الیکشن 2018: ’میڈیا چاہتا ہے کہ ہم گٹر نہ بننے کا بھی جواب دیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
الیکشن 2018: ’ان سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، صرف چند سوال کرنا چاہتا تھا‘

پاکستان کے حالیہ اتنخابات میں انتخابی مہم کے دوران ایسے درجنوں واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر ویڈیوز شائع کی جا رہی ہیں جن میں ووٹر اور سیاسی نمائندوں کے درمیان تکرار دیکھی جا سکتی ہے۔

ووٹر کی جانب سے سوالات زیادہ تر ان کے حلقوں کے حالات اور اس بارے میں سیاسی نمائندے کی گذشتہ پانچ برسوں کی کارکردگی کے گرد گھومتے ہیں۔ پاکستان میں یہ روایت قدرے نئی ہے۔

انتخابی امیدواروں کو سوالات یا کارکردگی پر بحث و تکرار کا سامنا شاید اس طرح پہلے کبھی نہیں ہوا ہو گا۔ اگر کسی نے سوال پوچھا بھی، تو کتنے لوگوں نے دیکھا؟ اس طرح مجموعی طور پر امیدوار کی انتخابی مہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔

اس بار کہانی مختلف ہے۔ اب سستا سمارٹ فون اور تیز دم انٹرینٹ موجود ہے۔ انتخابی مہم کے دوران چبھتے سوالات کا سامنا کرنے والے امیدواروں کی ویڈیوز پہلے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لاکھوں افراد تک پہنچتی ہیں اور پھر وہاں سے ٹی وی کی سکرین تک پہنچتے دیر نہیں لگتی۔

اس طرح کسی ایک گلی محلے میں ہونے والا واقعہ نہ صرف اس امیدوار کی مجموعی مہم پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ ملک کے دیگر علاقوں میں اسی طرز کے مزید واقعات کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس طرح کیا پاکستان میں ایک نئی روایت قائم ہو رہی ہے؟

اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا آغاز کرنے کا صلہ صوبہ پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ نوجوان سیف الدین کو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

’یہ سب عورت سے نفرت والی ذہنیت کا حصہ ہے‘

'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

Image caption پاکستان میں عام انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے

’پانچ سال کہاں رہے؟‘

سیف الدین ڈیرہ غازی خان شہر میں ایک نجی سکول میں استاد ہیں۔ سیف الدین کا گاؤں شہر سے تقریباً 70 کلومیٹر دور ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے رونگھان میں واقع ہے اور ان کے خاندان کا تعلق یہاں بسنے والے بلوچ قبیلے سے ہے۔

ان کے قبیلے کے موجودہ سربراہ پاکستان کے سابق صدر فاروق لغاری کے صاحبزادے اور سابق ممبر سینیٹ جمال خان لغاری ہیں۔ ان کا خاندان یہاں ہزاروں ایکڑ اراضی کا مالک ہے اور نسلوں سے ان کے خاندان کے افراد اقتدار کے گلیاروں کا حصہ رہے ہیں۔

تاہم گذشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو جب وہ اپنی گاڑیوں کے کاررواں سمیت رونگھان پہنچے تو ان کا سامنا 12 ہزار مہانہ پر گزارا کرنے والے سیف الدین سے ہوا۔

اس غیر متوقع ملاقات سے انہوں نے بچنے کی کوشش کی تاہم سیف الدین اور وہاں موجود چند افراد نے ان کا راستہ روک لیا۔

سیف الدین نے ان سے پوچھا کہ وہ پانچ برس تک غیر حاضر رہے اور آج ووٹ مانگنے آ گئے ہیں۔ اس پر جمال لغاری نے جواب دیا کہ وہ ووٹ مانگنے نہیں بلکہ کسی کی فوتگی پر ان کے خاندان سے تعزیت کرنے جا رہے ہیں۔

اس پر وہاں موجود افراد میں سے کسی نے انہیں بتایا کہ جس کی تعزیت کرنے جا رہے ہیں اس کو فوت ہوئے پانچ برس ہو چکے ہیں۔

اس تمام مکالمے کو سیف الدین کے ساتھی موبائل فونز پر عکس بند کر رہے تھے جس پر جمال لغاری نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

ان کے ایک ساتھی نے سیف الدین کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ غصے میں نہ آئیں اور یہ باتیں آرام سے بیٹھ کر بھی کی جا سکتی ہیں۔

جواب ملا، ’میں تو غصہ نہیں کر رہا، سردار صاحب غصہ کر رہے ہیں۔ ہم تو یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالیں گے کہ ہمارے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ پانچ سال بعد ہماری سردار صاحب سے ملاقات ہو رہی ہے۔‘ اس پر وہاں موجود افراد نے تالیاں بجائیں۔

ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ اس علاقے میں جہاں ان کا خاندان دہائیوں سے انتخابات جیتتا رہا ہے وہاں آج بھی پینے کا صاف پانی نہیں، بہتر سڑکیں نہیں، بنیادی سہولیات میعار کے مطابق نہیں۔ اس کے جواب میں جمال لغاری نے ان سے پوچھا کہ جو 45 کلومیٹر کی پکی سڑک ہے وہ انہوں نے ہی بنوائی ہے۔

وہاں موجود چند بزرگ افراد نے معاملے کو ختم کرنے کو کہا جس پر سیف الدین نے اصرار کیا کہ وہ ختم نہیں کریں گے کیونکہ ’سوال پوچھنا ہمارا حق ہے۔‘ مزید بحث و تکرار کے بعد جمال لغاری اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے چلے گئے۔

Image caption سیف الدین ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول میں استاد ہیں

سوال پوچھنا تو بنتا ہے

سیف الدین ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی سکول میں استاد ہیں اور اسی کے ہاسٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے خود اپنا نام ’کمانڈو‘ بھی مشہور کر رکھا ہے۔ زیادہ تر لوگ انہیں اسی نام سے جانتے ہیں۔

دبلی پتلی جسامت اور درمیانے قد کے سیف الدین کہتے ہیں انہیں پاک فوج سے لگاؤ ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے بچپن ہی سے خود کو کمانڈو کا لقب دے رکھا ہے۔

انہوں نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور آج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی اے کر رہے ہیں۔ انگریزی زبان بولنے کا شوق انہیں بچپن سے تھا اور وہ کچھ عرصہ اپنے شہر کی کرکٹ ٹیموں کے میچوں کے دوران کمنٹری بھی کرتے رہے ہیں۔

شہر سے چند کلو میٹر باہر مرکزی شاہراہ پر سر سبز کھیتوں کے درمیان واقع سکول کے احاطے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ جس روز انہوں نے جمال لغاری سے سوالات پوچھے ان کے علاقے میں ایک خاتون سانپ کے ڈسنے کے بعد وقت پر ہسپتال نہ پہنچ پانے کے وجہ سے دم توڑ گئی تھی۔

’ہمارے علاقے میں آج بھی کوئی مناسب ہسپتال نہیں ہے۔ جو ہے اس میں ڈاکٹر یا ادویات نہیں ملتیں۔ اس لیے اس خاتون کو ڈیرہ غازی خان شہر لے کر جانا پڑا اور سڑک ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں۔ ان کے پہاڑیوں میں واقع گاؤں میں بنیادی ضروریاتِ زندگی بھی میسر نہیں جس میں بجلی اور صاف پانی بڑے مسائل ہیں۔

’پانی تو ہے ہی نہیں۔ بارش سے جو پانی تالابوں میں جمع ہوتا ہے وہی لوگ استعمال کرتے ہیں۔ ان تالابوں کی حالت ایسی ہے کہ انسان اور جانور اکٹھے انہی سے پانی پیتے ہیں۔‘

دہائیوں سے چلے آنے والے یہی وہ مسائل تھے جنہوں نے ان کو سوالات پوچھنے پر مجبور کیا۔ ’میرا کوئی ذاتی عناد نہیں تھا۔ میں تو محض ان سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ ان مسائل کے حل کے لیے انہوں نے ابھی تک کیا کیا۔‘

فوری ڈیجیٹل احتساب؟

سیف الدین نے وہ ویڈیو ڈیرہ غازی خان شہر آنے کے بعد انٹرنیٹ تک رسائی ملنے پر فیس بُک پر اپ لوڈ کی۔ محض چند گھنٹوں میں ان کی ویڈیو وائرل ہوئی اور پھر وہاں سے ٹی وی چینلز نے اس کو اٹھا لیا۔

ان کی اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد پاکستان کے خصوصاً صوبہ پنجاب اور سندھ سے بیشمار ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں ووٹر انتخابی مہم کے دوران اپنے امیدواروں سے گذشتہ پانچ برس کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

اس فوری ’ڈیجیٹل احتساب‘ کی ویڈیوز بھی اسی طرح وائرل ہوئیں۔ ڈیجیٹل احستاب کی یہ روایت اس قدر مؤثر اس لیے ہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق رواں برس کے آغاز تک پاکستان میں 3 جی اور 4 جی سروسز استعمال کرنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی۔ جبکہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی تعداد ساڑھے پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔

ٹی وی پر خبریں دیکھنے والوں کی تعداد لگ بھگ تین کروڑ کے قریب ہے۔ اس طرح جہاں بھی سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے وہاں سے سوشل میڈیا پر آنے والی کوئی بھی ویڈیو محض چند گھنٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچتی ہے۔

وائرل ہونے پر اسے ٹی وی چینلز بھی اٹھاتے ہیں۔ سیف الدین کے گاؤں میں انٹرنیٹ تو نہیں تاہم سمارٹ فون ضرور موجود ہیں۔ ’لوگوں کو شوق ہے وہ پیسے بچا کر ٹچ سکرین والا موبائل ضرور خریدتے ہیں۔‘

انٹرنیٹ وہ دن میں شہر آنے کے بعد استعمال کرتے ہیں۔ اب کوئی بھی سمارٹ فون رکھنے والا شخص امیدواروں کا ’ڈیجیٹل احتساب‘ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور ایسے افراد سیف الدین کے دور افتادہ گاؤں میں بھی موجود ہیں۔

امیدوار جواب کیوں نہیں دیتے؟

حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران جن امیدواروں کو ڈیجیٹل احتساب کا سامنا کرنا پڑا ان میں زیادہ تر نے سوالات کرنے والوں کو جواب نہیں دیے۔

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد سے سابق ممبر قومی اسمبلی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے قومی اسمبلی رانا افضل خان بھی ایسے سوالات کا سامنا کرنے والوں میں شامل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ طریقہ کار دراصل ’بلیک میلنگ‘ کے زمرے میں آتا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’اب اگر کسی کے ہاں گٹر نہیں بنا اور کوئی اس پر مجھ سے سوال کرتا ہے تو کم از کم یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ میرا کام تو نہیں ہے۔ اس کے لیے ضلعی ادارے موجود ہیں۔ اس پر کچھ تحقیق کرنے کے بعد خبر دینی چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے رکن ہونے کی حیثیت سے ان کا کام ہے کہ وہ اسمبلیوں میں جائیں اور قانون سازی میں حصہ لیں۔

’اب ایک شخص ملک کی معیشت درست کرنے میں لگا ہے اور ہمارا میڈیا چاہتا ہے کہ وہ گٹر نہ بننے کا بھی جواب دے۔‘

رانا افضل خان پنجاب کے صوبائی وزیرِ معیشت بھی رہ چکے ہیں۔

تاہم پھر بھی سیاستدان ان موبائل ویڈیوز میں سوالات کے جواب دیتے نظر کیوں نہیں آتے؟

رانا افضل کا خیال ہے کہ مہم کہ دوران اتنا وقت نہیں ہوتا کہ رُک کر کسی ایک شخص سے بحث میں الجھا جائے، ایک دن میں کئی مقامات پر جلسے اور کارنر میٹنگز کرنا ہوتی ہیں۔ وہ کہتے ہیں وہ ذاتی طور پر سوالات سے نہیں گھبراتے تاہم سوال اُس پائے کے ہونے چاہیں۔

’کاش ہمارے ملک میں وہ وقت بھی آئے جب لوگ گلیوں اور گٹر جیسے مسائل سے باہر نکل کر اپنے نمائندوں سے یہ پوچھیں کہ انہوں نے ملک میں قانون سازی میں کتنا کردار ادا کیا۔‘

اسی بارے میں