فاٹا انضمام کے بعد پہلی مرتبہ قبائلی علاقے میں کارروائی، پولیس اور خاصہ داروں میں جھڑپ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ واقعہ پشاور ضلع خیبر ایجنسی کی سرحد پر کاخانو مارکیٹ کے قریب پیش آیا ہے (فائل فوٹو)

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس اور قبائلی علاقوں میں تعینات خاصہ داروں کے درمیان اس وقت تناؤ پیدا ہو گیا جب پولیس قبائلی علاقے کے ایک ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے وہاں پہنچ گئی۔

پولیس اور خاصہ داروں کے درمیان جھڑپ اور ہوائی فائرنگ بھی ہوئی جبکہ چار پولیس اہلکاروں کو خاصہ داروں نے اپنے پاس بٹھا لیا۔

یہ واقعہ پشاور ضلع خیبر ایجنسی کی سرحد پر کاخانو مارکیٹ کے قریب پیش آیا ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس محمد وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب سے چوری ہونے والی ایک گاڑی کو حیات آباد کے علاقے میں تحویل لیا گیا اور ڈرائیور کو حراست میں لینے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ گاڑی پشاور کے ساتھ صوبے میں ضم ہونے والے علاقے ضلع خیبر میں ایک شخص کے لیے لے جائی جا رہی تھی۔

پولیس اس شخص کو گرفتار کرنے گئی تو خاصہ داروں نے مزاحمت کی اور پولیس کو کارروائی سے روک دیا جس پر دونوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ اس موقع پر ہوائی فائرنگ کی گئی اور کافی دیر تک روڈ بلاک کر دیا گیا۔

ادھر خاصہ دار فورس کے اہلکاروں نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ پولیس ان کی حدود میں داخل ہوئی اور بغیر کسی وارنٹ کے گرفتاری کی جا رہی تھی جس پر انھوں نے پولیس کو روکا اور کہا کہ وہ انھیں بتائیں اور پھر وہ گرفتاری عمل میں لا کر پولیس کے حوالے کریں گے۔

یہ جھڑپ قبائلی علاقوں کے صوبے کے ساتھ انضمام کے بعد پہلی مرتبہ ہوئی ہے۔

سابق انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی کا کہنا تھا کہ شہری علاقوں میں جرم کرنے کے بعد اکثر ملزمان قبائلی علاقوں میں چلے جاتے ہیں جہاں پولیس کو رسائی حاصل نہیں ہے۔ اب جبکہ انضمام ہو چکا ہے تو پولیس اس بنیاد پر کارروائی کے لیے پہنچی تھی تاکہ ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے۔

اسی بارے میں