عاصمہ شیرازی ٹرولنگ: ’یہ سب عورت سے نفرت والی ذہنیت کا حصہ ہے‘

Image caption عاصمہ شیرازی نے نواز شریف کی پاکستان آمد سے پہلے ان کا انٹرویو کیا تھا تاہم 'نامعلوم' وجوہات کی وجہ سے وہ نشر نہیں ہوا

گذشتہ چند دنوں سے پاکستان میں آج نیوز کی اینکر اور معروف صحافی عاصمہ شیرازی کے خلاف آن لائن ٹرولنگ کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر جہاں بڑی تعداد میں صحافیوں اور عام لوگوں نے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا وہیں ان سے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔

عاصمہ شیرازی بھی دیگر صحافیوں کے ہمراہ اُن پروازوں پر موجود تھیں جن پر نواز شریف اور مریم نواز پاکستان پہنچے تھے اور عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ انھوں نے لندن سے روانگی سے قبل نواز شریف کا انٹرویو کیا تھا جو 'نامعلوم' وجوہات کی وجہ سے نشر نہیں ہوا۔

’نواز شریف نے الزام نہیں لگایا لیکن موڈ کافی خطرناک تھا‘

اس بارے میں ہم نے ملک کی تین معروف صحافیوں اور اینکرز سے ان کے آن لائن یا کام کے دوران پیش آنے والے ٹرولنگ یا حراس کیے جانے کے واقعات کے بارے میں پوچھا جو انہیں کی زبانی یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

قطرینہ حسین

تصویر کے کاپی رائٹ Quatrina Hosain
Image caption قطرینہ حسین سینیئر صحافی ہیں جو دی نیوز اخبار کی ایڈیٹر اور مقامی چینلز پر پروگرام پیش کر چکی ہیں

میں خود ذاتی طور پر اس طرح کے حملے کا شکار بن چکی ہوں۔ 2013 میں پاکستان تحریکِ انصاف کی ایک ریلی کے دوران مجھ پر حملہ کیا گیا اور بہت بدتمیزی کی گئی۔ یہ سب بہت تکلیف دہ تھا مگر جب میں نے واپس آکر پبلک میں اس پر آن لائن بات کی تو اس سے زیادہ حملے ہوئے۔

آن لائن حملوں اور ٹرولنگ کی اُتنی ہی تکلیف تھی جتنی اس حملے کی تھی جو ریلی میں ہوا۔ مجھ پر حملے کے بعد عمران خان نے ٹوئٹر پر معذرت کی جس سے مجھے انہی کی پارٹی کے ٹرولز کو چُپ کروانے میں کچھ مدد ملی۔ مگر یہ اتنا تکلیف دہ مرحلہ تھا کہ اس سارے سے نکلنے میں مجھے ایک سال لگا۔ اور میں ایک مضبوط عورت ہوں جس کے پیچھے اس کے خاندان والے ہیں اور اسے بہت معاونت اور مدد حاصل ہے۔ میرے نزدیک ٹرولنگ اتنی ہی بری چیز ہے جتنا ایک جنسی حملہ یا ذات پر کیا جانے والا حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’80 طالبات‘ سے جنسی ہراس: ’خاموش رہو‘

جنسی ہراس: بحریہ کالج کی طالبات کے تحریری بیانات

خواتین صحافیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ معاشرہ اور اس شعبے کے کچھ لوگ خواتین کو پبلک سپیس دینے سے انکاری ہیں۔ وہ آپ کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں۔ کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ایک عورت کو متنفر کرنے کا آسان طریقہ یہی ہے کہ اسے چُھوا جائے تو اس سے وہ پیچھے ہٹتی ہے۔ میڈیا میں ایسا اس لیے زیادہ ہوتا ہے کہ کیونکہ ہم باہر نکلتی ہیں۔

تو یہ جو ذہنیت ہے یہ ہمیں یعنی خواتین رپورٹز کو اس سیاسی رپورٹنگ کے میدان سے خارج کرنا چاہتی ہے۔ شکر ہے میں تھی، مگر میں سوچتی ہوں کہ اگر کوئی نوجوان رپورٹر ہوتی اور ان کے ساتھ ہوتا تو وہ کیا محسوس کرتیں؟ اُن کا ردِ عمل کی ہوتا۔ مجھے اس سارے عرصے کے دوران ان کا بھی خیال آیا۔

ایک عرصے کے لیے اس واقعے نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔ میرا اعتماد چھین لیا۔ میں اب بھی کام کرتی ہوں مگر میرے ذہن میں اس کا بہت اثر رہا۔

میں نے پہلے یہ بات پبلک میں نہیں کہی مگر اب یہ کہوں گی کہ عمران خان نے مجھ سے اس حملے کے بعد فون پر بات کی اور میں نے اُن سے وعدہ لیا کہ وہ اپنے جلسے میں اپنے کارکنوں سے کہیں گے عورتوں کی عزت کریں اور خواتین صحافیوں کو عزت دیں مگر ایسا ہونے سے قبل ایک جلسے کے دوران وہ کرین سے گر گئے اور یوں یہ بات رہ گئی۔

منیزے جہانگیر

تصویر کے کاپی رائٹ Munizae Jahangir
Image caption منیزے جہانگیر آج نیوز پر پروگرام پیش کرتی ہیں

میں آن لائن ٹرولنگ پر تنگ نہیں ہوتی، اس سے مجھے فرق نہیں پڑتا کیونکہ میرے لیے یہ سب غیر اہم ہے۔ میرے لیے یہ عجیب نہیں ہے۔ میرے لیے یہ جیسے میرے خون کا حصہ ہے۔ مگر جب میں این ڈی ٹی وی کے لیے کام کرتی تھی تو میرا نمبر کسی نے لیک کر دیا تو مجھے کالیں آتی تھیں۔ عـجیب و غریب کالیں جو نامعلوم مرد مجھے کرتے تھے اور میں فون آن کر کے چھوڑ دیتی تھی۔

پھر 2007 میں جب بے نظیر وطن واپس آئیں تو مجھے شدید جنسی ہراس کا سامنا ہوا۔ یعنی لوگ اسے ایک تسکین کا ذریعہ سمجھ رہے تھے، ایک خاتون صحافی کو کام کرتے ہوئے۔۔۔ حتیٰ کہ دھماکے کے بعد بھی چند ایسے مرد تھے جو باز نہیں آئے جس پر مجھے ہنسی بھی آتی ہے۔ یہ اتنا مضحکہ خیز تھا۔ اور ایسے موقعوں پر بہت گالم گلوچ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ میں جنسی ہراس حقیقت کیوں ہے؟

’جنسی زیادتی کی ذمہ دار خود عورتیں ہی ہیں‘

مگر میرا سوال یہ ہے کہ عورت کے خلاف اعتراض اور حملے ہمیشہ جنسی کیوں ہوتے ہیں؟ ایسا کیوں نہیں ہوتا، اگر میں نے کوئی کام کیا ہے، کالم لکھا ہے، خبر دی ہے یا کوریج کی ہے اور آپ کو مجھ پر حملہ کرنا ہے تو اس کی نوعیت جنسی ہی کیوں ہو؟

میرے نزدیک یہ سب عورت سے نفرت والی ذہنیت کا حصہ ہے۔ مگر میں اس سب کو اتنا دیکھ چکی ہوں کہ میرے اوپر اس کا زرہ برابر اثر نہیں ہوتا۔ یہ اتنی بار ہوچکا ہے کہ میرے لیے یہ ایک ’نان ایشو‘ ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ اگر ایک نیوز ایونٹ کو صحافی کور نہیں کریں گے تو کیا بینکر کریں گے؟

رابعہ انعم

تصویر کے کاپی رائٹ Rabia Anum
Image caption رابعہ انعم جیو نیوز پر نیؤز پریزینٹر رہی ہیں اور اب پروگرام لیکن پیش کرتی ہیں

میرے صحافتی کریئر میں ایک ایسا واقع نہیں بلکہ ہمیشہ جیو کہ ساتھ جو ہوتا رہا ہے اس میں کوئی خاتون اینکر سامنے نہیں تھی سوائے میرے تو مجھے بہت کچھ سہنا پڑا۔ میں نے دو خبریں کور کیں جو ایک ہی نوعیت کی تھیں جن میں بچی کا ریپ کے بعد قتل ہوا تھا۔ زینب والے معاملے میں ن لیگ والوں کو لگا کہ میری کوریج ان کی حکومت کے خلاف ہے تو انہوں نے ٹرولنگ کی جبکہ تحریکِ انصاف والے بڑے خوش تھے اور اس کے فوری بعد میں قصور سے مردان گئی جہاں ایسی ہی خبر کور کی تو مجھے انہیں تحریکِ انصاف والوں نے تنقید کا نشانہ بنایا جو پہلے خوش تھے۔

ایسے واقعات کے دوران آپ کی ٹائم لائن ہر قسم کے مغلظات سے پُر ہوتی ہیں۔ مگر جب یہ لوگ اپنی طرف سے گالی دے رہے ہوتے ہیں یا خرافات بول رہے ہوتے ہیں تو برا تو لگتا ہے مگر اس سب سے میں کمزور نہیں ہوتی بلکہ زیادہ حوصلہ ملتا ہے اور یہ سب مجھے زیادہ مضبوط کرتا ہے۔ تو یہ جو جملے کہے جاتے ہیں وہ کہنے والے جان لیں کہ آپ جو کچھ بھی کہہ دیں جسے کہہ رہے ہیں وہ مضبوط ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اپنے ساتھ برا کر رہے ہیں جس سے ہماری مدد ہوتی ہے۔

یہ ایک بڑا المیہ ہے کہیں بھی اگر عورت کچھ مختلف کرتی ہے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر چینل کی گاڑی کی چھت پر ایک مرد کو پتھر پڑتا ہے تو اسے کوئی نہیں کہتا کہ تم گھر بیٹھو۔ مگر یہی کام اگر کسی عورت کے ساتھ ہو تو سب سے پہلے یہ آوازیں آتی ہیں کہ تم یہاں کیا کر رہی ہو تمہیں گھر بیٹھنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں