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے‘۔

طالبان کے ترجمان عمر خراسانی نے ایک بیان میں کہا ’ان کی پشتون قوم کے ساتھ کوئی ضد نہیں ہے لیکن جو بھی ہمارے دشمن کا محافظ بننے کی کوشش کرے گا تو پھر ہم ایسوں کو نشانِ عبرت ضرور بنائیں گے‘۔

لیکن سوال یہی ہے کہ سنہ 2013 میں اور اس مرتبہ بھی ایک بڑی پشتون قوم پرست عوامی نیشنل پارٹی ہی پھر نشانے پر کیوں؟ اس سے پشتونوں کے نقصانات کا سلسلہ تھمے گا تو نہیں بلکہ الٹا اس کا نقصان یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پشتون تحفظ موومنٹ کے مخالفین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ’سکیورٹی چوکیاں ختم ہوں گی تو ایسا تو پھر ہو گا‘۔

اسی بارے میں