حمید ہارون سے ’انٹرویو نے تو پاکستان میں طوفان برپا کر دیا‘

ڈان
Image caption ڈان اخبار کے ناشر حمید ہارون بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک کو انٹرویو دیتے ہوئے

پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی اخبار ڈان کے ناشر حمید ہارون نے حال ہی میں بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں میزبان سٹیون ساکور سے پاکستان میں آزادی اظہار رائے پر بڑھتی ہوئی پابندی اور عسکری عناصر کی مبینہ طور پر سیاست اور انتخابات سے قبل دھاندلی کے حوالے سے گفتگو کی جس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔

ہیش ٹیگ 'سپیچ لیس حمید ہارون' یعنی 'حمید ہارون ہکا بکا' پاکستانی ٹوئٹر کے بڑے ٹرینڈز میں سے ایک بن گیا جو کہ دو روز سے جاری ہے۔

16 جولائی کو نشر ہونے والے انٹرویو کے آغاز میں سٹیون ساکور کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حمید ہارون نے کہا کہ 'گذشتہ دو سالوں سے میڈیا پر دباؤ کا سلسلہ جاری ہے لیکن خاص طور پر پچھلے تین مہینوں سے میڈیا پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور آزادانہ تنقید کرنے والے صحافتی اداروں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔'

سٹیون ساکور نے اس پر ان سے مزید وضاحت مانگتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ڈان اخبار صارفین تک نہیں پہنچ رہا اور اگر ایسا ہے تو اس کی تقسیم کون روک رہا ہے۔

پاکستان میں آزادی صحافتکے بارے میں مزید پڑھیے

سینسرشپ: ’حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں‘

کیا صحافیوں پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے؟

گل بخاری لاہور سے ’اغوا‘ کے چند گھنٹے بعد رہا

’سینسرشپ پر بات کرنے پر بھی سینسر کا سامنا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جواب میں حمید ہارون نے کہا کہ 'ملک کے کئی حصوں میں ڈان اخبار پہنچ رہا ہے لیکن ایسے کئی علاقے ہیں، جیسے لاڑکانہ شہر، جہاں اخبار گذشتہ ڈھائی ماہ سے نہیں گیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 'اگر صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم 'کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے بیانات کو دیکھا جائے تواس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی عناصر اخبار کی تقسیم میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔'

سٹیون ساکور نے ایک اور سوال میں حمید ہارون سے پوچھا کہ کیا صحافیوں کو اغوا کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے پیچھے بھی یہی عناصر ہیں؟

اس کے جواب میں ڈان کے ناشر نے جواب دیا کہ 'بھلے سے وہ عوام ہو، یا انسانی حقوق کی تنظیمیں، عام گمان یہی ہے کہ جس طرح کھلم کھلا یہ کارروائیاں ہوتی ہیں اور ان کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوتی اور نہ کوئی قانونی چارہ جوئی ہوتی ہے تو اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔'

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بارے سوال کرتے ہوئے سٹیون ساکور نے پوچھا کہ ایسا کیوں لگتا ہے کہ ڈان اخبار کا جھکاؤ ان کی جانب ہے اور ان سے ہمدردی رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

حمید ہارون نے اس پر کہا کہ ڈان نے ہمیشہ وہ تمام شواہد سامنے رکھے ہیں جو کسی بھی سیاستدان کی بدعنوانی کے حوالے سے وہ اور اس میں کوئی فرق نہیں رکھا۔ لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے کہا کہ بات صرف یہاں تک نہیں ہے۔

'اصل مسئلہ ہے کہ ایک مخصوص طریقے سے چند ایک سیاستدانوں کو ہٹایا جا رہا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ بہتر ہوتا کہ تمام امیدواروں اور جماعتوں کو برابر کا موقع دیا گیا ہوتا۔'

نواز شریف اور ڈان لیکس کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے سٹیون ساکور نے کہا کہ سزا یافتہ اور نااہل قرار دیے جانے والے نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کے بارے میں ڈان کا طرز عمل دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ڈان نے اپنی غیرجانبدارانہ صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

حمید ہارون نے جواب میں کہا کہ اس کے پیچھے کچھ ہاتھ شامل ہیں۔

ساکور کی جانب سے اس الزام کے ثبوت مانگنے پر حمید ہارون نے سوشل میڈیا پر کیے جانے والے پیغامات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے فوج اور خفیہ ادارے شامل ہیں اور وہ صرف ڈان کو نشانہ نہیں بنا رہے بلکہ کسی بھی ایسے ادارے کو جو وہ اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عمران خان اور ان کی سیاسی کامیابی کے حوالے سے سوال پر کہ کیا ان کے پیچھے فوجی حمایت ہے،حمید ہارون نے کہا کہ کئی بار ایسا ہوا ہے کہ عمران خان کی شہرت کا گراف اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے ساتھ اوپر جاتا ہے۔

اس جواب پر میزبان نے مزید وضاحت مانگی تو حمید ہارون نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی حالات کو انسانی حقوق اور تجزیہ نگاروں کے مشاہدات کی روشنی میں دیکھنا چاہیے۔

23 منٹ پر مبنی اس گفتگو کو پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا پر ماسوائے چند ایک چینلوں کے زیادہ جگہ نہیں ملی لیکن جہاں ایک جانب پاکستان تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے حامی صارفین کی جانب سے حمید ہارون اور ان کی گفتگو کی تضحیک کی گئی اور مذاق اڑایا گیا، وہیں دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ مخالفین حلقوں نے اس انٹرویو کو سراہا اور حمید ہارون کے نکتہ نظر کی تائید کی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان خود بحث کا حصہ بنے اور انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے میزبان سٹیون ساکور کی تعریف کی اور کہا کہ ڈان کی جانبداری کا پردہ فاش ہو گیا ہے۔

دوسری جانب جرمنی کے شہر برلن میں مقیم صحافی فرہاد مرزا نے سٹیون ساکور کو آڑے ہاتھ لیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ 'یہ انٹرویو باعث شرمندگی ہونا چاہیے۔'

ترکی کے شہر استنبول میں مقیم پاکستانی صحافی شہریار مرزا نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ 'انٹرویو قطعی طور پر اتنا برا نہیں تھا جتنا پیش کیا جا رہا ہے اور ایسا لگا کہ شاید صرف دو سوالات کا جواب دینے میں وہ کمزور نظر آئے۔'

جیو نیوز سے منسلک صحافی جبران پیش امام نے اپنی ٹویٹ میں حمید ہارون کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے انٹرویو کو اچھے طریقے سے سنبھالا اور کافی نازک سوالات کا مناسب اور سنجیدگی سے جواب دیا اور ایسی باتیں کرنے کی جرات کی جو دیگر کئی صحافی نہیں کہہ سکتے۔

پروگرام کی سوشل میڈیا پر مقبولیت اور اس کے حوالے سے ہونے والی بحث پر میزبان سٹیون ساکور نے بھی ٹویٹ کی اور کہا کہ ’اس انٹرویو نے تو پاکستان میں طوفان برپا کر دیا ہے۔ ‘

اسی بارے میں