کراچی کے عسکری پارک میں جھولا گرنے کے حادثے کا مقدمہ درج

کراچی میں ایک پارک (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جھولے میں ڈیزائن کی غلطی اور غیر معیاری مواد استعمال ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں (فائل فوٹو)

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے پرانی سبزی منڈی میں واقع عسکری پارک میں جھولا گرنے کے واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں درج کر دیا گیا ہےـ

مقدمے میں پارک انتظامیہ کے خلاف قتلِ خطا، لاپرواہی اور غفلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

بی بی سی اردو کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے ایس پی گلشن غلام مرتضیٰ بھٹو نے بتایا کہ 15 جولائی کی رات کو ہونے والے واقعے میں پارک کے اندر ایک جھولے میں بہت سارے لوگوں کے چڑھنے کی وجہ سے جھولے کا دباؤ ایک طرف ہوگیاـ

انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ سے جھولے میں لگی گراریاں کُھل گئیں اور جھولا گر گیاـ اس واقعے میں اب تک ایک بچی کشف سمد ہلاک اور اب تک 24 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس وقت جناح ہسپتال میں ایک زخمی کفایت اب تک زیرِ علاج ہے جبکہ باقی 16 افراد کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہےـ

ایس پی گلشن غلام مرتضیٰ بھٹو کے مطابق ’واقعے کا مقدمہ اس لیے ریاست کی مدعیت میں درج کرنا پڑا کیونکہ کشف کے والد نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ان کی طرف سے مقدمہ درج کر دیا جائےـ‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

کراچی میں دو مسافر ٹرینوں میں تصادم، ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی

کراچی میں پاکستانی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ

لودھراں میں ٹرین اور رکشے کی ٹکر، چھ طلبہ ہلاک

ڈی آئی جی ایسٹ عامر فاروقی نے بتایا کہ دراصل ’جھولے میں ڈیزائن کی غلطی اور غیر معیاری مواد استعمال ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ غیر مصدقہ معلومات بھی آ رہی ہیں کہ یہ جھولا کسی چینی کمپنی سے خریدا گیا تھا لیکن ہم اس وقت اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتےـ‘

لیکن خبروں میں جھولے منگوانے کے ذمہ دار صعنت کار زبیر طفیل بتائے جا رہے ہیں۔

زبیر طفیل نے بتایا کہ ’یہ جھولے چین سے منگوائے گئے تھے اور جن چینی انجینیئرز نے یہ جھولے لگوائے تھے ان کو بھی بلوایا گیا ہےـ‘

عسکری پارک میں حادثے کی خبر نشر ہوتے ہی میونسپل انتظامیہ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ جگہ ان کے الاٹ کی ہوئی ہےـ اس بارے میں پھر اطلاعات سامنے آئیں کہ عسکری پارک نے زمین کی ملکیت 2004 میں کراچی میونسپل کارپوریشن سے لی تھی۔ ساتھ ہی کئی چینلز پر پہلے تو عسکری پارک نشر ہوتا رہا لیکن تھوڑی دیر میں تفریحی پارک کے ٹِکرز سامنے آنا شروع ہو گئےـ

کسی بھی ٹی وی چینل کے ترجمان یا نمائندے نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی انگریزی ویب سائٹ کی مثال دی اور کہا کہ انگریزی میں ہر جگہ اس پارک کا نام لیا گیا ہے۔

کمشنر کراچی صالح فاروقی نے پارک فی الحال 15 دن کے لیے بند کروا دیا ہے اور کہا ہے کے جب تک مزید معلومات سامنے نہیں آتیں تب تک عسکری پارک بند رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں