سندھ: ’پیر آف رانی پور اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضرورت ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سندھ کی دیگر درگاہوں کی طرح سچل کے گدی نشین کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے

پاکستان کے صوبے سندھ کے ضلعے خیرپور میں ہر درگاہ کے باہر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے یا بینر موجود ہیں جن سے ان کی سیاسی وابستگی کا اندازہ ہوجاتا ہے تاہم درازاں میں واقع صوفی شاعر سچل سرمست کے مزار پر ایسا کوئی بینر یا جھنڈہ نظر نہیں آتا۔

سچل کے مزار پر صبح نو بجے سے شام تک صوفی کلام جاری رہتا ہے۔ ان کے کلام میں عشق و محبت کے علاوہ جستجو، مزاحمت اور فرقہ پرستی کی مذمت کا پیغام بھی موجود ہے۔

پاکستان الیکشن 2018

سیاسی سوچ اور صوفی خیالات کے پس منظر کے باوجود سندھ کی دیگر درگاہوں کی طرح سچل کے گدی نشین کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے۔

سچل سرمست کے سجادہ نشین خواجہ عبدالحق کہتے ہیں کہ ’اگر آپ ایک منصب پر موجود ہوں اور لوگوں کو ڈیلیور نہیں کر پا رہے ہو تو پھر اس کا کیا فائدہ۔ بدقسمتی سے یہاں پر ایسے لوگ موجود ہیں جو معلوم نہیں کب سے سیاست میں ہیں لیکن کچھ ڈلیور نہیں کر پا رہے ہیں۔‘

یہ بھی بڑھیے

پی پی پی کا منشور، کتنا نیا، کتنا مشکل؟

'بلاول یا زرداری بن جائیں یا پھر بھٹو'

بھٹو خاندان کی تیسری نسل کا عملی سیاست میں قدم

سچل سرمست کے مزار سے صرف سات کلومیٹر دور پیر آف رانی پور کی درگاہ واقع ہے۔ اس خاندان کے افراد عرصہ دراز سے سیاست میں ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حمایت کرتے ہیں۔

موجودہ گدی نشین فضل شاہ کے والد پانچ بار رکن قومی اسمبلی رہے ہیں۔ فضل شاہ خود دو بار رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں بھی وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر امیدوار ہیں۔

فضل شاہ کہتے ہیں کہ ’اگر پیر فضل کہیں کھڑا ہے تو اسے پیپلز پارٹی کے ووٹ کی ضرورت ہے اور اگر پیپلز پارٹی کہیں کھڑی ہے تو اسے درگاہ رانی پور کے مرید کے ووٹ کی ضرورت ہے ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔‘

’اگر ہم سیاست میں نہیں رہتے تو مریدوں کا حق ختم ہو جائے گا۔ جب ہمارے مرید پیپلز پارٹی کے پاس کسی کام سے جاتے ہیں تو انھیں کہتے ہیں کہ اپنے مرشد کے پاس جاؤ جس کی وجہ سے ووٹ دیا تھا، اس سے تکلیف ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست میں رہنے کی اگر چپ کر کے بیٹھ جائیں تو پھر انھیں کوئی حق نہیں دلا سکے گا‘۔

خیرپور میں پیروں اور گدی نشینوں کو ٹکٹ دینے پر پیپلز پارٹی کے کارکن بھی ناراض ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مارش لا کے طویل دور کے بعد سنہ 1988 کے عام انتخابات میں مڈل کلاس رہنماؤں کو ٹکٹ دیے جس کے نتیجے میں اس وقت کے پیر پگارا کو شکست ہوئی، جس کے بعد انھوں نے کبھی انتخاب نہیں لڑا۔

عارف بھیلار نے سوشل میڈیا پر پیر فضل شاہ کے خلاف مہم چلائی اور اس کے بعد احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔ عارف بھیلار کا کہنا ہے کہ یہ پیر اور گدی نشین صرف انتخابات کے وقت آتے ہیں باقی خوشی غمی میں ان کا آنا جانا نہیں ہوتا ہے۔

’ہم تین نسلوں سے پیپلز پارٹی کے پاس یرغمال ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت صرف ان کو ہی ٹکٹ دیتی ہے، ورکر گولیاں کھاتا ہے۔ مجھے سنہ 2008 کے انتخابات میں گولیاں لگی تھیں لیکن ہماری زندگی غلامی میں گزر رہی ہے، کم از کم ایسا بندہ لایا جائے جو ہمیں اس غلامی سے نجات دلائے۔‘

رانی پور سے تقریباً 50 کلومیٹر دور پیر پگارا اول کی آخری آرام گاہ واقع ہے۔ یہ حر جماعت کا روحانی کے علاوہ سیاسی مرکز بھی ہے۔ دیگر روحانی جماعتوں کے مقابلے میں یہ جماعت سب سے زیادہ منظم ہے۔ پیر کے فیصلے کے خلاف ووٹ دینا ایک جرم کے مترادف ہے جس کی سزا سماجی بائیکاٹ اور برداری سے بے دخلی ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے معاشرتی علم کے سربراہ ڈاکٹر ریاض احمد شیخ کہتے ہیں کہ پیروں اور درگاہوں کا سیاسی رابطہ کلہوڑہ دور حکومت میں ہوا کیونکہ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اہل بیت ہیں اور ان کا تعلق ایک ایسے اسلام سے ہے جو صوفیانہ اسلام ہے۔

Image caption سندھ کی دیگر درگاہوں کی طرح سچل کے گدی نشین کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوئے

’جب کلہوڑوں کا اقتدار ختم ہوا تو تالپوروں نے پیروں کو مزارو ں تک محدود کردیا اور جب انگریز آئے تو انھوں نے انھیں دوبارہ فروغ دیا کیونکہ انگریز یہ سمجھتے تھے کہ ان کی لڑائی تالپوروں کے ساتھ ہے جو زیادہ لڑاکا قوم ہیں اس وجہ سے ان کا ایک سیاسی کردار بنا۔ بعد میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے سوچا یہ ان کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں اس لیے انھیں مدد دی جاتی رہی۔

صحافی اور تجزیہ نگار ناز سہتو کہتے ہیں کہ بعض گدی نشین اور صوفی ماضی میں اسٹیبلشمنٹ یا اقتداری قوتوں سے دور رہتے یا ان کے خلاف تھے مثلا صوفی شاعر عنایت جنھیں پہلا سوشلسٹ کہا جاتا ہے۔ وہ مغلوں کی شدت پسندی کے خلاف لڑے، شاہ عبدالطیف بھٹائی نے کلہوڑو حکمرانوں سے فاصلہ رکھا، موجودہ پیر پگارا کے دادا نے انگریزوں کے ساتھ مزاحمت کی لیکن قیام پاکستان کے بعد گدی نشین یہ کوشش کرتے رہے کہ وہ طاقت کے قریب رہیں۔

ڈاکٹر ریاض شیخ کا کہنا ہے کہ پیروں اور گدی نشینوں کو غیر جمہوری ادوار میں زیادہ اہمیت دی گئی جس میں جنرل ضیا الحق کا دور حکومت قابل ذکر ہے تحریک بحالی جمہوریت میں صرف چند خاندان جن میں ہالا کا مخدوم خاندان شامل ہے کے علاوہ باقی بڑی حد تک خاموش ہو گئے یا جنرل ضیالاحق کے ساتھ شامل ہو گئے۔

سندھ میں پیر پگارا،ہالا کے مخدوم خاندان، پیر آف رانی پور کے علاوہ ہر ضلعے میں مقامی درگاہوں کے گدی نشینوں کی سیاسی اور انتظامی گرفت موجود ہے۔ ان کے مرید ان کے فیصلے قبول کرنے کے پابند ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار ناز سھتو کا کہنا ہے کہ غوثیہ جاعت سندھ میں غیر سیاسی رہی لیکن شاہ محمود قریشی کے گدی نشین بننے کے بعد وہ غوثیہ جماعت کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی قوت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

برسوں سے اقتدار میں رہنے سے سندھ کے پیروں اور گدی نشینوں کے نہ صرف سیاسی اور سماجی رتبے میں اضافہ ہوا ہے جبکہ وہ معاشی طور پر بھی کئی گنا طاقتور بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں