منی لانڈرنگ کیس: سپریم کورٹ کا ایف آئی اے کو آصف زرداری سے الیکشن تک تفتیش نہ کرنے کا حکم

فاروق ایچ نائیک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میرے موکل کو جو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں اس خط کے ذریعے مصروف رکھنا ان کی انتخابی مہم کو متاثر کرنا ہے، یہ دستور پاکستان میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، جو غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کی ضمانت دیتا ہے: فاروق ایچ نائیک

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کے وکیل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو حکم دیا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں ان کے موکل کے خلاف جو بھی کارروائی ہونی ہے اسے انتخابات تک موخر کر دیا جائے۔

یہ بات فاروق ایچ نائیک نے جمعرات کو منی لانڈرنگ کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے بعد عدالت کے باہر میڈیا کے نمائندوں کو بتائی۔

سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔

جعلی اکاؤنٹس سے اربوں روپے کس کس کو منتقل ہوئے؟

آصف زرداری کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر فریال تالپور اور آصف زرداری ملزمان نہیں ہیں تو پھر ای سی ایل میں نام ڈالنے کی میڈیا رپورٹس کیوں نشر ہوئیں؟

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے واضح طور پر کہا کہ ان کے حکم کی غلط تشریح کی گئی اور انھوں نے 14 ملزمان کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تھا جن کا پیراگراف نمبر چار میں ذکر ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے مزید بتایا کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایسا تاثر ملے کہ انتخابات کی شفافیت پر اثر ڈالا جا رہا ہے۔

’اگر ایف آئی اے نے انھیں (آصف زرداری کو) تحقیقات میں بلانا ہے تو الیکشن کے بعد بلائے اس سے پہلے نہ بلائے۔‘

چیف جسٹس نہ کہا کہ سب کو قانون پر عمل کرنے کی عادت ڈالنی پڑے گی، شامل تفتیش نہ ہونے پر کسی سے رعایت نہیں ہو گی، رعایت صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو الیکشن لڑ رہے ہیں۔

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور صوبہ سندھ سے رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے حکم میں منی لانڈرنگ کے مقدمے میں متعدد افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ حکم چند روز قبل آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کے خلاف درج ہونے والے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ہونے والی ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان افراد میں حسین لوائی کے علاوہ نصیر عبداللہ اور آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور مصطفیٰ ذوالقرنین بھی شامل پیں۔

اس سے قبل وزارت داخلہ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام ’سٹاپ لسٹ‘ میں ڈالے تھے۔

آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نجف مرزا کو تبدیل کرنے کی استدعا کی جسے مسترد کر دیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ فی الحال تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔ انھوں نے کہا کہ کرپشن سامنے آنی چاہیے، عدالت جعلی اکاونٹس کی تحقیقات چاہتی ہے۔

انھوں نے استفسار کیا کہ کیا آصف زرداری کو معلوم ہے کہ 'رقم کس نے منتقل کی، آصف زرداری جانتے ہیں تو رقم منتقل کرنے والوں کے نام بتائیں۔‘

انور مجید کے وکیل رضا کاظم عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ان کے موکل عارضہ قلب مبتلا ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہر شخص کا اپنا وقار اور حرمت ہے، کسی کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔ انھوں نے ریمارکس دیے کہ ایسا حکم نہیں دیں گے جس سے کسی کا حق متاثر ہو۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ’آصف علی زرداری اور فریال تالپور کا نام ایف آئی آر میں بطور ملزم نامزد نہیں اس لیے ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور چیف جسٹس صاحب نے آج اس کی مکمل وضاحت کر دی۔‘

فاروق نائیک کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ آصف علی زرداری کے اکاؤنٹ میں ایف آئی آر کے مطابق ڈالے گئے ڈیڑھ کروڑ روپے کس نے ڈالے تھے۔

یاد رہے کہ آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور جعلی اکاؤنٹس کی تحقیقات میں بدھ کو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے روبرو پیش نہیں ہوئے تھے۔ ان کی جانب سے ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے پیروی کی اور تفتیشی افسر سے 31 جولائی تک کا وقت طلب کیا تھا۔

اسی بارے میں