’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Sean Gallup
Image caption نوام شریف جمعہ کو پاکستان پہنچ رہے ہیں

سنہ 1999 کی بات ہے جب میاں نواز شریف ایک طاقتور وزیراعظم تھے۔

مگر جب اپنے بنائے جنرل پرویز مشرف کو فارغ کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ اتنے بھی طاقتور نہیں۔ جنرل مشرف نے مارشل لا نافذ کر دیا اور خود کو چیف ایگزیکیٹو کہلوانے لگے۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی کا اعلان

’ نواز شریف حاضر ہوں‘

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

مشرف طبیعت کے بادشاہ تھے۔ انھوں نے نواز شریف کو جیل میں ڈال دیا۔ پھر کئی سعودی اور امریکی دوستوں نے بیچ بچاؤ کروایا اور نواز شریف کو معافی مل گئی۔ ایک کاغذ پر دستخط ہوئے، دیس نکالا ملا اور میاں صاحب سعودی عرب جا کر اللہ اللہ کرنے لگے۔

’جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے،اب قدم نہیں رکیں گے‘

نواز شریف اور عدالتیں

جب نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو کیا ہو گا؟

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نواز شریف کی سیاسی زندگی کے نشیب و فراز

کہتے ہیں کہ طاقت ایک ایسا نشہ ہے کہ جو ایک مرتبہ لگ جائے تو کبھی نہیں چھوٹتا۔ سعودی عرب کے بادشاہ نے تھوڑی ڈھیل دی تو لندن پہنچ گئے۔ کچھ دن تک لندن میں گھومتے رہے پھر اپنے حمایتیوں سے کہا کہ میں اسلام آباد جا رہا ہوں اور آپ بھی ایئرپورٹ پہنچیں۔

کئی دوسرے صحافیوں کی طرح میں بھی اسی جہاز میں بیٹھ کر اسلام آباد گیا۔ جہاز میں دعا کروائی گئی، میاں صاحب کے نعرے لگے۔ میاں صاحب نے چھوٹی سی تقریر کی اور ایک لڑکے نے تھوڑا جذباتی ہو کر وہ گانا بھی گایا 'سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے'۔

اسلام آباد اترے تو پتہ چلا کہ مشرف کے بازو میں کچھ زیادہ ہی زور ہے۔ اس نے ایسا ڈنڈا چلایا کہ ایئرپورٹ پر نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات ہر طرف فوج ہی فوج اور پولیس ہی پولیس۔

تصویر کے کاپی رائٹ Eric BOUVET
Image caption نوام شریف کے دور میں پرویز مشرف فوجی سربرارہ تھے

میاں صاحب کا ایک بھی حمایتی ایئرپورٹ نہیں پہنچنے دیا گیا۔ میاں صاحب کو جہاز سے اتارا گیا اور کیمرے والوں کو ادھر ادھر کر کے دوسرے جہاز میں ٹھونس کر واپسں سعودی عرب بھیج دیا گیا۔

میاں صاحب کی قسمت اچھی تھی۔ ان کی قسمت پلٹی اور وہ پھر وزیراعظم بن گئے لیکن پرانے زور آوروں کو پسند نہیں آئے۔ ہمارے بہادر جرنیلوں اور منہ زور ججوں نے نکال کر باہر کیا اور اب سزا بھی سنا دی ہے۔

میاں صاحب ایک بار پھر جہاز میں بیٹھ کر لندن سے اسلام آباد پہنچنے والے ہیں اور اپنے حامیوں کو بھی کہہ دیا ہے کہ میں آ رہا ہوں، تم بھی پہنچو۔

مگر میں اب تک یہ سمجھ نہیں سکا ہوں کہ کوئی پاکستان کا وزیراعظم کیوں بننا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TOLGA AKMEN
Image caption نواز شریف کے ساتھ انکی بیٹی مریم بھی پاکستان جا رہی ہیں

ہمارے پہلے وزیراعظم لیاقت علی تھے۔ انھیں گولی مار دی گئی اور پھر گولی مارنے والے کو بھی گولی مار دی گئی۔

پھر بھٹو آئے جن کے بارے میں ’فخرِ ایشیا‘ کے نعرے لگے تھے، انھیں پھانسی دے دی گئی۔

ان کی بیٹی دو مرتبہ وزیراعظم بنیں۔ وہ اس طرح گئیں کہ سڑک سے ان کا خون اتنی جلدی صاف کیا گیا کہ آج تک ان کے قاتلوں کا کچھ پتہ نہیں چلا۔

جس مشرف نے نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی کروائی تھی اس کی عدالتیں منتیں کرتی ہیں، وہ دبئی میں بیٹھ کر ہنستا ہے۔ اب سنا ہے کہ لیکچر دینے لندن گیا ہے۔

جیل تو جانا ہی ہے بس اتنی دعا کرو کہ میاں صاحب اپنے پیروں پر چل کر جائیں ان کی ڈنڈا ڈولی نہ ہو۔

٭ بی بی سی پنجابی پر محمد حنیف کا اسی بارے میں وی لاگ دیکھیں

اسی بارے میں