ٹرانسجینڈر امیدوار بھی انتخابی میدان میں سرگرم

Transgender election candidates Nayyab Ali (L) and Nadeem Kashish speak at a news conference in Islamabad, 5 July 2018 تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نایاب علی (بائیں) پر تیزاب پھینکا گیا تھا لیکن اب وہ انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

13 برس کی عمر میں گھر چھوڑنے پر مجبور ہونے، رشتے داروں کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی طور پر استحصال کا شکار ہونے اور اس کے بعد اپنے سابقہ بوائے فرینڈ کے ہاتھوں تیزاب کے حمے کا شکار ہونے والی نایاب علی کی زندگی پاکستان میں کافی مشکلات کا شکار رہی۔

لیکن یونیورسٹی سے سند یافتہ یہ ٹرانسجینڈر پاکستان کے عام انتخابات مںی حصے لینے والے ٹرانسجینڈرز میں سے ایک ہیں۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’مجھے احساس ہوا کہ اس ملک میں سیاسی طاقت حاصل کیے بغیر یا کسی ادارے کا حصہ بنے بغیر آپ اپنے حقوق حاصل ہیں کر سکتے۔‘

پاکستان میں ماضی کے مقابلے میں کافی زیادہ ٹرانسجینڈر انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انھیں ان کے حقوق ملے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’جو ہم سے بات نہیں کرتے تھے اب ہم ان کی نگرانی کریں گے‘

خواجہ سرا بھی گنتی ميں آگئے

امتیازی سلوک

پاکستان کے اکثریتی قدامت پرست معاشرے کی جانب سے جھٹلائے گئے اور تضحیک کا نشانہ بننے والی ٹرانسجینڈر برادری کو ہیجڑہ یا خواجہ سرا بھی کہا جاتا ہے انہیں ایک طویل عرصے تک بنیادی حقوق جیسے کہ تعلیم، ملازمت اور صحت کے معاملے میں امتیازی سلوک کا سامنا رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مغل دور میں یہ خواجہ سرا گلوکار، رقاص اور شاہی عدالتوں میں مشیروں کے فرائض نبھاتے تھے۔ تاہم ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی دور میں منحرف پائے جانے والے ان ٹرانسجینڈرز کا تاثر بڑے پیمانے پر مجرمانہ کر دیا گیا اور انھیں بنیادی شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

ٹرانسجینڈرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والے فورم فار ڈگنیٹی انیشیٹیو نامی ادارے کی بانی عظمی یعقوب کا کہنا ہے کہ ’اب خطے میں پاکستان ٹرانسجینڈر کو حقوق دینے میں سبقت لے گیا ہے۔ ‘

پاکستان میں ایک دہائی قبل انھیں تیسری جنس کے طور پر قبول کیا گیا اور قومی سناختی کارڈ جاری کیے گئے اور گذشتہ برس انہیں پاسپورٹ کا اجرا بھی کیا گیا ایسی سہولت جو اب بھی کئی مغربی ممالک میں موجود نہیں۔

مئی میں پاکستان منظور کیے جانے والے ایک قانون کے میں پانچ لاکھ ایسے شہریوں کے خلاف امتیازی سلوک کی ممانعت ہےجن میں خواجہ سرا، ہیجڑے اور بین الصنفی لوگ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI/AFP/Getty
Image caption مارویہ ملک پاکستان کی پہلی ٹرانسجینڈر نیوز ریڈر ہیں

یہ برادری اب دیگر شعبوں میں بھی دکھائی دینے لگی ہے جن میں ایک نجی ٹیلی وژن سٹیشن نے ایک ٹرانسجینڈر کو نیوز اینکر کے طور پر ملازمت دی جبکہ ایک ٹرانسجینڈر نے ایک فلم میں بڑے پاکستانی اداکاروں کے ساتھ کام کیا۔

آج کل وہ ہمیں مار ڈالتے ہیں‘

تاہم پاکستان میں ٹرانسجینڈر کے خلاف تشدد اور تعصب اب بھی جاری ہے۔

ٹرانسجینڈر مرد سماجی اور ثقافتی توقعات کی وجہ سے عوامی میدان میں زیادہ نظر نہیں آتے۔

تاہم ٹرانسجینڈر عورتوں کو کچی عمر ہی سے تعصب کا شکار بنایا جاتا ہے، اور انھیں اکثر ناچنے گانے، بھیک مانگنے اور جسم فروشی پر مائل کیا جاتا ہے تاکہ وہ روزی روٹی کما سکیں۔

ان میں سے بہت سے ٹرانسجینڈر گروہوں میں جا کر رہنے لگتے ہیں جہاں انھیں کھانا اور پناہ ملتی ہے اور اس کے بدلے میں وہ اس گروہ کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں۔

ماریہ خان کہتی ہیں: ’جب آپ گھر چھوڑ دیتے ہیں تو یہ جگہیں ہی آپ کو تحفظ کا تصور دیتی ہیں۔‘ ماریہ کو دس برس کی عمر میں بھائیوں اور پڑوسیوں کی طرف تنگ کیے جانے کے بعد گھر سے بھاگنا پڑا تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’یہاں کوئی آپ کو مارتا پیٹتا یا گالیاں نہیں دیتا اور سب آپ کو پسند کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Forum for Dignity Initiatives
Image caption ماریہ خان نے بچپن میں گھر چھوڑنے کے بعد ایک خواجہ سرا برادری میں پناہ لی

تاہم ان کی برادری میں سے بہت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے۔

نایاب کہتی ہیں: ’پہلے ہمیں مارا پیٹا جاتا تھا، تیزاب پھینک دیا جاتا تھا، اب قتل کر دیا جاتا ہے۔‘

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق پچھلے تین سالوں میں خیبر پختونخوا میں 60 سے زیادہ ٹرانسجینڈر قتل کیے جا چکے ہیں۔

ان میں سے ایک عالیہ تھیں، جنھیں 2016 میں گولیاں مار دی گئیں۔ جب انھیں ہسپتال پہنچایا گیا تو عملہ اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکا کہ انھیں مردانہ وارڈ میں لے جایا جائے یا زنانہ وارڈ میں۔

’اپنے خاندان کے ہاتھوں قتل‘

ماریہ کا تعلق مانسہرہ سے ہے۔ وہ خیبر پختونخوا سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ لے رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’خود ہمارے خاندان نے ہمیں قتل کرنے کے لیے لوگوں کو پیسے دیے۔ مجھ پر گولیاں چلائی گئیں لیکن میں بچ گئی۔ میرے گھر کے دروازے میں اب بھی گولیوں کے نشان ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Maria Khan
Image caption ماریہ خیبر پختونخوا سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں

لیکن ماریہ کہتی ہیں کہ مقامی لوگوں نے ان کا بڑا ساتھ دیا ہے اور انھیں مثبت ردِ عمل مل رہا ہے۔ ان کے بقول سابق سیاست دانوں نے کچھ نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ندیم کشش

’امیروں کی بازی‘

ندیم کشش اسلام آباد سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ ان کا اپنا ریڈیو پروگرام بھی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’قانون سازی کے باوجود کوئی سیاسی جماعت ٹرانسجینڈر کے مسائل میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ میں خود انتخابات میں حصہ لے رہی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ الیکشن امیر مردوں کا کھیل ہے لیکن میرے پاس کاغذاتِ نامزدگی دائر کرنے تک کے پیسے نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ندیم کا مقابلہ چند بڑے ناموں سے ہے

اسی بارے میں