سات ماہ کی گمشدگی کے بعد سماجی کارکن رضا خان گھر لوٹ آئے

رضا خان
Image caption لاہور سے لاپتے ہونے والے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ رضا خان کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں لاہور سے لاپتہ ہونے والے سماجی کارکن رضا خان سات ماہ بعد گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

ان کے ایک دوست نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ چند روز قبل رضا خان بخیریت گھر واپس آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رضا کے گھر والے سکیورٹی خدشات کی بنا پر اس وقت میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان کے انکوائری کمیشن برائے جبری گمشدگی کے ترجمان نے بھی بی بی سی کو بتایا تھا کہ رضا کی گھر واپسی ہو چکی ہے جس کی تصدیق انھیں رضا خان کے گھر والوں سے بھی مل چکی ہے اور ساتھ ساتھ ان کے پاس حکومتی اداروں سے بھی رضا کی واپسی کی رپورٹ آ چکی ہے۔

رضا خان کے بارے میں مزید پڑھیے

رضا خان: لاپتہ کارکن کے بارے میں خدشات میں اضافہ

لاپتہ کارکن کی رہائی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ

جب بی بی سی نے لاہور میں ماڈل ٹاؤن کے ایس پی انویسٹی گیشن عمران سیٹھی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں بھی ذرائع ابلاغ ہی سے رضا کی واپسی کے بارے میں معلوم ہوا ہے اور تاحال رضا یا ان کے اہل خانہ نے پولیس سے رابطہ نہیں کیا ہے اس لیے وہ مزید کوئی معلومات نہیں دے سکتے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کام کرنے والے 40 سالہ کارکن دو دسمبر 2017 کو تحریک لبیک کی جانب سے نومبر 2017 میں اسلام آباد میں دیے گئے متنازع دھرنے کے موضوع پر ہونے والی ایک بحث میں شرکت کے بعد سے لاپتہ تھے۔

اس کے بعد رضا خان کے بھائی نے پولیس کو یہ کہہ کر ایف آئی آر درج کروائی تھی کہ انہیں لگتا ہے کہ رضا خان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں نے تنظیم 'آغاز دوستی' کے رضا محمود خان کی پراسرار گمشدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی گمشدگی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں