احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف نواز اور مریم کی جانب سے پیر کو اپیل دائر کی جائے گی

نواز شریف اور مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے درخواست پر دستخط کر دیے ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو گذشتہ روز لندن سے واپسی پر لاہور سے گرفتار کر کے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو پہلے نیب حکام گرفتار کر چکے ہیں۔

نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز احتساب عدالت کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں بالترتیب مجموعی طور پر بالترتیب 11 اور 8 برس کی سزا سنائے جانے کے بعد جمعرات کی شب براستہ ابوظہبی پاکستان واپس روانہ ہوئے تھے۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ نواز شریف نے احتساب عدالت کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے درخواست پر دستخط کر دیے ہیں۔

نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کا لمحہ بہ لمحہ احوال

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

خواجہ حارث نے بتایا کہ اس درخواست پر نہ صرف نواز شریف اور مریم نواز کے دستخط ضروری تھے بلکہ جن حکام کی تحویل میں نواز شریف اور مریم نواز ہیں ان کے دستخط بھی لازمی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نیب کے قانون کے مطابق فیصلہ آنے کے بعد اس کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دس روز کا وقت ہوتا ہے۔ ایون فیلڈ فیصلے کو پیر 16 جولائی کو دس روز پورے ہو رہے ہیں، لہذا امکان یہی ہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پیر ہی کو فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دیں گے۔

اس سےقبل نواز شریف اور مریم نواز کا طیارہ جمعے کی رات تقریباً نو بجے لاہور کے ہوائی اڈے پر اترا جہاں انھیں گرفتار کر کے اسلام آباد بھیج دیا گیا تھا، جہاں دونوں کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا اور وہاں دونوں کا طبی معائنہ مکمل کیا گیا۔

کمشنر اسلام آباد نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا تھا جس میں مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں رکھنے کے لیے اسے تاحکم ثانی سب جیل قرار دے دیا گیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں ہی رکھا جائے گا یا انھیں سنیچر کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جائے گا۔

احتساب عدالت کی جانب سے جاری حکم نامے میں نواز شریف کی گرفتاری کی تصدیق کے ساتھ حکم دیا گیا ہے کہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ محمد وسیم کی موجودگی میں نواز شریف کو اڈیالہ جیل کے سپرٹنڈنٹ کی تحویل میں دیا جائے۔ تاہم حکم نامے میں مریم نواز کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

Image caption نواز شریف اور مریم نواز کو لاہور میں جہاز لینڈ کرتے ہی گرفتار کر کے خصوصی جہاز کے ذریعے راولپنڈی پہنچایا گیا

نواز شریف اور مریم نواز اتحاد ایئر ویز کی پرواز کے ذریعے لاہور پہنچے تو انھیں جہاز سے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ایک خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد روانہ کر دیا تھا۔

نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نون نے ایک جلوس کی شکل میں لاہور ایئر پورٹ پہنچنے کا اعلان کیا تھا تاہم سابق وزیراعلیٰ شبہاز شریف کی قیادت میں یہ ریلی ایئر پورٹ تک نہیں پہنچ سکی اور دھرم پورہ کے مقام پر اختتام پذیر ہو گئی۔

اس سے پہلے لندن سے ابوظہبی پہنچنے پر نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور جو کچھ ان کے بس میں تھا وہ انھوں نے کر دیا۔

انھوں نے یہ بات لندن سے پاکستان واپسی کے سفر کے دوران جمعے کی صبح ابوظہبی پہنچنے پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جب نواز شریف لاہور ایئرپورٹ پر اتریں گے تو کیا ہو گا؟

’کارکنوں کی گرفتاریاں قبل از انتخابات کھلی دھاندلی ہے‘

مریم نواز کی جانب سے ٹویٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سابق وزیراعظم نے طیارے سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 'مجھے معلوم ہے کہ مجھے دس سال کی سزا ہوئی ہے اور مجھے جیل لے جایا جائے گا لیکن پاکستانی قوم کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ میں آپ کے لیے کر رہا ہوں، یہ قربانی آپ کی نسلوں کے لیے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے دے رہا ہوں۔'

انھوں نے قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلے اور ملک کی تقدیر بدلے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ موقعے بار بار نہیں آئیں گے۔'

جمعے کی صبح نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی پرواز ابوظہبی پہنچی تو ان دونوں کو لیگی اراکین ایئرپورٹ سے باہر لے گئے۔

طیارے پر موجود بی بی سی کے نمائندے طاہر عمران کے مطابق جب طیارہ ابوظہبی میں اترا تو اطراف میں سخت سکیورٹی تھی اور وہاں موجود افراد کو تصاویر اور ویڈیو لینے سے منع کیا جا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ @MaryamNSharif
Image caption مریم نواز اپنے بچوں کو الوداع کہتے ہوئے

فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس کی سماعت اب اڈیالہ جیل میں

وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں ہی اسلام آباد کی احتساب عدالت نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی سزا اور وطن واپسی پر بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

’جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے،اب قدم نہیں رکیں گے‘

نواز شریف کے پاس اب کیا راستہ ہے؟

نواز شریف کی وطن واپسی تصاویر میں

منگل کو ہی سپریم کورٹ نے فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور العزیزیہ سٹیل مل کے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے لیے احتساب عدالت کو مزید چھ ہفتوں کی مہلت دے دی تھی۔

لاہور میں مسلم لیگ نون کاجلوس ایئر پورٹ نہیں پہنچ سکا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مسلم لیگ نون کا استقبالی جلوس رات گئے تک ایئر پورٹ پہنچنے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو گا

مسلم لیگ ن نواز شریف اور مریم نواز کے لاہور میں بڑے پیمانے پر استقبال کے لیے پُرعزم نظر آتی تھی تاہم وہ ایئر پورٹ پہنچنے میں ناکام رہی۔

سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی واپسی کا سفر شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا تھا کہ نواز شریف کی آمد سے قبل ان کی جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کی گرفتاریاں قبل از انتخاب دھاندلی اور عام انتخابات کو داغدار کرنے کی کوشش ہے۔

جمعے کو ملک کے دوسرے حصوں سے لاہور پہنچنے کی کوشش میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں کی پولیس کے ساتھ چند ایک مقامات پر جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے جبکہ کارکنوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

مقامی میڈیا پر نشر کیے جانے والے مناظر میں لاہور کے مختلف علاقوں میں مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ جبکہ مقامی میڈیا میں صوبہ پنجاب کے دوسرے شہروں میں پولیس نے کارکنوں کو لاہور جانے سے روکنے کی کوشش کی اور اس دوران پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنماؤں کی قیادت میں ریلی مسلم مسجد لوہاری گیٹ سے ایئرپورٹ کی جانب روانہ ہوئی۔

Image caption لاہور میں مختلف مقامات پر کنٹرینرز پہنچا دیے گئے ہیں

ریلی کی رفتار بہت سست تھی اور راستے میں کئی مقامات پر کنٹینرز کھڑے کر کے راستوں کو بند کیا گیا تھا۔

علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے داخلی راستے پر رینجرز کے اہلکار تعینات تھی جبکہ کینٹ سے ایئرپورٹ کی جانب جانے والے راستوں پر بھی رینجرز موجود تھی۔ ایئرپورٹ کی جانب جانے والے راستوں سے منسلک گلیوں اور سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں