شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

شفیق مینگل
Image caption کوئٹہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مسکانزئی کے ماتحت بننے والی ٹرائیبونل میں اجتماعی قبروں سے شفیق مینگل کی وابستگی کی تصدیق 20 سے زائد عینی شاہدین نے کی تھی

بلوچستان میں ایک زمانے میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے شفیق مینگل پرعزم ہیں کہ 25 جولائی کے دن عوام انھیں پارلیمان کا رکن منتخب کر لیں گے۔

ماضی میں ریاست کو شدت پسندی کے واقعات سے تعلق کی بنا پر مطلوب شفیق مینگل آنے والے انتخابات میں خضدار سے قومی اسمبلی کی نشست پر آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے بھائی اور والد 1988 سے انتخابات میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

سابق وفاقی وزیر نصیر مینگل کے چھوٹے بیٹے شفیق مینگل پر بلوچستان میں مسلح دفاعی تنظیم کی قیادت اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں کے اغوا میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں جن سے وہ انکار کرتے رہے ہیں۔

2008 اور 2009 میں مبینہ طور پر دفاعِ بلوچستان نامی مسلح تنظیم بنانے کے بعد انھوں نے 2011 میں خضدار تک خود کو محدود کر لیا تھا۔

توتک کی اجتماعی قبر

خضدار کے ایک سماجی رہنما اور وکیل نے اپنی زندگی کو ممکنہ طور پر لاحق خطرات کی وجہ سے شناخت خفیہ رکھنے کی درخواست کے ساتھ بی بی سی کو بتایا کہ فروری 2014 میں تُوتک سے اجتماعی قبریں ملنے کے واقعے کے فورا بعد کوئٹہ ہائی کورٹ کے جج جسٹس نور محمد مسکانزئی کے ماتحت بننے والی ٹرائیبونل میں اجتماعی قبروں سے شفیق مینگل کی وابستگی کی تصدیق 20 سے زائد عینی شاہدین نے کی تھی۔

یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہے۔ اس سلسلے میں شفیق مینگل کا کہنا تھا کہ ’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جب میرے بارے میں ہائی کورٹ کی بنائی ہوئی ٹرائبیونل میں کچھ ثابت نہیں ہوا تو میں صفائی کیوں دوں؟ میرا نام اجتماعی قبروں میں جان بوجھ کر ایک سازش کے تحت شامل کیا گیا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

بلوچستان میں سیاسی کی جگہ تعزیتی اجتماعات

خضدار کی اجتماعی قبروں پر ٹرائبیونل کی رپورٹ تیار

مینگل خاندان کی سیاسی رسہ کشی

خیال رہے کہ تُوتک میں اجتماعی قبریں ملنے پر اس وقت کے بلوچستان کے وزیرِ اعلی اور نیشنل پارٹی کے رہنما عبدالمالک بلوچ نے بھی مختلف اخباروں کو دیے گئے بیانات میں شفیق مینگل سے منسلک مسلح تنظیم دفاعِ بلوچستان کو موردِ الزام ٹھہرایا تھاـ

2008 میں بنائی گئی دفاعِ بلوچستان ایک مسلح جماعت ہے جس کا کام وڈھ، خضدار شہر اور آواران کی آبادی کا دفاع کرنا تھا لیکن کچھ ہی عرصے میں اس تنظیم نے مبینہ طور پر ایک ڈیتھ سکواڈ کی شکل اختیار کر لی تھی جس نے زیادہ تر بلوچ علیحدگی پسندوں اور اسی طرح کے ریاست مخالف جماعتوں کو ٹارگٹ کیا لیکن ساتھ ہی شفیق کی والدہ کے آبائی قبیلے قلندرانی کو بھی نہیں بخشا گیا جس کی وجہ سے مقامی لوگوں میں بھی اس تنظیم کے لیے خوف بیٹھ گیاـ

اس بارے میں شفیق مینگل سے جب بات کی گئی تو انھوں نے اس تنظیم سے لاتعلقی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'جب مسلح دفاع تنظیم بنی تھی تب ہی 2009 میں ہم نے اخباروں میں بیان شائع کروایا تھا کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہےـ اگر ہم اس طرح سے متنازع ہوتے تو کبھی اپنے علاقے سے کھڑے نہ ہوتےـ'

شفیق مینگل اور لشکر جھنگوی

توتک ٹرائبیونل کے سامنے یہ بھی کہا گیا کہ شفیق دراصل بلوچستان میں کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ جھنگوی کے لیے کام کرتے ہیں۔

شفیق مینگل اور لشکر جھنگوی کے درمیان تعلق کا ذکر اس ٹرائبیونل کے بننے کے ایک سال بعد جنوری 2015 میں ایک بار پھر چھڑا جب سندھ کے شہر شکارپور کی امام بارگاہ پر حملے میں 60 افراد کی ہلاکت کے بعد بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی میں حفیظ بروہی کا نام سامنے آیاـ

اس کے بعد پولیس کے ایک تحقیقاتی افسر نے اپنے بیان میں کہا کہ خودکش بمبار کو افغانستان سے وڈھ اور وہاں سے شہداد کوٹ کے راستے شکارپور پہنچایا گیا تھا اور اس عمل میں شفیق مینگل کا نام سامنے آیاـ

اس بارے میں بی بی سی کی طرف سے کیے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے شفیق مینگل نے خود پر لگائے گئے تمام الزامات کو بےبنیاد قرار دے دیاـ

انھوں نے الزام لگایا کہ ’لشکرِ جھنگوی سے میرے تعلق کے بارے میں غلط خبر دینے میں بی این پی مینگل کے ارکان کا ہاتھ ہے کیونکہ ہم ان کی سرداری کو وڈھ میں چیلنج کرتے ہیں۔‘2014 کے بعد روپوش ہونے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ انھیں صوبائی حکومت اور چند اور لوگوں نے کہا، جن کے وہ نام نہیں لینا چاہتے، کہ یا تو وڈھ میں اختر مینگل کی حاکمیت کو مان لو یا پھر ملک چھوڑ کر چلے جاؤـ ‘میں نے کہا کہ میں صرف اللہ کی حاکمیت پر یقین رکھتا ہوں اور میں وہیں رہاـ‘

'بلوچستان کے حالات مزید بگڑیں گے'

بی این پی مینگل کے رہنما اختر مینگل نے شفیق مینگل کی سیاسی میدان میں واپسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عناصر کی حمایت اور سرپرستی سے بلوچستان کے حالات سنورنے کے بجائے مزید بگڑیں گےـ

نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بزنجو نے حال ہی میں شفیق مینگل سے ملاقات کی لیکن پارٹی کے رکن جان بلیدی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد انتخابی اتحاد بنانا نہیں تھا۔

’جس حلقے سے شفیق کھڑا ہوا ہے وہیں سے سردار اسلم بزنجو کے بیٹے شاہ میر بزنجو بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ شفیق سے ملنے کی وجہ سیاسی سے زیادہ قبائلی ہےـ‘

اسی بارے میں