بنوں: اکرم خان درانی انتخابی مہم کے دوران حملے میں محفوظ، 39 افراد زخمی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اکرم درانی 2002 سے 2007 تک صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ رہے تھے

خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں جمعیت علمائے اسلام ف کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے ہیں، البتہ سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

انتخابات کے اعلان کے بعد بنوں میں یہ امیدواروں پر یہ دوسرا حملہ ہے جبکہ دو روز پہلے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم میں حملے سے ہارون بلور سمیت 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ کی رپورٹ کے مطابق ضلع بنوں میں آج صبح سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی شہر سے کوئی 15 کلومیٹر دور علاقہ ہوید میں جلسے سے خطاب کر کے واپس بنوں جا رہے تھے۔ بنوں سے پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ راستے میں موٹر سائیکل میں نصب باوردی مواد سے دھماکہ ہوا۔

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

پشاور: خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین

اس دھماکے میں پولیس کے مطابق متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد علاقے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں سے ڈاکٹر قاضی فیاض الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ تین افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے ہیں۔ زحمیوں میں تین کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔

اکرم خان درانی بنوں کے قومی اسمبلی کے حلقہ سے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ بنوں کا یہ حلقہ اکرم خان درانی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے اور انھوں نے اس علاقے میں اپنے وزارت اعلیٰ کے دور میں متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کیے تھے۔

دو روز پہلے پشاور کے علاقے یکہ توت میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خود کش حملے میں 31 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حالیہ انتخابات کے لیے سیاست دانوں اور امیدواروں پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا اور سینیٹ میں وزارت داخلہ کے حوالے سے قائم کمیٹی کے سامنے انسداد دہشت گردی کے داارے نے یہ بات بتائی تھی کہ حالیہ انتخابات میں امیدواروں پر حملے ہو سکتے ہیں۔

جن سیاست دانوں پر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ان میں عمران خان، اسفندیار ولی، آفتاب شیرپاؤ کے علاوہ اکرم خان درانی کا نام بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں