الیکشن 2018: کیا زیادہ پاکستانی لڑکیاں سکول جا رہی ہیں؟

Schoolgirls in Islamabad تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں انتخابات میں بس چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں اور اکثر جماعتیں پوری تندہی سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔

انھی جماعتوں میں سے ایک بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے، جس نے کہا ہے کہ اس کی کوشش رہی کہ خواتین کو تعلیم اور صحت تک یکساں رسائی ہو۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

اس سال کی ابتدا میں نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کئی برسوں کے بعد دوبارہ پاکستان گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

تعلیمی بجٹ میں اضافہ اساتذہ کی تنخواہوں اور پینشن کی نذر

پاکستان کے سرکاری سکول پانچ برس میں کتنے بدلے؟

الیکشن 2018: 'پرائمری تعلیم میں پنجاب سب سے آگے'

ملالہ کو 2012 میں طالبان نے سر میں گولی مار دی تھی کیوں کہ انھوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز اٹھائی تھی۔

ان کا ادارہ ملالہ فنڈ سکول بنا رہا ہے تاکہ لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو سکے۔

لیکن کیا ان کوششوں کے باوجود پاکستان میں اتنی ہی لڑکیاں سکول جا رہی ہیں جتنے لڑکے؟

مجموعی طور پر لڑکیوں کی نسبت زیادہ لڑکے سکول جا رہے ہیں، لیکن پاکستان کے بعض علاقوں میں بہتری کے آثار بھی نمایاں ہیں۔

دس فیصد کا فرق

2017 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچویں جماعت سے لے کر 12ویں جماعت تک لڑکیوں اور لڑکیوں کی تعداد میں اب بھی دس فیصد کا فرق ہے۔

اس فرق میں 2013 کے انتخابات کے بعد سے کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے سرکاری سکولوں میں بہت سے لڑکے اور لڑکیوں پرائمری کے بعد تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔

تعلیم کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’الف اعلان‘ کی علینہ خان کے مطابق ’اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے علاقوں میں ثانوی درجے کے سکول موجود نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سکولوں میں لڑکیوں کی تعداد اب بھی لڑکوں سے کم ہے

’پاکستان میں تقریباً 80 فیصد سرکاری سکول پرائمری سکول ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ لڑکیوں کے سکولوں سے باہر رہنے کی عمومی وجہ والدین کا رویہ نہیں بلکہ لڑکیوں کے سکولوں کا فقدان ہے۔

اس کمی کو پرائیویٹ سکول کسی حد تک پورا کر دیتے ہیں، مگر اب بھی یہ سیکٹر سرکاری سکولوں کے مقابلے پر چھوٹا ہے۔

تاہم ان پرائیویٹ سکولوں میں صنفی تفریق موجود ہے اور ان میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے کم ہے۔

اس صورتِ حال میں حالیہ دنوں میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

مقامی فرق

تاہم پورے ملک میں ہر جگہ ایک جیسی صورتِ حال نہیں ہے۔

صوبوں کے درمیان اور خود صوبوں کے اندر مختلف مقامات پر مختلف صورتِ حال ہے، اور بعض جگہوں پر لڑکوں کے مقابلے پر زیادہ لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔

مثال کے طور پر پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے پرائمری سکولوں سے لے کر ہائی سکولوں تک لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔

پنجاب ہی کے ایک اور شہر سیالکوٹ میں بھی یہی صورتِ حال ہے۔

پنجاب کے سابق وزیرِ تعلیم رانا مشہود نے اس سال کے شروع میں کہا تھا کہ گذشتہ دو برسوں میں لڑکیوں کی سکول جانے کی شرح میں ’زبردست اضافہ ہوا ہے۔‘

پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 2013 کے بعد سے بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

تاہم سندھ اور بلوچستان میں 2013 اور 2017 کے درمیان لڑکیوں کی انرولمنٹ میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ادارۂ تعلیم و آگاہی کے چیف ایگزیکٹیو بیلا رضا جمیل کہتے ہیں کہ اس کی وجہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے صنفی تفریق کم کرنے کے لیے مخصوص پروگراموں کا فقدان ہے۔

امریکہ کے ووڈرو ولسن انٹرنیشنل سینٹر کی فیلو نادیہ نوی والا کہتی ہیں کہ پاکستان میں لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں تعلیم حاصل کریں۔ تاہم ’پاکستان ایسا ملک نہیں ہے جہاں لڑکوں یا لڑکیوں کے لیے تعلیم کے زبردست مواقع ہوں۔ صرف لڑکیوں پر توجہ مرکوز کرنے سے ہم سے یہ بات نظر انداز ہو جاتی ہے کہ لڑکوں اور لڑکوں کو سکولوں میں ایک جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

اسی بارے میں