مستونگ: انتخابی ریلی پر خود کش حملے میں سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

سراج رئیسانی کا انتخابی پوسٹر

صوبہ بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ عمر جان بنگلزئی کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں ایک انتخابی جلسے پر ہونے والے خود کش حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128 افراد ہلاک اور 122 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔

ضلع مستونگ میں جمعہ کو ہونے والا خود کش حملہ ہلاکتوں کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے جنوری سنہ 2013 میں علمدار روڈ پر ہونے والے ان دو خود کش حملوں میں 106 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے تھے۔

ادھر امریکہ نے پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں انتخابی امیدواروں پر ہونے والےحالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ حملے پاکستانی عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے دور رکھنے کی بزدلانہ کوشش ہے۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکہ متاثرین کے لواحقین کے سوگ میں ان کے ساتھ ہے اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی امید کرتا ہے۔ بیان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ پاکستان عوام کے ساتھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بنوں: اکرم خان درانی حملے میں محفوظ، متعدد زخمی

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

نگران وزیِر صحت فیض کاکڑ نے بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کو بتایا کہ جمعے کو ہونے والے اس حملے میں حال ہی میں بننے والی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ کو نشانہ بنایا گیا۔

نگران وزیر داخلہ عمر جان بنگلزئی نے بی بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 128 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 122 سے زیادہ ہے۔

سراج رئیسانی کے بھائی اور سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے بھائی کی موت کی تصدیق کی ہے۔

ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر قائم خان لاشاری نے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا۔

جب دھماکہ ہوا تو بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے بم ڈسپوزل سکواڈ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس میں آٹھ سے دس کلوگرام بال بیئرنگ استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی نیوز ایجنسی عماق کے مطابق مستونگ میں ہونے والے اس حملے میں خود کش جیکٹ کے ذریعے دھماکہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Khair Muhammad

سراج رئیسانی کو اسلم رئیسانی کے دور میں بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا۔ سراج رئیسانی کو حکومت سے قریب سمجھا جاتا تھا۔

یہ بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں انتخابی جلسوں پر تیسرا حملہ ہے۔ کل رات خضدار میں بی اے پی کے دفتر کے قریب دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس کے علاوہ کراچی سے متصل حب کے علاقے میں تحریکِ انصاف کی کارنر میٹنگ پر گرینیڈ حملہ ہوا تھا جس میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیموں نے قبول کی تھی۔ ان تنظیموں نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔

اس سے قبل جمعے کو ہی خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں متحدہ مجلسِ عمل کے ٹکٹ پر جمعیت علمائے اسلام ف کے امیدوار اکرم خان درانی کے قافلے پر حملے میں تین افراد ہلاک اور 39 زخمی ہوئے تھے۔تاہم سابق وزیر اعلیٰ اکرم درانی اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔

بلوچستان کی تاریخ میں شدت پسندی کا بڑا واقعہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں جمعہ کو ہونے والا خود کش حملہ ہلاکتوں کے حوالے سے سب سے بڑا حملہ تھا۔

یہ حملہ ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں ہوا جو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے۔

بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ کے مطابق اس خود کش حملے میں کم از کم 128 افراد ہلاک جبکہ 122 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

اس سے قبل سب سے زیادہ ہلاکتیں کوئٹہ شہر میں علمدار روڈ ہونے والے خود کش حملوں میں ہوئی تھیں۔

اس علاقے میں یکے بعد دیگرے دو خود کش حملے کئے گئے تھے جن کا ہدف شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے کے افراد تھے۔

جنوری سنہ 2013 میں علمدار روڈ پر ہونے والے ان دو خود کش حملوں میں 106 افراد ہلاک اور 169 زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ تیسرے نمبر پر زیادہ ہلاکتیں سنہ 2016 میں سول ہسپتال کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے ہوئیں۔

اگست سنہ 2016 میں ایک خود کش حملہ آور نے سول ہسپتال میں اس وقت وکلا کو نشانہ بنایا تھا جب ان کی بڑی تعداد ایک وکیل رہنما کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہوئی تھی۔

اس سے قبل زیادہ ہلاکتیں ستمبر سنہ 2010 میں باچاخان چوک پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں ہوئی تھیں۔

باچا خان چوک پر اس خود کش حملے یوم قدس کی جلوس کو نشانہ بنایا گیا تھا اور اس میں 67 افراد ہلاک اور 190 زخمی ہوئے تھے۔

اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق زیادہ تر ہزارہ برادری سے تھا۔

بلوچستان میں بڑے پیمانے پر خود کش حملوں کا آغاز سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں ہوا تھا۔

ان کے دور حکومت میں پہلا خود کش حملہ سنہ 2013 میں کوئٹہ شہر میں پرنس روڈ پر واقع امام بارگاہ کلاں پر ہوا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں سنہ 2013 سے اب تک 50 سے زیادہ خود کش حملے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں