اڑیں گے پرزے: خاکی انڈے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

افتادِ طبع کے لحاظ سے میں نہائت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں چنانچہ جہاں کہیں خطرہ نظر آتا ہے دوڑنے والوں میں میں سب سے آ گے ہوتی ہوں۔ انتخابات سر پہ ہیں اور میری بلی کی سی سرشت نے بتا دیا ہے کہ حالات کچھ خوفناک رنگ اختیار کرنے والے ہیں۔ چنانچہ فوری دو کام کیے۔

ایک تو شہر سے راہِ فرار اختیار کی اور دوسرا ذریعۂ معاش بدلنے کا سوچا۔ لکھنے لکھانے سے تائب ہو کر سوچا کہ رنگین، پالتو پرندوں کی فارمنگ کی جائے اور باقی زندگی پرند فروش بن کے چین سے شہر سے دور کسی گاؤں میں بسر کی جائے۔ اس مقصد کے لیے، بہاولپور کے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک بڑی بی کے پاس پہنچی۔

آمنہ مفتی کے تحریر

’شریف‘ کون ہوتا ہے!

انسان بنیں مرد نہ بنیں !

بدمعاش امیدوار!

مارننگ شو والی لڑکی بولے

بڑی بی مور پالتی ہیں اور ستر بہتر کے پیٹے میں ہونے کے باوجود خوب چوکس بلکہ چومغزی ہیں۔ سیاست ان کا پسندیدہ موضوع ہے۔ چھوٹتے ہی انتخابات کے متوقع نتائج کا اعلان کیا۔ ان کے پالے ہوئے موروں نے،'میاؤں میاؤں کر کے سارا گھر سر پہ اٹھا رکھا تھا۔

جی آ پ درست پہچانے، یہ وہی مور ہیں جو چوروں کو پڑ جاتے ہیں۔ ایک دو مور، اپنی ماداؤں کے سامنے ناچنے میں مصروف تھے۔

ایسا کرتے ہوئے جب ان کی نظر اپنے پیروں پہ پڑتی تھی تو بے ساختہ اپنی دم کا جھاڑ نیچے کر کے، منقار زیرِ پر کی سی کیفیت میں چلے جاتے تھے۔ ان کی جگہ فوراََ ہی دوسرے مور ناچنے لگتے تھے۔ طاؤسی پروں سے بنے مور چھل سے خود کو ہوا کرتے ہوئے بڑی بی نے دہرایا کہ اس بار ،'' بلا '' جیتے گا۔ دانستہ یا نا دانستہ وہ زیر زبر کی غلطی کر گئیں۔ میں سمجھی شاید، 'شیر' کے نشان کو ضعفِ بصارت کے باعث ،'بِلا' سمجھ رہی ہیں۔

دوبارہ پوچھنے پہ انھوں نے قریب رکھا کپڑے کوٹنے کا تھاپا (جس سے دھل کے کپڑے بالکل،'شفاف' ہو جاتے ہیں) اٹھایا اور بہت جارحانہ انداز میں دہرایا۔'بلا،''بلا'۔ سمجھ دار کے لیے ہلکا سا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ یہ تو خاصا بلیغ اشارہ تھا۔

وہ فراٹے سے سارے سیاستدانوں کے بخیے ادھیڑ رہی تھیں۔ گفتگو، لیاقت علی خان کے دورۂ امریکہ سے چلی اورخواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، فیروز خان نون، شیخ مجیب الرحمٰن، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر اور میاں نواز شریف تک آ پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیاستدانوں نے برباد کردیا۔ اگر پہلے ہی روز یہ بات صاف ہو جاتی کہ اس ملک میں فوجی بادشاہت (یہ ان کی اپنی اصطلاح ہے ) قائم ہو گی تو راوی چین ہی چین لکھتا۔

ان کے دلائل کی مضبوطی، تھاپے کی موجودگی اور سب سے بڑھ کر مفت میں انڈے بٹورنے کا لالچ، میں قائل ہو گئی کہ پاکستانی قوم کی تاریخ، ملک کے جغرافیائی حالات اور بین الاقوامی سیاست کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے بہترین طرزِ حکومت، فوجی بادشاہت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مزید یہ کہ تمام سیاستدانوں کو ان کے حامیوں سمیت بحیرۂ عرب میں غرق کر دینا چاہییے۔ پوچھنا چاہا کہ پھر ملک میں رہ کون جائے گا؟ لیکن انڈوں کا لالچ مانع تھا۔ زبان بند کی بند ہی رہی۔

خدا خدا کر کے وہ مطلب کی بات پر آ ئیں اور ہمارے مانگنے اور ہزار احسان جتانے کے بعد ہمیں چھ انڈے دینے پر آ مادہ ہوئیں۔ انڈے بہت سنبھال کے توڑی میں رکھے ہوئے تھے۔ اسی قدر احتیاط سے ایک ایک انڈہ الگ سے رکھ کے دیا۔ توڑی کی اضافی تہہ بھی لگائی۔

انڈے لے کر رخصت ہی ہو رہی تھی کہ دیکھا دروازے کے ساتھ ٹوکروں کے حساب سے انڈے رکھے ہیں۔ پوچھا کہ یہ کیا ماجرا؟ یہ بھی انڈے ہی ہیں ان سے اس قدر بے اعتنائی کیوں؟

ناک بھوں چڑھا کے بولیں،'یہ تو خاکی انڈے ہیں، جتنا مرضی سیہہ لو ان سے بچے نہیں نکلتے، کیونکہ یہ انڈے مورنی مور سے ملاپ کے بغیر ہی دے دیتی ہے۔ خدا نے ہر شے کا ایک توازن رکھا ہے اور ہر عمل کا دائرہ ہے۔ اپنے دائرے سے باہر نکلنے والے بس خاکی انڈے بن کر رہ جاتے ہیں۔'

بڑی بی سیانی تھیں سچ کہتی تھیں مگر انڈے اتنے زیادہ تھے اور لالچ بھی خوب تھا، نظر بچا کے ایک ٹوکری اٹھا لی۔اف خدایا! خاکی انڈوں کا وزن اتنا ہے کہ اب فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ ٹوکرا بھر خاکی انڈے یا چھ بارآور انڈے؟ یوں تو فیصلے کا بوجھ بھی خاصا ہوتا ہے لیکن جتنا بھی ہو، خاکی انڈوں سے زیادہ نہیں ہوتا۔

پسِ نوشت :یہ ایک سچا واقعہ ہے اور اس میں علامتیں اور تشبیہات ڈھونڈھنے والے اپنا وقت ضائع کریں گے۔ شکریہ !

اسی بارے میں