نواز شریف، مریم اور صفدر کی سزا کے خلاف درخواست پر نیب کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ @MARYAMNSHARIF

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزاوں کو معطل کرنے سے متعلق مجرمان کی درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے ان اپیلوں کی سماعت جولائی کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔ اب نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتحابات میں اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم اور ان کے دو بیٹوں کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت ان اپیلوں کے فیصلے تک معطل کرنے کی استدعا کو مسترد کردیا ہے۔

مزید پڑھیے

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

لندن سے بدلے ہوئے پاکستان تک کی روداد

اپنا سنجو بابا سب ٹھیک کر دینے کا

جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مجرمان کی طرف سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔

سابق وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث نے اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ احستاب عدالت کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں جو فیصلہ دیا گیا ہے ’وہ حقائق کے منافی‘ ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ احستاب عدالت کا زیادہ انحصار مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کے بیان پر ہی تھا لیکن جے آئی ٹی کے سربراہ نے نہ تو تحریری ثبوت فراہم کیے اور نہ ہی عدالت میں دیے بیان میں کہیں بھی یہ کہا ہے کہ ان کے پاس شواہد ہیں کہ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لندن کے فلیٹس نواز شریف کی ملکیت ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ نے عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ انہیں ایسے شواہد نہیں ملے کہ جب فلیٹس خریدے گئے تھے تو نواز شریف کے بچے ان کے زیر کفالت تھے۔

خواجہ حارث نے مزید دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ مجرمان کے خلاف بدعنوانی کے شواہد نہیں ملے اور دوسری طرف اُنھیں سزا بھی سنا دی گئی۔

مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل میں کہا کہ احتساب عدالت نے ان کی موکلہ کو کیلبری فونٹ استعمال کرنے پر سزا سنائی ہے اور عدالت نے اپنے فیصلے میں اس فونٹ کو جعلی قرار دیا جبکہ سرکاری گواہ رابرٹ ریڈلے نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کیلبری فونٹ سنہ 2005 میں بھی دستیاب تھا اور سرکاری گواہ نے خود بھی اس فونٹ کو استعمال کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں مریم نواز کے ٹی وی انٹرویو کا بھی حوالہ دیا ہے۔ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ اس انٹرویو کی سی ڈیز بھی عدالت میں پیش کی گئیں لیکن عدالت نے ان سی ڈیز کو نہیں دیکھا اور فیصلہ بھی سنا دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو غیر مصدقہ شہادت پر ایک سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ احتساب عدالت کی طرف سے دی گئی ان سزاوں کو معطل کردیا جائے۔ عدالت نے اس پر نیب کو نوٹس جاری کردیا ہے اور نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا ہے کہ وہ ان اپیلوں پر قانونی دلائل دیں۔

اسی بارے میں