ڈیرہ اسماعیل خان: پی ٹی آئی کے امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور ہلاک

پاکستان میں انتخابات سے قبل امیدواروں اور انتخابی سرگرمیوں کو شدت پسندوں کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے تین واقعات میں سابق صوبائی وزیر ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ حملے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے علاوہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ہوئے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح تحصیل کولاچی میں ہونے والے حملے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار اور سابق وزیر اکرام اللہ گنڈاپور ہلاک ہوئے۔

پولیس کے مطابق پی کے 99 سے الیکشن لڑنے والے اکرام گنڈا پورا کی گاڑی کو خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا اور اس حملے میں ان کا ڈرائیور اور دیگر تین افراد بھی شدید زخمی ہوئے۔

زخمیوں کو پہلے مقامی اور پھر فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اکرام اللہ گنڈا پور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

الیکشن 2018: خصوصی ضمیمہ

'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

’مستونگ میں خودکش حملہ کرنے والا سندھ کا رہائشی تھا‘

انتخابات میں انڈیا سے تعلقات کیوں موضوع نہیں؟

پولیس کے مطابق اکرام اللہ گنڈا پور پانچ سال قبل ہلاک ہونے والے اپنے بھائی اور سابق صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈاپور کی ہلاکت میں ملوث ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف منعقدہ ایک احتجاجی دھرنے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ اس دوران ان کا گاڑی پر حملے کیا گیا۔

یاد رہے کہ سابق صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈا پور کو بھی پانچ سال قبل ایک خودکش حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ مقتول کے بھائیوں نے ان کے قتل کا الزام پی ٹی آئی ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک اہم رہنما پر لگایا تھا تاہم ایف آئی آر میں ان کا نام ہونے کے باوجود ابھی تک اس ضمن میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

اکرم درانی پر دوسرا حملہ

ادھر ضلع بنوں میں جے یو آئی کے امیدوار اور سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی گاڑی پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔

پولیس کے مطابق اکرم خان درانی انتخابی مہم کے سلسلے میں بنوں کے نواحی گاؤں بسیہ خیل جارہے تھے کہ سٹی کلہ کے مقام پر نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی تاہم گاڑی بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

خیال رہے کہ 13 جولائی کو بھی بنوں کے علاقے حوید میں اکرم خان درانی کے قافلے پر بم حملہ کیا گیا تھا جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

اکرم خان درانی حلقہ این اے 35 سے جے یو آئی ایف کے امیدوار ہیں جہاں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ان کے مدمقابل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ خودکش تھا تاہم ابھی تک سرکاری طور پر اس تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ (فائل فوٹو)

چاغی میں بلوچستان عوامی پارٹی پھر نشانہ

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں سیاسی جماعت کے انتخابی دفتر پر بم حملے میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

چاغی کے ہیڈکوارٹر دالبندین میں پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی شب شہر کے علاقے کلی خدائے رحیم میں قائم بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی دفترپر کیا گیا ۔

اہلکار کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے دفتر پر دستی بم پھینکا اور دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے وہاں موجود 25 افراد زخمی ہو گئے۔

زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک ہے جنھیں مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا ۔

گزشتہ روز ضلع آواران میں ایک امیدوار کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا۔ آزاد حیثیت سے بلوچستان اسمبلی کی نشست پر انتخاب لڑنے والے امیدوار مہراللہ محمد حسنی کے قافلے پر حملہ آواران کے علاقے مشکے میں حملہ کیا گیا تھا ۔

اس حملے میں وہ خود تو محفوظ رہے تھے تاہم تین دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔

بلوچستان میں انتخابی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد سے ان پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن سانحہ مستونگ سے قبل ان حملوں میں زیادہ نقصان نہیں ہوا۔

تاہم 13جولائی کو ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابی جلسے پر خود کش حملے میں 150سے زائد افراد ہلاک اور 180سے زائد زخمی ہوئے تھے ۔

اس سے قبل 11 جولائی کو پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے جلسے میں خودکش دھماکہ ہوا جس میں صوبائی امیدوار ہارون بلور سمیت 20 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں