الیکشن 2018: انتخابات میں انڈیا سے تعلقات کیوں موضوع نہیں بن سکے؟

انتخابات تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں ہرگزرتے دن کے ساتھ انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ امیدوار عوام کے دلوں کو رام کرنے اور ووٹروں کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لیے ہر ممکن طریقے آزما رہے ہیں۔

گو کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران امیدواروں کی انتخابی مہم انڈیا کی سیاسی جماعتوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن کچھ فرق ضرور ہے۔

بی بی سی اردو کی خصوصی الیکشن کوریج

پاکستان کے انتخابات میں انڈیا کے ساتھ تعلقات وہ مسئلہ نہیں ہے جسے سیاست دان اپنی تقریروں اور عوامی جلسوں میں اٹھائیں۔

تجزیہ کار امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے منشور میں انڈیا پاکستان کے تعلقات کا ذکر تو ملتا ہے لیکن اُن کا سیاسی ایجنڈا زیادہ تر مقامی مسائل کے گرد ہی گھومتا ہے۔ انتخابی مہم کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ 'یہ نواز شریف یا نواز مخالف بیانیے پر مبنی ہے۔'

دوسری جانب انڈیا میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستان اور مسلمان مخالف بیان بازی کی سیاسی حکمت عملی کو نہ صرف انتہا پسند ہندؤں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا بلکہ اس کے ذریعے انھوں نے اپنی سیاسی حریف جماعت کانگریس کو بھی شکست دی۔

2014 میں اسی سیاسی حکمتِ عملی نے انڈیا میں بے جے پی کی فتح کو یقینی بنایا اور اب تک وہ اس حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔

حال ہی میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے دسمبر میں ریاست گجرات اور بہار کی ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں شکست دینے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام سابق وزیراعظم منموہن سنگھ پر عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بندی پاکستانی ہائی کمشنر کے ساتھ الیکشن سے قبل ایک عشائیے کے دوران کی گئی۔

یہاں تک کہ بے جے پی کے بہار کے صدر امت شاہ نے کہا کہ اگر اُن کے حریف الیکشن جیت جاتے تو پاکستان میں جشن منایا جاتا۔

سینیئر صحافی رضا رومی کا کہنا ہے کہ 'انتخابی سیاست میں پاکستان کو برا بھلا کہنا کافی مقبول ہے۔'

رضا رومی نے کہا کہ 'گذشتہ سال ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت نے پاکستان کو مختلف سازشوں اور تنازعات میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کم ہو رہی ہے وہیں انڈیا میں یہ زور پکڑ رہی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

رواں سال کے شروع میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جناح کی تصویر کے معاملے پر کافی تنازع ہوا۔ جناج کا پورٹریٹ وہاں گذشتہ 80 برسوں سے لگا ہے لیکن بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسند یونیورسٹی اور وہاں کے طالبِ علموں پر اُس حملہ کرتے رہے جب تک جناح کا پوٹریٹ وہاں سے اتارا نہیں گیا۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ 'انڈیا میں پاکستان کو ہندوتوا نسل پرستی سے منسلک کر دیا گیا ہے اور ملک میں قومی معاملات پر ہونے والے مباحثے میں اسے خاص اہمیت دی جاتی ہے۔'

اس سب کی ذمہ داری بے جے پی پر عائد کی جاتی ہے۔

امتیاز عالم نے کہا کہ 'لیکن پاکستان میں خارجی پالیسی، قومی سلامتی کا معاملہ فوج کے ہاتھ میں ہے اور اس معاملے میں سیاستدانوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے۔ اس لیے وہ اسے اپنی اتخابی مہم کا حصہ نہیں بناتے۔ وہ خارجہ پالیسی معاملات پر بات نہیں کرتے۔'

سینیئر صحافی رضا رومی بھی اس نکتے متفق ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے انڈیا کے بارے میں ایک جیسے ہی خیالات ہیں۔'

'تمام سیاسی جماعتیں نئی دہلی کے ساتھ دوستانہ تعلقات چاہتی ہیں اور وہ جنگ نہیں چاہتیں۔'

لیکن پھر بھی پاکستان میں انتخابات کی مہم کے دوران کچھ ایسے مسائل پر بات ضروری ہوئی ہے جو کسی حد تک انڈیا سے منسلک ہیں۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ 'پانی کی کمی ان میں سے ایک ہے۔'

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ انڈیا کے ڈیمز بنانے سے پاکستان کی شرح نمو متاثر ہوئی ہے۔ شہباز شریف نے انڈیا کے ساتھ بہتر اقتصادی تعلقات قائم کرنے کی امید کا اظہار کیا۔

لیکن کچھ اور معاملات بھی ہیں۔ کچھ عرصے قبل پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے ممبئی حملے کے بارے میں بیان دیا۔

انگریزی روزنامے ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں نواز شریف نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی ریاست غیر ریاستی عناصر کو سرحد عبور کر کے ممبئی جانے سے روکنے میں ناکام رہی جہاں ڈیڑھ سو لوگ ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم ممبئی حملہ کا ٹرائل کیوں مکمل نہیں کر سکے؟'

اُن کے اس بیان پر ملک میں بہت شور مچا۔ اگرچہ رضا رومی کا کہنا ہے کہ اس میں کچھ نیا نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ 'حکومتِ پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ حملہ آور 'غیر ریاستی عناصر' تھے جو سڑک عبور کر کے انڈیا میں داخل ہوئے لیکن یہ ضرور کہا گیا کہ اُن کا پاکستانی ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔'

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ یہ تنازع بھی الیکشن کے بارے میں ہونے والے بحث و مباحثے میں جگہ نہیں بنا پایا لیکن یہ بات ضرور کی جا رہی ہے کہ نواز شریف کے انڈین کاروباری حضرات اور سیاستدانوں سے اُن کی دوستی ہے۔

'مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے' یہ نعرہ دائیں بازوں کی جماعتوں خاص کر جماعت الدعوۃ میں خاصا مقبول ہے۔

امتیاز عالم نے کہا کہ گو کہ چند جہادی تنظمیں اس پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن عوامی سطح پر اسے زیادہ اہمیت نہیں ملی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'حالیہ کچھ عرصے سے فوج نے خود انڈیا کے ساتھ امن اور مذاکرات کا عندیہ دیا ہے اور وہ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی کو بڑھانے کے حق میں نہیں ہیں۔

اسی لیے انڈیا اس وقت ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کی عوام اور سیاستدان کو انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں کافی تحفظات ہیں لیکن یہ بھی انتخابی مہم میں کوئی خاص جگہ حاصل نہیں کر پائی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں