ووٹ کا حق بے شک نہ دو لیکن انسانی جان کو عزت تو دو!

چند دن بھی نہیں گزرے کہ ہارون بلور، خود کش حملے میں ہلاک ہو گئے۔ ابھی ان کے خون کے چھینٹے بھی نہ سوکھے تھے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی کے انتخابی جلسے پر بھی ایک حملہ ہوا اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، ڈیڑھ سو کے قریب لوگ اور خود نوابزادہ زخموں کی تاب نہ لاکر جان سے چلے گئے۔

چند ہی گھنٹوں پہلے بنوں میں اکرم درانی پہ حملہ ہوا، جس میں وہ بچ گئے لیکن چار لوگ مارے گئے۔ پچھلے 72 گھنٹوں میں بلوچستان ہی میں تین حملے مزید ہو چکے ہیں جن میں انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کا تأثر ملتا ہے۔

اے این پی اور طالبان کی دشمنی کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلے انتخابات میں بھی اے این پی کے کئی رہنماؤں پہ حملے کیے گئے جن میں سے ایک میں ہارون بلور کے والد، بشیر بلور مارے گئے۔

اسی بارے میں

مستونگ دھماکہ: ’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے، تینوں مارے گئے‘

مستونگ خود کش حملہ: 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

طالبان کے اس وقت کے ترجمان احسان اللہ احسان نے تب بھی کہا تھا کہ ان کا ہدف، ہارون بلور تھے۔ ان ہی حالات کے باعث سنہ 2013 کے انتخابات میں اے این پی اور خاص کر ہارون بلور اپنی انتخابی سرگرمیاں جاری نہ رکھ پائے۔

نماز جنازہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

اس بار بھی انسداد دہشتگردی کی قومی اتھارٹی نیکٹا کو حالات کا کافی حد تک اندازہ تھا۔ کئی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں پہ حملے کا خدشہ ہے۔ جن میں عمران خان، اسفند یار ولی، امیر حیدر ہوتی، آفتاب شیر پاؤ، اکرم خان درانی اور طلحہ سعید شامل ہیں۔

نیکٹا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں تک بارہ سے زیادہ الرٹس پہنچائیں، لیکن ہوا یہ کہ امیدواروں سے سکیورٹی بھی واپس لے لی گئی۔ اگر تلخ نوائی گراں نہ گزرے تو، پہلے بھیڑیوں کو شہر کا راستہ دکھایا، پھر بھیڑوں کو ہاتھ باندھ کر ان کے سامنے ڈالا اور خود کہیں تیسری ہی مہم پہ روانہ ہو گئے۔

مستونگ، درین گڑھ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری آئی ایس آئی ایس، نے قبول کر لی ہے۔ یہ اقبالِ جرم اس نے کس کے ذریعے کس کے کان میں کیا؟ ہمیں تو اخباری خبروں سے بس اتنا معلوم ہوا کہ اس دھماکے کی ذمہ داری بھی قبول کر لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مستونگ خود کش حملہ: 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

مستونگ: کیڈٹ کالج میں بچوں پر تشدد کی ویڈیو وائرل

مستونگ دھماکہ: ’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے، تینوں مارے گئے‘

’شریف‘ کون ہوتا ہے!

سراج رئیسانی، پی بی 35 سے اپنے بڑے بھائی سردار اسلم رئیسانی کے خلاف انتخاب لڑ رہے تھے۔ ان کی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ ایک ماہ پہلے ہی بلوچستان عوامی پارٹی میں شامل ہو ئی تھی۔

اس حادثے کے بعد ان کی جو تصاویر سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں ان میں انھیں بارہا پاکستانی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہوتا، تب بھی وہ اور ان کے ساتھ مارے جانے والے تمام لوگوں کاخون مقدس ہے۔

میں درین گڑھ کبھی نہیں گئی لیکن مجھے اندازہ ہے کہ وہ بھی میرے گاؤں کی طرح کا قصبہ ہو گا۔ لوگ اپنے علاقے کے سردار کے جلسے میں شریک ہو نے کے لیے صاف کپڑے پہن کر، کسی چھوٹے بچے کا ہاتھ پکڑ کر، کسی کو کندھے پہ بٹھا کے گھروں سے نکلے ہوں گے تو وہ کسی محاذ پہ نہیں جا رہے تھے۔ یہ لوگ ہمارے پنجاب کے دیہی علاقوں کی طرح ہی دور دور کی ڈھاریوں اور بھینیوں سے آئے ہوں گے۔ ہو سکتا ہے کسی کسی آبادی میں کوئی بھی مرد نہ بچا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی خاندان کا نام و نشان تک مٹ گیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

یہ لوگ، غریب محنت کش، اپنے حصے کی دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں۔ اپنے اپنے ویرانوں میں اپنی اپنی زندگیاں اپنے اپنے ڈھنگ سے جی رہے ہیں۔ ان کو اس سے کیا غرض کہ ان پہ حکومت کرنے والا، نواب ہے، انگریز ہے، کوئی جرنیل ہے یا سیاستدان۔ ان کی زندگیاں صدیوں سے وہیں ہیں جہاں تھیں۔ باپ کے بعد بیٹا اس کی جگہ محنت کا جوا اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے۔

جانے اس علاقے نے اتنے جنازے دفن کیسے کیے ہوں گے؟ اتنی قبریں کس نے کھودی ہوں گی؟ پیچھے بچ جانے والیوں کے سر پہ ہاتھ کس نے رکھا ہو گا؟ کھیتوں میں جو فصلیں تیار ہوں گی ان کو کون کاٹے گا؟ نئی فصل کون بوئے گا؟ مویشیوں کے گلے کون چرائے گا؟

میری ارباب حل وعقد سے صرف ایک استدعا ہے کہ اپنی رٹ قائم کرنے اور دنیا کو دکھانے کے لیے آئندہ جب بھی یہ انتخابات نامی ڈرامہ کیا جائے تو کھل کھلا کے نامزدگیاں کریں۔ جس کو چاہے جو عہدہ عنایت کریں۔ اپنے ٹوپی ڈرامے کے لیے اب مزید نہتے شہریوں کا خون نہ بہائیں۔ اگر عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے تو جلسے جلوسوں کی اجازت بھی مت دیجیے۔ انھیں ووٹ کا حق بے شک نہ دیں جینے کا حق تو دیں۔ انسانی جان کو عزت دو!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں