’نواز شریف کو جیل میں مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

نواز شریف، مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گذشتہ ایون فیلڈ ریفرنس میں قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے نگراں وفاقی اور صوبائی حکومت کو خطوط لکھے ہیں جس میں نواز شریف کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق شکوہ کیا گیا ہے۔

شہباز شریف کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’نواز شریف کو جیل میں پڑھنے کے لیے اخبار فراہم نہیں کی گئی ہے‘۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’نواز شریف کو سونے کے لیے جو گدا فراہم کیا گیا ہے وہ زمین پر بچھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں جو باتھ روم دیا گیا ہے اس کی حالت بھی اچھی نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے

لندن سے بدلے ہوئے پاکستان تک کی روداد

نواز اور مریم کو جیل میں کیا سہولیات دستیاب ہوں گی؟

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

نواز شریف اور عدالتیں

نوازشریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

Image caption خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے کمرے میں ایئرکنڈیشن بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھیں کوئی خدمت گار بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے کمرے میں ایئرکنڈیشن بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انھیں کوئی خدمت گار بھی فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

اس خط میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف ملک کے تین بار وزیر اعظم رہے ہیں اس لیے انھیں ان کے استحقاق کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔

اس خط میں نواز شریف کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے بارے میں بھی کہا گیا ہے اور درخواست کی گئی ہے کہ انھیں علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

دوسری جانب راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ’بی‘ کلاس دی گئی ہے۔

جیل کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ جب نواز شریف اور مریم نواز کو جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تو ’یہی فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو ملک کا تین بار وزیر اعظم ہونے کے ناطے ’اے‘ کلاس دی جائے گی تاہم بعدازاں اڈیالہ جیل کے ذمہ داران نے رات گئے فیصلہ تبدیل کیا اور بیٹی کے ساتھ ساتھ باپ کو بھی بی کلاس دے گئی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جن کمروں میں نواز شریف اور ان کی بیٹی کو رکھا گیا ہے وہ نہ صرف بوسیدہ حالت میں ہیں بلکہ کافی عرصے سے ان کی صفائی بھی نہیں کی گئی تھی: جیل اہلکار

اہلکار کے مطابق ’ان تینوں مجرمان کو الگ الگ بیرکوں میں رکھا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاقات ہو سکتی ہے اور نہ ہی گفتگو‘۔

اہلکار کے مطابق ’جب سے یہ تینوں مجرمان جیل میں آئے ہیں تب سے یہاں خفیہ اداروں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے‘۔

محکمۂ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار کے مطابق کسی بھی مجرم کو ’اے‘ کلاس دینے کا اختیار ہوم سیکریٹری کے پاس ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی مجرم کو اے کلاس دینے کے لیے 15 شرائط رکھی گئی ہیں جس پر کسی بھی مجرم کا پورا اترنا ضروری ہے۔ ان شرائط میں سب سے زیادہ ٹیکس کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

محکمۂ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق جیل میں اے کلاس کے حصول کے لیے مجرم خود یا ان کے ورثا بھی ہوم سیکریٹری کو درخواست دے سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو جب گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا تو اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے دو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاؤس میں منتقل کیا جائے تاہم اس پر نہ تو عمل درآمد کیا گیا اور نہ ہی نوٹیفکیشن کو منسوخ کیا گیا۔

ان مجرمان سے مشقت لینے کے بارے میں جیل کے اہلکار کا کہنا تھا کہ جیل حکام نے ابھی تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں