الیکشن 2018: ’امیدواروں کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ عوام میں آئیں اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دیں؟‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
الیکشن 2018: جلسے نہیں، اب ٹاؤن ہال مباحثے ہوں گے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی 40 سے زائد نشستوں پر کئی امیدوار میدان میں ہیں اور گذشتہ چند روز سے شہر میں ووٹ مانگنے کی روایتی گہما گہمی عروج پر ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی بلال یٰسین بھی اس کا حصہ ہیں۔ کھلی چھت کی گاڑی پر سوار وہ موہنی روڈ پر واقع اپنے انتخابی دفتر سے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے کاروان کے ساتھ شام ڈھلے حلقے میں نکلتے ہیں۔

پاکستان میں انتخابات پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

ترانوں اور نعروں کے شور میں چہرے پر مسکراہٹ سجائے اندرونِ لاہور کی پیچیدہ گلیوں سے گزرتے دونوں اطراف ہاتھ ہلاتے ہوئے گزرتے وہ چند مقامات پر چند لمحے قیام کرتے ہیں۔

چند گھنٹوں پر محیط اس عمل کا مقصد بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حلقے میں ووٹر کو یہ یاد دہانی کروائی جائے کہ کس جماعت کا امیدوار کون ہے، کیسا دِکھتا ہے اور اس کا انتخابی نشان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

گدی نشینی اور سیاست: ’ہم ایک دوسرے کی ضرورت ہیں‘

’میڈیا چاہتا ہے کہ ہم گٹر نہ بننے کا بھی جواب دیں‘

شفیق مینگل: ’دہشت کی علامت‘ سے انتخابات تک

جوں جوں انتخابات کا دن قریب آئے گا، ریلیاں کم اور جلسے زیادہ ہوں گے۔ وہاں امیدوار کو تقریر کے ذریعے اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔ ایک حکمتِ عملی جو کم امیدوار اختیار کرتے ہیں وہ گھر گھر مہم کی ہے۔

ملک بھر میں انتخابی مہم کا کم و بیش یہی انداز ہے۔ ڈاکٹر عمار علی جان اور ان کے چند ہم خیال نوجوان اس تمام عمل کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کی دلیل سادہ ہے کہ اس عمل میں ووٹر محض تماشائی بنا رہتا ہے۔

ان کے خیال میں قدرتی طور پر یوں امیدوار کو گذشتہ پانچ برس کی طرح اگلے پانچ سال بھی حلقے سے غیر حاضر رہنے کا راستہ مل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی بجائے پاکستان جیسی جمہوریت میں ’ٹاؤن ہال‘ جیسے تصور کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

ٹاؤن ہال

ٹاؤن ہال کیا ہے؟

ضروری نہیں کہ ایک ہال ہی ہو۔ ٹاؤن ہال کسی علاقے یا حلقے میں کوئی بھی ایسی جگہ یا مرکز ہو سکتا ہے جہاں لوگ اکٹھے ہو سکیں اور اپنے مسائل پر بات چیت کریں۔

انتخابات کے امیدواران ان بحث مباحثوں کا حصہ ہوتے ہیں۔ ٹاؤن ہال ہی سے انھیں اپنے حلقے کے لوگوں اور ان کے مسائل کے بارے میں آگہی ملتی ہے۔

انھیں لوگوں کے سوالات کے جواب دینا ہوتے ہیں۔ ان کی تقاریر ان کے خیالات و نظریات اور مثبت انداز میں بحث کو لے کر چلنے کی صلاحیت کو سامنے لاتی ہیں۔ اس تمام عمل کی رو سے ان کے پاس حلقے سے غیر حاضر رہنے کی گنجائش نہیں بچتی۔

نوجوانوں نے اس طرز کے تین ٹاؤن ہال حالیہ انتخابات کی مہم کے دوران لاہور کے نسبتاً درمیانے درجے یا پسماندہ علاقوں میں اپنی مدد آپ کے تحت منعقد کروائے۔ اس سلسلے کا آخری چونگی امر سدھو کے علاقے میں ایک کارخانے کے احاطے میں ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عمار علی جان نے بتایا کہ ’اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ اکٹھے ہو کر علاقے کے مسائل پر بات کر سکیں اور سوال اٹھائیں۔ پھر وہ سوال حلقے کے امیدواروں کے سامنے رکھے جائیں۔‘

ڈاکٹر عمار علی جان حقوقِ خلق موومنٹ نامی تنظیم کے بانی ارکان میں سے ہیں اور ایف سی کالج لاہور میں معلم ہیں۔ ان کے ساتھیوں میں مقامی علاقوں کے چند نوجوان اور مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا اور طالبات شامل ہیں۔

امر سدھو میں جگہ کے انتخاب کے بعد لڑکے لڑکیوں نے وہاں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے کرسیاں لگائیں، لاؤڈ سپیکر لایا گیا، اندر اور باہر بینر لٹکائے گئے۔

خواتین کو مدعو کرنے کے لیے لڑکیوں کا ایک ٹولا گھر گھر گیا جبکہ لڑکے گلیوں میں پمفلٹ تقسیم کرتے اور لوگوں کو سمجھاتے ہوئے نظر آئے۔ حلقے کے امیدواروں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ پھر شام کا انتظار ہوا۔

ٹاؤن ہال

اس میں مختلف کیا ہے؟

چونگی امر سدھو کے علاقے میں زیادہ تر محنت کش طبقہ آباد ہے۔ لوگ سورج غروب ہونے کے بعد کام سے لوٹتے ہیں۔ مقررہ وقت پر پہلے خواتین پہنچیں۔ ان میں زیادہ تر گھریلو خواتین شامل تھیں۔

حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ نوجوان میزبانوں نے ان کا استقبال کیا۔ چند بزرگ اپنا حقہ بھی ساتھ لائے تھے، اس کی گُڑ گُڑ میں پھر تقاریر کا آغاز ہوا۔

مگر تقاریر ہی تو سیاسی جلسوں میں بھی ہوتی ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ دونوں میں فرق کیا ہے؟

ڈاکٹر عمار کا کہنا تھا کہ ٹاؤن ہال اس لیے منفرد ہے کہ وہ ایک عام آدمی کو امیدوار سے سوال پوچھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

’جمہوریت کا مطلب یہی ہے کہ عوام سوال اٹھائیں۔ وہ حکمرانوں سے پوچھ سکیں کہ آپ کا منشور کیا ہے، منصوبے کیا ہیں اور کیوں نہیں آپ پچھلے منشور پر پورا اترے۔

’اگر آپ انھیں یہ بھی موقع نہیں دیں گے تو پھر جمہوریت بہت کھوکھلی ہو جائے گی۔‘

ٹاؤن ہال

سوال گھر پر بھی تو پوچھا جا سکتا ہے؟

دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ گھر گھر مہم کے دوران بھی لوگوں کو ان سے سوال کرنے کا موقع تو ملتا ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ن لیگ کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار بلال یٰسین حال ہی میں ایک لمبی ریلی کے بعد نہروُ پارک کے سامنے رکے تو بی بی سی سے بات کرتے انھوں نے بتایا کہ وہ جہاں بھی گئے ’لوگوں نے بے حد پیار دیا۔ لوگ جانتے ہیں ہم نے کتنا کام کیا ہے۔‘

’شکوے شکایات بھی ہوتی ہیں مگر میں ایسے شرارتی عناصر کو نہ تو پکڑائی دیتا ہوں اور نہ جواب دیتا ہو جو سیاسی مخالفین کے اکسانے پر محض سیاسی مقاصد کے لیے سوال کرتے ہیں۔‘ ان کا اشارہ فون پر ویڈیو بنانے والوں کی طرف تھا۔

’ہم جواب دہ ہیں اپنے رب کے سامنے۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ گھر گھر مہم پر لوگ سوال ضرور پوچھتے ہیں۔

تاہم اس کا جواب دیا جاتا ہے یا نہیں؟ دیا جاتا ہے تو کیا؟ ڈاکٹر عمار انفرادی طور پر سوال کے اس طریقہ کار کو نہیں مانتے۔

’ہم چاہتے ہیں کہ ایک منظم انداز سے سوال پوچھے جائیں۔ عوامی طور پر بحث ہونی چاہیے۔ امریکہ کا صدر اگر بحث میں اپنے مخالف کے سامنے آ سکتا ہے تو ہمارے امیدواروں کو کیا مسئلہ ہے کہ وہ عوام میں آئیں اور لوگوں کے سوالوں کا جواب دیں؟‘

یہی وجہ ہے کہ ٹاؤن ہال چھوٹا مگر مرکوز ہوتا ہے۔ ایک حلقے میں اس طرز پر کئی ٹاؤن ہال ہوتے ہیں یعنی انتخابی مہم انھی میں چلتی ہے۔ مختلف معاملات پر کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں جو انتخابات کے بعد بھی مسائل کے حل تک نمائندوں کا تعاقب کرتی ہیں۔

بلال یاسین
Image caption بلال یٰسین

امیدوار تو نہیں آئے

حقوقِ خلق موومنٹ کے ٹاؤن ہال میں بھی 60 سے 70 افراد شامل ہوئے۔ تاہم کارروائی وقت پر شروع ہوئی اور امیدواروں کے انتظار میں اسے روکا نہیں گیا۔ ایک تاثر سا پایا جاتا تھا کہ وہ نہیں آئیں گے اور وہ نہیں آئے۔

ڈاکٹر عمار کا کہنا تھا کہ انھوں نے حلقے کے امیدواروں کو دعوت دے رکھی تھی۔ ’کچھ آئے، کچھ آ رہے ہیں اور کچھ جو عوام سے ڈرتے ہیں وہ نہیں آئے۔‘ عوامی ورکر پارٹی کے علاوہ کسی جماعت کا نمائندہ نظر نہیں آیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے قومی اسمبلی کے امیدوار کے بارے میں شنوائی ملی کہ آ رہے ہیں مگر پہنچ نہیں پائے۔ ڈاکٹر عمار کا کہنا تھا کہ حالیہ تمام ٹاؤن ہالز میں امیدواروں کا نہ آنا ہی بڑا مسئلہ رہا۔

’پتہ نہیں کیوں نمائندے عوام سے ڈرتے ہیں۔ عوام ان کے لیے بھنگڑے ڈالیں تو ٹھیک، مگر وہی عوام اگر سوال پوچھ لیں تو نمائندوں کی توہین ہو جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ عوام کے سوال پوچھنے کی روایت کو ادارتی صورت دینا ضروری ہے۔ اور یہ ’ٹاؤن ہال‘ کے تصور ہی سے ممکن ہے۔

’اس طرح نمائندوں کو آنا پڑے گا۔ وہ مجبور ہوں گے۔‘ اگر اس روز امیدوار وہاں آتے تو انھیں اس علاقے میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی جبکہ کھلے گندے نالوں کے خطرات پر لوگوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا۔

با با

خصوصاً خواتین جاننا چاہتی تھیں کہ ان کے علاقے میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کب ممکن ہو پائے گی۔ ’لوگ گندہ پانی پینے سے ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کا شکار ہو رہے تھے۔‘

شہناز بی بی نے ٹاؤن ہال کو ایک واقعہ بھی سنا ڈالا۔ چند روز قبل غسل خانے سے ان کے پوتے نے آواز دی کہ ان کے پانی میں مچھلی آئی ہے۔ جا کر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہ دراصل کیڑے تھے۔

پس منظر میں ایک ساتھی کی جانب سے گِٹار کی دھن پر گائی جانے والی نظم ’امیدِ سحر کی بات سنو۔۔۔‘ پر ڈاکٹر عمار اور ان کے ساتھیوں نے اس امید کے ساتھ ٹاؤن ہال کا اختتام کیا کہ ’پانچ برس بعد کے انتخابات تک وہ یہاں ٹاؤن ہال کی روایت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

لائن
الیکشن لوگو

.

اسی بارے میں