مستونگ دھماکہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 149

مستونگ
،تصویر کا کیپشن

جمعے کو ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 149 ہو گئی ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں گذشتہ جمعہ ہونے والے خود کش حملے میں 21 مزید افراد کی موت کی تصدیق ہونے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 149 ہو گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ قائم خان لاشاری نے فون پر بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ بعض لوگوں نے ہلاک ہونے والے اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کو ہسپتال پہنچانے کے بجائے جائے وقوعہ ہی سے اپنے گھروں کو لے گئے تھے ۔

انہوں نے بتایا کہ اتوار کو ہلاک اور زخمی ہونے افراد کے ڈیٹا کو مکمل کیا گیا جس کے مطابق سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 149 جبکہ زخمیوں کی تعداد 186 ہے۔

جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اعداد و شمار اکٹھی کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات بچے بھی شامل تھے۔

درینگڑھ میں خود کش حملے سے قبل انتخابی جلسے کی جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان میں بچے بھی جلسہ گاہ میں نظر آتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس خود کش حملے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما اور بلوچستان اسمبلی کی نشست پی بی۔35 مستونگ سے پارٹی کے امیدوار نوابزادہ میر سراج رئیسانی کو ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔

،تصویر کا کیپشن

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے نوابزادہ میر سراج رئیسانی کی نماز جنازہ میں شرکت بھی کی اور انہیں 'پاکستان کا بہادر سپاہی' قرار دیا۔

وہ بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف جھالاواں، نواب اسلم رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے اور اسی نشست سے نواب اسلم رئیسانی کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے تھے۔

اس واقعہ کے حوالے سے جو ویڈیو سامنے آئی اس میں یہ نظر آتا ہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی دھماکہ ہوتا ہے۔

جب سٹیج سیکریٹری نوابزادہ سراج رئیسانی کو خطاب کے لیے بلاتا ہے تو لوگ کھڑے ہوکر ان کا استقبال کرتے ہیں۔نوابزادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے پندرہ سے بیس سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہوتا ہے۔

دھماکے سے قبل براہوی زبان میں وہ صرف اتنا بول سکے کہ 'بلوچستان کے بہادر لوگو'۔

سول ہسپتال کوئٹہ میں زخمی ہونے والے ایک زیر علاج شخص نے بتایا انتخابی جلسے کے لیے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔

نوابزادہ سراج رئیسانی کے خاندان کو بلوچستان کے قبائلی اور سیاسی سیٹ اپ میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد انہوں نے اپنے بڑے بھائیوں کے موقف کے برعکس سیکورٹی فورسز کا بھرپور انداز سے ساتھ دیا تھا۔

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے کوئٹہ میں ان کی نماز جنازہ میں شرکت بھی کی تھی اور انہیں 'پاکستان کا بہادر سپاہی' قرار دیا۔

مستونگ حملے کے حوالے سے چین اور جرمنی کے سفیروں نے بھی واقعے کے شدید مذمت کی ہے۔

Twitter پوسٹ نظرانداز کریں, 1

Twitter پوسٹ کا اختتام, 1

ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے درینگڑھ میں ہونے والا خود کش حملہ بلوچستان میں ہونے والے خود کش حملوں میں سب سے بڑا حملہ تھا اور ملک کی تاریخ میں شدت پسندی کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں سنہ 2013 سے اب تک 50 سے زیادہ خود کش حملے ہو چکے ہیں۔