مستونگ دھماکہ: ’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے، تینوں مارے گئے‘

مستونگ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مستونگ میں کئی ایسے خاندان بھی ہیں جن کے تین سے چار افراد میں گذشتہ روز خودکش حملے میں مارے گئے۔

مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں گذشتہ روز انتخابی جلسے پر ہونے والے خود کش حملے کے نتیجے میں نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس وقت صوبے میں فضا سوگوار ہے۔

مستونگ دھماکے میں ہلاک ہونے والی بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے جس میں پاکستان بری فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں

مستونگ خود کش حملہ: 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

پشاور: خودکش دھماکے میں 20 ہلاکتیں، شہر سوگوار

’شدت پسند حملوں سے کچھ نہیں ہوتا، ایک دن سب نے جانا ہے‘

Image caption حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سانحے پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے

’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے کہ کیا ہورہا ہے‘

جانی نقصان کے اعتبار سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ہونے والے سب سے بڑے خود کش حملے نے کئی گھروں کو اجاڑ دیا لیکن کچھ گھرانے ایسے ہیں جن کے تین سے چار افراد مارے گئے۔

ان میں مستونگ کے علاقے درینگڑھ ہی سے تعلق رکھنے والے عبد الخالق کا گھرانہ بھی شامل ہے جس کے تین بیٹے مارے گئے۔

درینگڑھ میں واقع اپنے گھر میں مغموم چہرے کے ساتھ انہوں نے بتایا ان کے تین بچے یہ دیکھنے گئے تھے کہ کیا ہورہا ہے۔ ’میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد گھر آیا تو دھماکے کی آواز سنی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ دھماکے کی آواز سننے کے بعد جلسہ گاہ کی جانب گئے تو وہاں انھوں نے ہر طرف لاشیں اور تڑپتے ہوئے انسانوں کو دیکھا۔

’میرے دو بچوں کی لاشیں جلسہ گاہ کے اندر پڑی تھیں جبکہ تیسرے کی لاش نہیں ملی۔‘ بعد میں ان کے بھائی نے تیسرے بیٹے کی لاش سول ہسپتال کوئٹہ سے گھر پہنچائی۔

درینگڑھ کے ایک اور رہائشی عبدالقادر کے گھر کے دو افراد اس اندوہناک واقعے میں مارے گئے۔ ’میں دھماکے کے فوراً بعد جلسہ گاہ پہنچا اور وہاں لاشیں ہی لاشیں دیکھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صرف ان کے گاؤں کے دس سے زائد افراد مارے گئے۔

چھوٹی جگہ اور لوگ زیادہ

درینگڑھ میں جس جگہ پر انتخابی جلسہ ہورہا تھا وہ جگہ انتہائی چھوٹی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث وہ قریب قریب بیٹھے تھے جس کی وجہ سے دھماکے کی زد میں بہت زیادہ لوگ آئے۔

جہاں جگہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد دھماکے کی زد میں آگئی وہاں علاقے میں زخمیوں کو مناسب طبی امداد بھی فراہم نہیں کی جاسکی۔

زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے 20 سے 35 کلومیٹر دور مستونگ اور کوئٹہ پہنچایا گیا۔

سول ہسپتال کوئٹہ میں موجود میر محمد نے بتایا کہ مارے جانے والے افراد کی بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی اور ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق پرکانی قبیلے سے تھا۔

سول ہسپتال میں موجود زخمی افراد کے لواحقین نے ہسپتال میں زیر علاج زخمیوں کے علاج معالجے پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ آغا عمر بنگلزئی نے کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ اس انتخابی جلسے کے حوالے سے انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈپٹی کمشنر مستونگ سے بات کی ۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ جلسے سے پہلے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

سانحے میں زخمی ہونے والوں میں سے 70 کے قریب افراد سول ہسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سانحے پر دو روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے قومی پرچم سرنگوں ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

'بلوچستان کے بہادر لوگو'

اس حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی 35 مستونگ سے پارٹی کے امیدوار نوابزادہ میر سراج رئیسانی کو نشانہ بنایا گیا۔

سراج رئیسانی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف جھالاوان نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے اور اسی نشست سے وہ بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر اپنے ہی بھائی نواب اسلم رئیسانی کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے تھے۔

اس واقعے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں یہ نظر آتا ہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی دھماکہ ہوتا ہے۔

جب سٹیج سیکریٹری نوابزادہ سراج رئیسانی کو خطاب کے لیے بلایا تو لوگ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ نوابزادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے 15 سے 20 سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہوتا ہے۔

دھماکے سے قبل براہوی زبان میں وہ صرف اتنا بول سکے کہ 'بلوچستان کے بہادر لوگو'۔

Image caption سراج ریئسانی نے اپنے بڑے بھائیوں کے موقف کے برعکس سیکورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا

سراج رئیسانی سکیورٹی فورسز کے حامی تھے

نوابزادہ سراج رئیسانی کے خاندان کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی سیٹ اپ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد انھوں نے اپنے بڑے بھائیوں کے موقف کے برعکس سیکورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا تھا۔

انھوں نے اس مقصد کے لیے بلوچستان متحدہ محاذ کے نام سے تنظیم کو فعال کیا تھا ۔تاہم چند ہفتے قبل اس تنظیم کو بلوچستان کی سطح پر قائم ہونے والی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کر دیا گیا تھا۔

نوابزادہ سراج رئیسانی کو سنہ 2011 میں بھی مستونگ میں 14 اگست کی مناسبت سے ایک تقریب کے دوران بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ خود تو محفوظ رہے تھے تاہم اس میں ان کے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سنہ 2011 میں ہونے والے بم حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے قبول کی گئی تھی۔

دریں اثنا نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان علاؤالدین مری نے کہا ہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی ایک محب وطن پاکستانی اور سچے بلوچستانی تھے۔

اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا 'دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود انھوں نے کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی، دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے۔‘

اسی بارے میں