آرمی چیف اپنے لوگوں کو روکیں جو مرضی کے بینچ بنواتے ہیں: جسٹس صدیقی

اسلام آباد ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کی صورت حال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عدلیہ، ایگزیکٹیو اور دیگر اداروں میں حساس اداروں کی مداخلت کو روکیں۔

عدالت نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے لوگوں کو روکیں جو حساس اور اہم معاملات میں اپنی مرضی کے بینچ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ حساس اداروں کی طرف سے اس معاملے میں عدلیہ میں ججز سے رابطے کیے جاتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ ججز کی فون کال بھی ٹیپ کی جاتی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ججز کی زندگیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’آرمی چیف کو معلوم ہونا چاہیے ان کے لوگ کیا رہے ہیں۔‘

عدالت نے آرمی چیف کو اس معاملے کا نوٹس لینے کے بارے میں بھی درخواست کی۔

مزید پڑھیں

’آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کے سامنے بند سڑک کو کھولا جائے‘

سوشل میڈیا پر موجود توہین آمیز مواد فوراً بلاک کرنے کا حکم

اسلام آباد ’لاک ڈاؤن‘ پر ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور مریم نواز کی احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو جونئیر ترین ججز پر مشتمل ڈویژن بینچ تشکیل دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان دونوں ججز سے سینیئر جج صاحبان شہر میں موجود ہیں۔

کچھ عرصے سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے اسلام آباد کے شہری رب نواز کی بازیابی کے بارے میں عدالت نے اسلام آباد پولیس کو 18 جولائی تک کی مہلت دے رکھی تھی۔

بدھ کو جب عدالت میں رب نواز کو پولیس نے پیش کیا تو انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھیں کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ خود اپنی مرضی سے گئے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے رب نواز سے کہا کہ کیا وہ یہ بات حلفاً کہہ سکتے ہیں۔ اس پر رب نواز کے ساتھ آئے ہوئے شخص نے عدالت کو بتایا کہ رب نواز جھوٹ بول رہے ہیں اور اُنھیں زبردستی اغوا کیا گیا تھا۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت سے شہریوں، تاجروں اور دیگر افراد کو جبری طور پر لاپتہ کرنا ایک معمول کی کارروائی بن چکی ہے جس کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کمرہ عدالت میں موجود اسلام آباد پولیس کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ وہ خفیہ اداروں کے ماتحت بنے ہوئے ہیں۔

اُنھوں نے پولیس حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’جب وہ مجروں میں جاکر نوٹ نچھاور کریں گے اور ان کی ویڈیوز ان خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے پاس ہوتی ہیں جس کی بنا پر وہ ان کے سامنے کچھ بول نہیں سکتے۔‘

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی تنظیمں لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے واقعات میں خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کا الزام لگاتی ہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کمرہ عدالت میں موجود حساس ادارے کے اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حدور پہچانیں اور خود کو عقلِ کُل مت سمجھو۔ اُنھوں نے کہا کہ خود کو عقلِ کُل سمجھنے والوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایجنسیوں کی طرف سے ریاست کے اندر ریاست کا قیام ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔

Image caption آئی ایس آئی کا ہیڈ کوارٹر شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے سڑک کا دو کلومیٹر کا حصہ عوام کے لیے بند ہے

عدالت نے آرڈر شیٹ کی کاپی آرمی چیف،ڈی جی آئی ایس آئی، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو پہنچانے کا بھی حکم دیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج نے رکن پارلیمان کے حلف میں مبینہ تبدیلی کے خلاف ایک جماعت کی طرف سے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے مقام پر دیے گئے دھرنے کو ختم کروانے میں فوج کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ فوج حکومت کا ایک ماتحت ادارہ ہے اور آرمی چیف کا نام کیسے حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے معاہدے میں ثالثی کے طور پر لکھا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں

فیض آباد دھرنا کیس: ’پاکستان کسی فوجی نے نہیں بنایا‘

آئی ایس آئی ہیڈکوارٹر: ’سڑک کو ہر حال میں کھولنا پڑے گا‘

جسٹس شوکت صدیقی نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے سے گزرنے والی شاہراہ کو عدالتی حکم کے باوجود نہ کو کھولنے پر سیکریٹری دفاع اور ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی طلب کیا تھا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس بھی دائر ہوا ہے جس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل اس ماہ کے آخر میں کرے گی۔

سپریم کورٹ کے سینیئر جج صاحبان جن میں جسٹس عظمت سعید، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الااحسن اور جسٹس منصور علی شاہ کے خلاف بھی عرصہ دراز سے ریفرنس زیر التوا ہیں لیکن اُنھیں ابھی تک سماعت کے لیے مقررنہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں