اڈیالہ جیل کے باہر مسلم لیگ نون کے کارکن،’وکیل صاب ساڈا کی قصور اے؟‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’جب عام قیدی سے ملنے کی اجازت مل سکتی ہے تو لیڈر سے کیوں نہیں؟‘

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر جمعرات کو ایک طرف پسینے میں شرابور پولیس کی ٹولیاں ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے کھڑی تھیں، دوسری جانب زرق برق لباس میں پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئی خواتین تو تیسری جانب وکلا کا ایک ہجوم تھا۔

ایک طرف ہاتھوں میں بینرز اور مسلم لیگ ن کے جھنڈے اٹھائے لیگی کارکن تھے، اور ان سب کے بیچ ویگنوں میں بیٹھے وہ شہری جو ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے اپنی منزل تک نہیں پہنچ پا رہے تھے۔

'وکیل صاب ساڈا کی قصور اے؟ (وکیل صاحب ہمارا کیا قصور ہے؟)'، ویگن میں بیٹھے ایک شخص نے چیختے ہوئے آواز لگائی تو دوسری جانب پولیس کے ساتھ بحث میں مصروف ایک وکیل صاحب نے مڑ کر الٹا اسی شہری پر سوال داغا، 'تو بھائی ہمارا کیا قصور ہے؟ ہمارے لیڈر کا کیا قصور ہے؟'

اس بارے میں مزید پڑھیے

نواز شریف اور مریم نواز کی سزا اور پاکستان واپسی: خصوصی ضمیمہ

’نواز شریف کا ٹرائل جیل کی بجائے اوپن کورٹ میں ہو گا‘

نواز، مریم اور صفدر کی سزا کے خلاف درخواست پر نیب کو نوٹس

نواز شریف کی وطن واپسی تصاویر میں

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر لوگوں کے ہجوم میں سے اکثریت نہیں جانتی تھی کہ کہاں جانا ہے، کیا کہنا ہے اور کِس سے کہنا ہے۔

پولیس کے ساتھ بحث میں مصروف وکلا سے پوچھنے پر پتا چلا کہ انہیں ملاقات کا موقع نہیں دیا جا رہا اور اسی لیے احتجاج کرتے ہوئے سڑک کچھ دیر کے لیے بلاک کی گئی تھی۔

ان وکلا میں سے ایک ایڈووکیٹ جویریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا نام ملاقاتیوں کی فہرست میں موجود ہونے کے باوجود انہیں مریم نواز سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

Image caption مسلم لیگ نون کے کارکن جیل کے باہر جمع تھے

'دن گیارہ بجے سے کبھی جیل کے ایک گیٹ پر بھیجا جاتا ہے کبھی دوسرے گیٹ پر، اپنے لیڈر سے ملاقات کا بنیادی حق ہمیں نہیں دیا جا رہا۔‘

مسلم لیگ ن کی رہنما نزہت صادق مختلف شہروں سے آنے والی خواتین کو خوش آمدید کہنے میں مگن تھیں، انہی خواتین میں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے آئی شازیہ چودھری بھی تھیں، جو اپنے ساتھ ایک چھوٹا سا پنکھا بھی لائی تھیں۔ جب ان سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی شدت کے باعث وہ اپنا 'ری چارج ایبل' پنکھا ساتھ لائی ہیں کیونکہ 'جیل کے باہر نجانے کتنے گھنٹے کھڑا ہونا پڑے۔‘

لیکن ان تمام کارکنوں اور رہنماؤں میں بعض ایسے بھی ہیں جو آج نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کرنے میں کامیاب رہے۔

جیل انتظامیہ کے مطابق سابق وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے طویل فہرست دی گئی تھی تاہم انہوں نے جمعرات کو ان میں سے 25 افراد سے ہی ملاقات کی۔ ان میں ان کے خاندان کے افراد شامل ہیں۔ مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر اور بیٹی نے بھی ان سے ملاقات کی۔ جبکہ پرویز رشید سمیت مسلم لیگ ن کے کئی رہنماؤں نے بھی ملاقات کی۔

پرویز رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک جیل میں ہونے کے باوجود مریم نواز کی ان کی والد سے صرف ایک ملاقات کرائی گئی ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو ان سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے جن کے وہ بطور سابق وزیر اعظم حق دار ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز بدھ کو ملک کے نگران وزیرِ اطلاعات نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کو مکمل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے چھ جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں دس سال قید بامشقت اور 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ان کی صاحبزادی مریم نواز کو اثاثہ جات چھپانے میں نواز شریف کی مدد پر سات سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا۔

سابق وزیراعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز کو 13 جولائی کو لندن سے پاکستان آمد پر گرفتار کرکے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں