جج محمد بشیر کی نواز شریف کے خلاف دیگر ریفرنسز کی سماعت سے معذرت

نواز شریف اور مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جج محمد بشیر پہلے ہی نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو سزا سنا چکے ہیں

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے درخواست کی ہے کہ انھیں نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف بقیہ ریفرنسز کی سماعت سے الگ کر دیا جائے۔

جج بشیر ہی نے ایون فیلڈ فلیٹس ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف فیصلہ دے کر انھیں سزا سنائی تھی جس کے بعد سے یہ تینوں اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔

احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس، مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ ریٹائرڈ کیپٹن محمد صفدر کو ایک برس قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جج محمد بشیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی ہے کہ انھیں العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ کی سماعت سے الگ کر کے یہ ریفرنس دوسری عدالت میں منتقل کر دیے جائیں۔

اسی بارے میں

نواز شریف کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

نواز شریف، مریم اور صفدر کی اپیلوں کی سماعت منگل کو

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

اس سے قبل سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا کہ چونکہ وہ ایون فیلڈ فلیٹس ریفرنس میں فیصلہ دے چکے ہیں اور باقی دو ریفرنس بھی اسی نوعیت کے ہیں، اس لیے ان کی غیر جانب داری کسی طور ممکن نہیں ہے۔

خواجہ حارث نے درخواست کی تھی کہ انھیں خود ہی اس مقدمے کی سماعت سے ہٹ جانا چاہیے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کا کہنا تھا کہ وہ ازخود اس مقدمے کی سماعت سے دست بردار نہیں ہو سکتے اور اس امر کا فیصلہ کرنے کا اختیار اسلام ہائی کورٹ کو ہے۔

انھوں نے کہا کہ درخواست گزار کے اعتراضات کو اسلام آباد ہائی کورٹ ہی سن سکتی ہے۔

فی الحال چیف جسٹس نے اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں دیا کیوں کہ وہ ان دنوں چھٹیوں پر ہیں۔

واضح رہے کہ نگران حکومت نے ان دونوں ریفرنسز کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں