’الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں‘

قبائلی خواتین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان میں بعض پولنگ سٹیشن تحصیل کمپاؤنڈ میں قائم کیے گئے ہیں جہاں جانے کے لیے سخت تلاشی لی جاتی ہے

خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن مقامی امیدواروں کے مطابق یہاں خواتین ووٹروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا تو دور کی بات بلکہ مشکلات پیدا کی گئی ہیں جس سے بیشتر امیدواروں کو خدشہ ہے کہ خواتین ووٹروں کے ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی کم ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہو گی۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

قبائلی علاقوں کے صوبے کے ساتھ انضمام کے بعد انتخابی سرگرمیاں زور شور سے جاری ہیں اور تمام امیدوار اپنے ووٹروں سے رابطوں میں مصروف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں!

فاٹا اصلاحات کی کہانی

فاٹا انتخابی مہم 'انضمام' کا پہلو نمایاں کیوں؟

شمالی وزیرستان سے امیدواروں کا کہنا ہے کہ خواتین ووٹروں کے لیے پولنگ سٹیشن دور دور بنائے گئے ہیں اور اکثر سٹیشن ایسے ہیں کہ وہ دیگر قبائل کے دیہات میں ہیں۔

ملک نثار علی خان ان انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کی حمایت کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 میں وزیر اور داوڑ قبائل آباد ہیں اور حالیہ انتخابات کے لیے وزیر قبیلے کی خواتین کے بیشتر پولنگ سٹیشن داوڑ قبیلے کے علاقے اور داوڑ قبیلے کے علاقے کی خواتین کے لیے پولنگ سٹیشن وزیر قبیلے کے علاقے میں قائم کیے گئے ہیں۔

نثار علی خان کے مطابق ان کے حلقے میں تمام امیدوار اور اقوام اس پر متفق ہیں کہ خواتین کے پولنگ سٹیشن اپنے اپنے علاقے میں قائم کیے جائیں بصورت دیگر وہ انتخابات کے بائیکاٹ کا سوچ سکتے ہیں۔

پختون تحفظ موومنٹ کے سرگرم رہنما محسن داوڑ ایڈووکیٹ آزاد حیثیت سے اسی حلقے سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ الیکشن سکیم سے لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر خواتین کے دس فیصد ووٹ ڈالنے کی شرط پر عمل نہ ہو سکا تو اس کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہو گی۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ شمالی وزیرستان میں بعض پولنگ سٹیشن تحصیل کمپاؤنڈ میں قائم کیے گئے ہیں جہاں جانے کے لیے سخت تلاشی لی جاتی ہے اور خواتین کا وہاں جانا مشکل ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حالیہ مردم شماری اور ووٹروں کے اندراج میں قبائلی علاقوں میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

ان انتخابات میں ہر حلقے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح دس فیصد تک ہونا ضروری ہے وگرنہ اس حقلے کے نتائج روک دیے جائیں گے۔

اس بارے میں قبائلی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن رخشندہ ناز نے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابات کے حوالے سے قوانین میں 2017 میں جو ترامیم کی گئی ہیں اس کے تحت خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح کا دس فیصد ہونا ضروری ہے۔

انھوں نے کہا صوابی اور پھر دیر میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کے خلاف مہم میں انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ خواتین ووٹروں کی پولنگ کو یقینی بنایا جائے جس پر 2017 میں قانون سازی کی گئی تھی۔

اس قانون کے تحت اگر الیکشن کے دن پولنگ میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے یا خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا جاتا ہے تو ریٹرننگ افسر کے بیان سے انتخابی نتیجہ روکا جا سکتا ہے۔

حالیہ مردم شماری اور ووٹروں کے اندراج میں قبائلی علاقوں میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور حیران کن طور پر خواتین ووٹروں کی تعداد میں 36 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ 25 جولائی کو ان میں سے کتنی خواتین یہ حق استعمال کر پائیں گی۔

اسی بارے میں