’نواز اور مریم کو قیدیوں کا لباس پہننا ہو گا‘، جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہوں گی؟

نواز اور مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ @MARYAMNSHARIF

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو لندن سے وطن واپسی پر گرفتار کر کے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

نواز شریف کو دس سال قید بامشقت اور مریم نواز کو سات سال قید بامشقت سنائی گئی ہے۔ ذیل میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ قید بامشقت کیا ہوتی ہے اور جیل میں قیدیوں کو کون سی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ان کی کیٹیگری کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

جیل جانے سے پہلے کیا ہو گا؟

جیل حکام کے مطابق جب نواز شریف اور ان کی بیٹی کو جیل منتقل کیا گیا تو سب سے پہلے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا جس کے بعد دونوں کو قیدیوں والا لباس پہنا کر مختلف بیرکوں میں بھیجا جائے گا۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو جب نیب کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی تو ان سے متعدد بار اڈیالہ جیل جا کر ملنے کا اتفاق ہوا تھا تاہم ان سے جب بھی ملاقات ہوئی تو انھوں نے قیدیوں کے لباس میں دکھائی نہیں دیے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کی ڈنڈا ڈولی

استحکام بذریعہ ڈنڈا

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

اڈیالہ جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں قیدیوں والے کپڑے پہننا ہوں گے۔

ان کے مطابق اڈیالہ جیل میں جیل اہلکاروں کے علاوہ ایسے افراد کی بھی قابل ذکر تعداد موجود ہے جن کا تعلق سکیورٹی اداروں سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان حالات میں نواز اور مریم نواز کو قیدیوں والا لباس پہننا ناگزیر ہو گا۔ جیل اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ اگر نواز اور مریم چاہیں تو وہ قیدیوں کا لباس خود بھی تیار کروا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قید بامشقت کیا ہوتی ہے؟

جیل قوانین کے مطابق جیل حکام اس بات کے پابند ہیں کہ وہ عدالت کی جانب سے کسی بھی سزا یافتہ قیدی جیسے قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہو سے روزانہ کی بنیاد پر کوئی کام کروائیں۔ اس مشقت میں باغبانی، دیگر قیدیوں کو پڑھانا، کچن کی صفائی کے علاوہ قیدیوں کی حجامت کرنے کا کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ اس مشقت میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

ان قیدیوں سے مشقت لینے کی ذمہ داری جیل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکام کے مطابق جیل مینوئل میں یہ تحریر ہے کہ اگر کوئی قیدی ہفتے میں سات دن کام کرتا ہےاور جیل کے حکام اس کے کام سے مطمئن ہیں تو ایک ماہ بعد اس کی سزا میں پانچ دن سے لے کر آٹھ دن تک کی کمی ہو جاتی ہے۔

قیدیوں کی کیٹیگریز کا تعین کیسے ہوتا ہے؟

جیل کے قوانین کے مطابق نواز شریف کو سابق وزیراعظم ہونے کی وجہ سے اے کلاس جبکہ ان کی بیٹی مریم نواز کو بی کیٹیگری دی جائے گی۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی 42 جیلوں میں سے صرف دو جیلیں ایسی ہیں جہاں پر قیدیوں کے لیے اے کلاس کی سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ان دونوں جیلوں میں بہاولپور اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف اور مریم نواز کی وطن واپسی کا لمحہ بہ لمحہ احوال

’جیل جانا پڑے یا پھانسی دے دی جائے،اب قدم نہیں رکیں گے‘

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

نواز شریف اور عدالتیں

جیل میں قیدیوں کو تین کیٹگریز میں رکھا جاتا ہے۔ سی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل، ڈکیتی، چوری، لڑائی جھگڑے اور معمولی نوعیت کے مقدمات میں سزا یافتہ ہوں۔

بی کیٹگری میں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جو قتل اور لڑائی جھگڑے کے مقدمات میں تو ملوث ہوں تاہم اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہوں۔

گریجوئیشن پاس قیدی بھی بی کلاس لینے کا اہل ہوتا ہے۔

جیل حکام کے مطابق اے کلاس کیٹگری اعلیٰ سرکاری افسران کے علاوہ، سابق وفاقی وزرا اور ان قیدیوں کو دی جاتی ہے جو زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہوں۔

اے کیٹیگری کے قیدیوں کو ملنے والی سہولیات

جیل مینوئل کے مطابق جن قیدیوں کو اے کلاس دی جاتی ہے انھیں رہائش کے لیے دو کمروں پر محیط ایک الگ سے بیرک دیا جاتا ہے۔ جس کے ایک کمرے کا سائز نو ضرب 12 فٹ ہوتا ہے۔

قیدی کے لیے بیڈ، ایئرکنڈشن، فریج اور ٹی وی کے علاوہ الگ سے باورچی خانہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اے کلاس کے قیدی کو جیل کا کھانا کھانے کی بجائے اپنی پسند کا کھانا پکانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اے کلاس میں رہنے والے قیدی کو دو مشقتی بھی دیے جاتے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق اگر قیدی چاہے تو دونوں مشقتی ان کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور اگر قیدی چاہے تو مشقتی کام مکمل کر کے اپنے بیرکوں میں واپس بھی جا سکتے ہیں۔

جیل قوانین کے مطابق جن قیدیوں کو بی کلاس دی جاتی ہے ان کو ایک الگ سے کمرہ اور ایک مشقتی دیا جاتا ہے تاہم اگر جیل سپرنٹنڈنٹ چاہیے تو مشقتیوں کی تعداد ایک سے بڑھا کر دو بھی کر سکتا ہے۔

مریم نواز کا جیل میں بی کلاس کا درجہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اپنے والد کے برعکس مریم نواز کو بی کلاس قیدی کا درجہ دیا جائے گا۔

جیل حکام کے مطابق مریم نواز کو خواتین کی بیرک میں رکھا جائے گا اور ایک قیدی خاتون ان کو بطور خدمات گار دی جائے گی۔

حکام کے مطابق جن مشقتیوں کو اے اور بی کلاس کے قیدیوں کے لیے بطور خدمت گزار دیا جاتا ہے وہ معمولی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو احتساب عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

اسی بارے میں