معلق پارلیمان بدقسمتی ہو گی، موجودہ حالات میں طاقتور حکومت کی ضرورت ہے: عمران خان

عمران خان
Image caption عمران خان نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں کی مدد کے بغیر حکومت بنے اور اگر نہیں بنتی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ ملکی حالات میں انتخابات کے نتیجے میں اگر معلق پارلیمان بنتی ہے تو یہ ملک کے لیے بڑی بدقسمتی ہو گی۔

بی بی سی کے عثمان زاہد کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک طاقتور حکومت کی ضرورت ہے اور معلق پارلیمان ہمیشہ کمزور ہوتی ہے۔

پاکستان الیکشن 2018: بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

الیکشن کے بعد معلق پارلیمان کی تشکیل کے امکانات پر سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو جس طرح کے معاشی بحران اور مشکلات کا سامنا ہے اس سے نمٹنے کے لیے طاقتور حکومت کی ضرورت ہے جو بڑے فیصلے کر سکے۔

عمران خان نے ممکنہ مخلوط حکومت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے پر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کو ترجیح دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر اتحاد بنانا پڑا تو آج آپ کو بتا رہا ہوں کہ نہ تو یہ نون لیگ سے بنے گا اور نہ ہی پیپلز پارٹی سے کیونکہ ان کے رہنما کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اگر ان کے ساتھ اگر حکومت بنانی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھیں۔‘

عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ان کے ساتھ اصلاحات نہیں ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اداروں کو مضبوط کیا جا سکتا ہے، بدعنوانی کے خلاف مہم نہیں چلائی جا سکتی اور ایف بی آر کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اور انھوں نے انھی اداروں کو کرپشن کرنے کے لیے تباہ کیا ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ کوشش ہو گی کہ ان جماعتوں کے بغیر حکومت بنے اور اگر نہیں بنتی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

عمران خان کی ’نازیبا‘ زبان استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی

’عوام اگر سوال پوچھ لیں تو نمائندوں کی توہین ہو جاتی ہے‘

عمران خان نے 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا تھا اور 126 دن تک اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیا تھا لیکن کیا 25 جولائی کے انتخابات میں تمام چیزیں درست سمت میں ہیں؟

اس پر عمران خان نے کہا کہ گذشتہ انتخابات میں جو دھاندلی کے بارے میں بات کی تو سب جماعتوں نے ان کی مخالفت کی کیونکہ ان سب نے مل کر دھاندلی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کے مطابق حکومت بنانے کے لیے پیپلز پارٹی سے اتحاد کرنے سے بہتر ہو گا کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھیں

انھوں نے کہا کہ اس وقت کہا تھا کہ چار حلقوں کو تحقیقات کے لیے کھولا جائے تاکہ 2018 کے انتخابات ٹھیک ہوں لیکن میری مخالفت کی گئی اور میں اکیلا سڑکوں پر تھا اور اب دیکھیں یہ ہی جماعتیں الیکشن سے پہلے ہی دھاندلی کا شور مچا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ان سے سوال پوچھتا ہوں کہ جب میں کہہ رہا تھا تو تب ہی تحقیقات کر کے ایسا قانون پاس کرتے کہ یہ پچھلی غلطیاں ہوئی ہیں اور اب یہ نہیں ہونی چاہییں۔ اب ان کو ڈر ہے کہ یہ الیکشن ہارنے جا رہے ہیں اور ان کو یہ بھی ڈر ہے کہ ایمپائر ان کے اپنے نہیں ہیں کیونکہ گذشتہ انتخابات میں انھوں نے اپنے ایمپائر کے ساتھ میچ کھیلا تھا۔ اس وقت نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔‘

حکومت میں آنے کی صورت میں اپنی اولین ترجیحات کے بارے میں سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ملک کی معاشی صورتحال کو بہتر کرنا ہو گا۔

حالیہ دنوں الیکشن کے حوالے سے دیے گئے خدشات کے بارے میں اپنے بیان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے انھیں خدشات لاحق ہیں اور اس سے صرف تحریک انصاف کی انتخابی مہم متاثر ہو رہی ہے کیونکہ دیگر جماعتیں چار دیواری میں مہم چلا رہی ہیں۔

اسی بارے میں