نواز شریف، مریم اور صفدر کی اپیلوں کی سماعت منگل کو

نواز

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی قید کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت منگل کو کی جائے گی۔

یہ اپیلیں مجرمان کے وکلا خواجہ حارث اور امجد پرویز نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی تھیں۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس، مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

اس سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی گئی تھی اور پیر کو اس مہلت کا آخری دن تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی نے جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل ڈویژن بینچ تشکیل دیا ہے جو منگل کو نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی اپیلوں کی سماعت کرے گا۔

ان دونوں ججز کا شمار اسلام آباد ہائی کورٹ کے سب سے جونیئرججوں میں ہوتا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی اس وقت اسلام باد میں موجود ہیں اور مختلف مقدمات کی سماعت بھی کر رہے ہیں۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے سارے ہائی کورٹس کی یہ روایت رہی ہے کہ اگر کوئی سینیئر جج موجود ہو تو اسے ڈویژن بینچ کا حصہ بنایا جاتا ہے تاہم اگر وہ سینیئر جج ڈویژن بینچ کا حصہ بننے سے معذوری ظاہر کردے تو پھر جونیئر جج کو بینچ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

میرا بینظیر بھٹو سے موازنہ نہ کیا جائے: مریم نواز

‘اس سے بہتر فیصلہ خود عمران خان بھی نہیں لکھ سکتے’

نواز اور مریم کو جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہوں گی؟

نامہ نگار کے مطابق عدالت میں دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے اور یہ فیصلہ عجلت میں دیا گیا ہے۔

اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتساب عدالت میں سماعت کے دوران استغاثہ کی طرف سے ایسے کوئی بھی شواہد پیش نہیں کیے گئے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ایون فیلڈ کی فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں۔

اس اپیل میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ استغاثہ کی طرف سے کوئی گواہ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا جو اس بات کی تصدیق کرسکے کہ لندن فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں۔

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نے اعتراف کیا تھا کہ دوسرے ملکوں سے کی گئی باہمی قانونی مشاورت کا کوئی جواب نہیں ملا اور جے آئی ٹی نے سربراہ نے مفروضوں پر بات کی جسے عدالت نے تسلیم کرلیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/Captain Safdar

مریم نواز کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں کہا گیا ہے کہ کیلبری فاونٹ کے بارے میں غیر ملکی سرکاری گواہ نے بھی تسلیم کیا کہ یہ کیلبری فاونٹ سنہ 2005 میں بھی دستیاب تھا لیکن احتساب عدالت کے فیصلے میں اس بات کو بھی نظر انداز کردیا گیا۔

اس کے علاوہ اپیل میں کہا گیا ہے کہ آئین کہ آرٹیکل 10 اے میں کسی بھی ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہوتا ہے جس سے انہیں محروم رکھا گیا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر ان کے موکلوں کو سزا سنائی گئی ہے۔

درخواست کے مطابق ’احتساب عدالت نے فیصلے میں یہ بھی لکھا ہے کہ استغاثہ کرپشن کے شواہد فراہم نہیں کر سکتی ۔ تو ایسے حالات میں مفروضوں کے بنیاد پر سزا کیسے سنائی جا سکتی ہے۔ لہٰذا یہ عدالت احتساب عدالت کے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے۔ ‘

یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے میں احتساب عدالت نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو دس برس کے لیے انتخابات لڑنے یا عوامی عہدے سنبھالنے کے لیے بھی نااہل قرار دیا تھا اور اس نااہلی کی مدت کا آغاز اس دن سے ہوگا جس دن یہ اپنی قید کی سزا مکمل کر کے رہا ہوں گے۔

اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف جو دیگر دو یفرنس ہیں ان کی سماعت احتساب عدالت کا کوئی دوسرا جج کرے کیونکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر پہلے ہی ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ دے چکے ہیں اس لیے دیگر دو ریفرنس میں ان کا غیر جانبدارانہ ہونا ممکن نہیں ہے۔

اس کے علاوہ اس اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نگراں حکومت کی طرف سے العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شب انوسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے سے متعلق نگراں حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے اور ان ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت میں ہی کی جائے۔

فیصلے کی معطلی کی دوسری درخواست

اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہی ایک دوسری درخواست میں دائر کی گئی ہے جس میں نواز سریف، مریم نواز اور ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو سنائی گئی سزا کے فیصلے کو معطل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ جب تک ان اپیلوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کیا جائے۔

فیصلہ معطل ہونے کی صورت میں مجرمان ضمانت پر جیل سے باہر آ جائیں گے۔

اسی بارے میں