الیکشن 2018: سمارٹ فون ایک مکمل ٹی وی چینل؟

سوات میں اب سوشل میڈیا کلب بھی قائم کر دیا گیا ہے جس کے ارکان کی تعداد چونتیس تک ہے۔
Image caption سوات میں اب سوشل میڈیا کلب بھی قائم کر دیا گیا ہے جس کے ارکان کی تعداد چونتیس تک ہے۔

حالیہ انتخابات میں ویب چینلز یا سوشل میڈیا کے صفحات بڑی حد تک متحرک نظر آ رہے ہیں۔ کوئی بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ یا پھر ویب چینلز دیکھیں، اپنے علاقوں میں امیدواروں کی اشتہاری مہم بخوبی چلا رہے ہیں۔

سوات میں سترہ اس طرح کے مقامی ویب ٹی وی چینلز ہیں جن پر لائیو یعنی براہ راست رپورٹنگ کے علاوہ ٹاک شوز اور علاقائی مسائل پر رپورٹنگ بھی کی جاتی ہے۔

انتخابات پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

سوات شہر میں بازاروں یا تقریبات میں جہاں روایتی ٹی وی چینلز کے کیمرے لگے ہوتے ہیں، وہاں سوشل میڈیا کے موبائل فونز اور ڈی ایس ایل آر کیمرے لیے نوجوان بھی متحرک نظر آتے ہیں۔

سوات میں اب سوشل میڈیا کلب بھی قائم کر دیا گیا ہے جس کے ارکان کی تعداد چونتیس تک ہے۔

شمال نیوز ایک ویب چینل کے طور پر بھی کام کر رہا ہے۔ اس چینل کے انچارج محمد شیراز نے بتایا کہ ان دنوں اخبارات اور نیوز چینلز کی نسبتاً لوگ سوشل پیجز اور ویب چینلز پر زیادہ انحصار کرتے ہیں اور سوات میں رجحان زیادہ یہی پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں جب فوجی آپریشن شروع ہوا تھا تو بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے تھے، اُن دنوں میں اس علاقے کی خبروں کے لیے لوگ صرف انٹرنیٹ کے ذریعے ویب پیجز پر تازہ ترین خبروں پر انحصار کرتے تھے۔ ’وہ رجحان اب شدت اختیار کر چکا ہے۔‘

Image caption خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں نیوز چینل، لکی مروت کے مروت ٹی وی چینل اور ڈیرہ اسماعیل خان میں عہد نامہ کے نام سے ویب چینلز اور سوشل میڈیا چینلز کام کر رہے ہیں۔

سڑک کنارے دو افراد اگر موبائل فون سے کوئی تصویر یا ویڈیو بنا رہے ہوں تو یہ ضروری نہیں کہ کوئی ذاتی تصویر یا ویڈیو ہو بلکہ اکثر اوقات سوشل میڈیا کے کارندے سوات کے بازاروں اور گنجان باد علاقوں میں رپورٹنگ کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ رجحان صرف سوات میں نہیں بلکہ دیگر شہروں میں بھی پایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں نیوز چینل، لکی مروت کے مروت ٹی وی چینل اور ڈیرہ اسماعیل خان میں عہد نامہ کے نام سے ویب چینلز اور سوشل میڈیا چینلز کام کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے صفحات ہوں یا ویب چینلز، اس کے لیے کوئی لمبے چوڑے ساز و سامان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ صرف ایک سمارٹ فون ہی سارے کام کر لیتا ہے۔ آپ ایک اچھے صحافی بن سکتے ہیں اور باعزت روزگار بھی کما سکتے ہیں مگر شرط ہے کہ آپ کا صحافت کی جانب رجحان ہو۔

یہ کووریج مقامی لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے سمارت فونز اور کیپیوٹرز پر آسانی سے دیکھ لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سوات میں سوات نیوز ڈاٹ کام نامی چینل کے صفحے کو پسند کرنے والوں کی تعداد نو لکھ تک پہنچ چکی ہے۔

ان انتخابات میں بیشتر امیدوار اب ان سوشل میڈیا پر انحصار کر رہے ہیں۔ جلسوں اور کارنر میٹنگز کی مکمل کووریج سوشل میڈیا اور ان چینلز کی اپنی ویب سائٹس پر آسانی سے نشر کی جاتی ہے۔

مقامی اخبار روزنامہ شمال کے چیف ایڈیٹر غلام فاروق کا کہنا ہے کہ یہ موثر اور تیز ترین طریقہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں اب آگہی ہے اور وہ کوئی بھی حادثہ ہوا ہو یا کوئی واقعہ ہو جائے، اس کی تفصیل کے لیے اب اخبارات یا نیوز چینلز کا انتظار نہیں کیا جاتا بلکہ سوشل میڈیا پر تصویریں، خبریں اور ویڈیو فوراً آجاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اس کی کوئی نگرانی نہیں ہے، ان چینلز سے جو بھی نشر ہو جائے کوئی نہیں پوچھتا اور نہ ہی انھیں اس کے لیے کسی اجازت نامے یا لائسنس کی ضرورت ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر متحرک ان چینلز کے بارے میں کوئی ایسا قانون موجود نہیں ہے جس سے یہ کوئی اجازت لے کر کام کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اب چینلز سے نشر ہونے والی اطلاعات کے حوالے سے کئی لوگوں نے شکایتیں بھی درج کروائی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Not Specified

اسی بارے میں