الیکشن 2018: ’سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
راحیلہ درانی سمیت خواتین کی ایک بڑی تعداد بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام نشستوں پر انتخاب لڑرہی ہے

'اگر خواتین عام نشستوں پر مقابلہ کرکے اسمبلیوں میں آئیں گی تو کم از کم ان کو یہ طعنہ سننے کو نہیں ملے گا کہ وہ خیراتی نشستوں پر آئی ہیں۔'

یہ کہنا ہے بلوچستان اسمبلی کی پہلی خاتون سپیکر راحیلہ درانی کا جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 265 کوئٹہ کے علاوہ شہر سے بلوچستان اسمبلی کی ایک اور نشست پر مردوں کے مقابلے پر ہیں۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

راحیلہ درانی سمیت خواتین کی ایک بڑی تعداد بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عام نشستوں پر انتخاب لڑرہی ہے۔

ایسی خواتین کی تعداد 32 سے زائد ہے جن میں سے سات بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 عام نشستوں پر جبکہ باقی بلوچستان اسمبلی کی 51 عام نشستوں پر میدان میں ہیں۔

عام نشستوں پر انتخاب لڑنے والی بعض دیگر معروف خواتین امیدواروں میں سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، گائناکالوجسٹ پروفیسر ڈاکٹر شہناز نصیر بلوچ اور یاسمین لہڑی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

اپنی سیاسی جماعتوں سے نالاں خواتین رہنما

منتخب ہونے والی آٹھ خواتین سینیٹرز کون ہیں؟

سپیکر راحیلہ درانی سنہ 2002 سے بلوچستان اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہوتی چلی آرہی ہیں جبکہ گذشتہ ڈھائی سال بلوچستان اسمبلی کی سپیکر بھی رہی ہیں۔

ثنا درانی
Image caption راحیلہ درانی نے کہا کہ خواتین کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں

وہ اس بات پر خوش ہیں کہ انتخابی قوانین میں ترامیم کے باعث سیاسی جماعتوں کو خواتین کو پانچ فیصد ٹکٹ دینے کا پابند بنایا گیا ہے۔

راحیلہ درانی کا شمار ان خواتین اراکین اسمبلی میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے فنڈز سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے۔

بلوچستان میں طبی سہولیات کی کمی کے باعث پیدائش کے وقت ماں اور بچوں کی شرح اموات دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’مڈل کلاس پڑھے لکھے طبقے کی طرف عوام کی توجہ نہیں جاتی‘

دیر: انتخاب میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب مردوں سے زیادہ

راحیلہ درانی کہتی ہیں کہ رکن اسمبلی بننے کے بعد جب انھوں نے ماؤں اور بچوں کی ہلاکت کے بارے میں سنا تو انھوں نے سول ہسپتال میں جدید لیبر رومز بنانے کے علاوہ بلوچستان کے نو اضلاع میں زچہ و بچہ کے ہسپتال بنوائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہادر خان وومن یونیورسٹی میں ہاسٹلز بھی نہیں تھے۔ انھوں نے اپنے فنڈز سے 500 طالبات کی رہائش کے لیے ہاسٹلز بنائے۔

مہم چلانے میں وہ مردوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔ مختلف اجتماعات سے خطاب کے علاوہ وہ گھروں اور بازاروں میں اپنے پمفلٹ تقسیم کرتی ہیں۔

سڑکوں پر پیدل چل کر مہم چلانا ایک مشکل کام ہے لیکن راحیلہ درانی کہتی ہیں کہ خواتین کو مقابلہ کرنا چاہیے۔

راحیلہ
Image caption راحیلہ درانی کا شمار ان خواتین اراکین اسمبلی میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے فنڈز سے زیادہ ترقیاتی کام کرائے

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض جماعتوں کی جانب سے خواتین کو جن عام نشستوں پر ٹکٹ دی گئی ہے ان میں سے زیادہ پر ان کی کامیابی ممکن نہیں لیکن خواتین کو مقابلہ کرکے اسمبلیوں تک پہنچنا چاہیے۔

وہ کہتی ہیں کہ مخصوص نشستوں پر خواتین کا انتخاب ایک آئینی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے لیکن ان نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'یہ نامناسب الفاظ بھی سننے کو ملتے تھے کہ یہ زکوٰۃ اور خیراتی سیٹیں ہیں۔'

راحیلہ درانی نے کہا کہ خواتین کسی سے بھی پیچھے نہیں ہیں۔ جو خواتین اس وقت عام نشستوں پر انتخاب لڑرہی ہیں ان کو ہار اور جیت کی سوچ سے بالا تر ہوکر بھر پور انداز سے اپنی مہم چلانی چاہیے اور مقابلہ کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر تحفظات

’پہلے خواتین نے ووٹ ڈالا اب ایک قدم آگے جانا چاہتی ہوں‘

بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما اور غیر سرکاری تنظیم 'وومن ٹوڈے' کی چیف ایگزیکٹو ثنا درانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا معاشرہ قبائلی اور قدامت پرست ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بلوچستان میں خواتین کو مخصوص نشستوں کے سوا اسمبلیوں کی عام نشستوں پر انتخاب لڑنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا گیا جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک صرف ایک ایک مرتبہ دو تین خواتین عام نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں۔

Image caption بلوچستان عوامی پارٹی کی رہنما ثنا درانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا معاشرہ قبائلی اور قدامت پرست ہے

انھوں نے کہا کہ خواتین جب ایک گھر کو سنبھال سکتی ہیں تو وہ ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر بھی بن سکتی ہیں۔

انھوں نے سیاسی جماعتوں کو خواتین کو پانچ فیصد نشستیں دینے کا پابند بنانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

انھوں نے کہا: 'مجھے پتہ ہے کہ ابھی بھی سیاسی جماعتوں نے خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ خواتین کو ان عام نشستوں پر ٹکٹ دی گئی جہاں ان کی پوزیشن کمزور تھی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ایک لحاظ سے سیاسی جماعتوں نے کوٹہ پورا کیا ہے لیکن کم از کم روایت بدل گئی ہے۔ جیت اور ہار کا معاملہ بعد کا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خواتین عام نشستوں پر مقابلہ کررہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'مستقبل میں ہمیں اس کا بہت فائدہ نظر آتا ہے۔ ایک دم سے شاید زیادہ پیش رفت نہ ہو کیونکہ سماج کی سوچ کو تبدیل کرنے میں تھوڑا سا وقت لگے گا۔'

انھوں نے کہا کہ 'شاید اس سال اگر خواتین نہیں جیت سکیں تو آئندہ انتخابات میں ان میں سے دو چار تو ضرور عام نشستوں پر کامیاب ہوں گی۔'

Image caption نصراللہ بڑیچ کا کہنا تھا اگر خواتین عام نشستوں پر کامیاب ہوں گی تو مسائل کے حل اور قانون سازی میں ان کا کردار ہوگا جو مجموعی طور پر معاشرے کے استحکام کی جانب مثبت اقدام ہوگا

غیر سرکاری تنظیم 'سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ' کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور 'فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک' (فافن ) کے ایگزیکٹو کونسل کے رکن نصراللہ بڑیچ کا کہنا ہے کہ خواتین ہمارے معاشرے میں بہت پیچھے ہیں۔ ماضی میں ان کو مردوں کو برابر لانے کے لیے اقدامات کیے گئے لیکن انھیں عام نشستوں پر مقابلے کا موقع دینے سے خواتین کے مسائل کے حل، ان کی سیاسی عمل میں شرکت اور فیصلہ سازی کے حوالے سے بہت مثت نتائج آئیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایک خاتون جب معاشرے میں جائے گی وہ مردوں سے ووٹ مانگے گی تو اس کی کردار کے حوالے سے قبولیت بڑھے گی۔ سیاسی عمل میں اس کی شرکت میں اضافہ ہوگا۔

نصراللہ بڑیچ کا کہنا تھا اگر خواتین عام نشستوں پر کامیاب ہوں گی تو مسائل کے حل اور قانون سازی میں ان کا کردار ہوگا جو مجموعی طور پر معاشرے کے استحکام کی جانب مثبت اقدام ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہار جیت سے زیادہ ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ ہے کم از کم سیاسی عمل میں خواتین کی براہ راست شرکت شروع ہوئی ہے جو کہ ایک صحت مند سوسائٹی کی جانب لے جانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اسی بارے میں