ایفی ڈرین کیس میں عمر قید کی سزا کے بعد حنیف عباسی اڈیالہ جیل منتقل، حلقے میں الیکشن ملتوی

حنیف عباسی
Image caption حنیف عباسی پر ممنوعہ کیمیائی مادہ ایفی ڈرین کی پانچ سو کلو گرام مقدار حاصل کرنے کا الزام ہے

راولپنڈی میں انسداد منشیات عدالت کی جانب سے گذشتہ روز مسلم لیگ نون کے رہنما حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی جانے کے بعد، انھیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی راولپنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے انتخاب لڑ رہے تھے اس سزا کے بعد وہ اس الیکشن میں شرکت کے اہل نہیں رہے کیونکہ آئین پاکستان کے تحت کوئی بھی سزا یافتہ شخص انتخابات لڑنے کا اہل نہیں ہو سکتا۔

اتوار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق راولپنڈی کے حلقہ این اے 60 میں انتخابات ملتوی کر دیے گیے ہیں۔

اس بارے میں مزید جانیے

’آئی ایس آئی عدالتی معاملات کو مینوپلیٹ کرنے میں ملوث‘

دانیال عزیز پر توہین عدالت کے مقدمے میں فرد جرم عائد

’نہال، طلال اور اب دانیال‘

الیکشن کمیشن کہنا ہے کہ عام انتخابات میں محض دو روز قبل آنے والے اس فیصلے کے بعد تمام فریقین کے لیے یکساں مواقع میسر نہیں ہیں۔

دوسری جانب اس حلقے سے دیگر امیدواروں نے انتخابی ملتوی ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سنٹرل الیکشن سیل کا کہنا ہے کہ مریم نواز، محمد صفدر کے نا اہل ہونے کے بعد اُن کے حلقوں میں انتخابات ملتوی نہیں ہوئے ہیں لیکن این اے 60 میں الیکشن کمیشن نے انتخابات ملتوی کر دیے ہیں۔ شیخ رشید احمد نے بھی الیکشن ملتوی ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کو انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اور رات گئے فیصلہ سنایا گیا جس کے بعد انسدادِ منشیات فورس نے عدالت میں موجود حنیف عباسی کو گرفتار کر لیا تھا۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ حنیف عباسی کی قانونی ٹیم اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مارچ 2012 میں ایفی ڈرین کا کیس سامنے آیا تھا جس کے بعد اب عام انتخابات 2018 سے چند روز قبل اس مقدمے کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔

انسداد منشیات کی عدالت کے جج سردار محمد اکرم خان کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی اور حنیف عباسی کے وکیل تنویر اقبال نے عدالت کی دی ہوئی دن 12 بجے کی ڈیڈ لائن میں اپنے حتمی دلائل مکمل کیے۔

اس موقع پر وکیل صفائی نے عدالت میں سیلز ریکارڈ اور بینک ٹرانزکشن کا ریکارڈ بھی پیش کیا۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے انسداد منشیات کی عدالت کو ایفی ڈرین کیس کو 21 جولائی تک نمٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔

وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ فیصلہ تین سے چار گھنٹے میں سنایا جائے گا۔ تاہم عدالت نے رات گیارہ بجے اس کیس کا فیصلہ سنایا۔

اس مقدمے میں پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسی گیلانی اور اُس وقت کے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی پر ایفی ڈرین کیس میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور ان پر ممنوعہ کیمیائی مادہ ایفی ڈرین کی پانچ سو کلو گرام مقدار حاصل کرنے کا الزام تھا۔

تاہم اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے جاری کردہ دستاویز جمع کروانے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے نومبر 2012 میں حنیف عباسی کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی تھی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ نے انسداد منشیات کی عدالت کو ایفی ڈرین کیس کو 21 جولائی تک نمٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔

ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے 17 جولائی کو فیصلہ سناتے ہوئے ایفی ڈرین کیس کا فیصلہ 21 جولائی کو سنانے کے فیصلے کے خلاف حنیف عباسی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

حنیف عباسی کے مقدمے کے فیصلے کے کچھ ہی دیر بعد اس کے بارے میں سوشل میڈیا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں # حنیف عباسی کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اکثر صحافی اور سیاسی مبصرین الیکشن سے چند روز قبل آنے والے اس فیصلے کی ٹائمنگ پر سوالیہ نشان اُٹھا رہے ہیں۔

صحافی حامد میر نے لکھا کہ ایک جج نے رات کے گیارہ بجے حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا سنا کر انصاف کے بارہ بجا دئیے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ حنیف عباسی میڈیا پر کہا کرتے تھے کہ ڈرگز کا پتہ لگانے کے لیے عمران خان کا ٹیسٹ کیا جائے اور اب خود منیشات کے ایک مقدمے میں انھیں عمر قید کی سزا ہوئی ہے شاباش۔

اسی بارے میں