پاکستان الیکشن 2018: ’فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا قانون پارلیمان نے بنایا تھا‘

علی ظفر
Image caption بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ نگران حکومت الیکشن کو پر امن رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے

پاکستان کے نگران وزیر اطلاعات و قانون بیرسٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ الیکشن کے دن ڈیوٹی پر تعینات فوجی افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات دینے کا قانون خود پارلیمان نے بنایا تھا۔

ان کا کہنا تھا 'یا تو پارلیمان یہ قانون ہی نہ بناتا اور الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہی نہ دیتا۔ اب جب پارلیمان نے خود یہ قانون بنایا اور اختیار دیا ہے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ کچھ اراکینِ پارلیمان کیوں اعتراض کر رہے کہ یہ اختیار کیوں دیے گئے ہیں؟‘

پاکستانی انتخابات پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا 'یہ قومی ایشو ہے، اس پر الزام تراشی کی ضرورت نہیں ہے۔‘

نگران وفاقی وزیر کے مطابق الیکشن ایکٹ سنہ 2017 میں سیکشن 193 کے تحت پارلیمان نے الیکشن کمیشن کو یہ اختیار دیا تھا کہ وہ مجسٹریٹ کے اختیارات بطور انچارج نامزد فوجی افسران کو دے سکتا ہے۔ یہ اختیارات پچھلے انتخابات میں بھی دیے گئے تھے‘۔

خیال رہے کہ 2013 کے انتخابات میں بھی حساس قرار دیے گئے پولنگ سٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکاروں کو یہ اختیار دیا گیا تھا تاہم اس مرتبہ تمام پولنگ سٹیشنز پر تعینات افسران کے پاس یہ اختیار ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

25 جولائی کا اڑتا تیر

ڈیرہ اسماعیل خان: پی ٹی آئی کے امیدوار اکرام اللہ گنڈاپور ہلاک

'خوف ہوگا تو سیاسی اشتہارات کا اثر بھی ہوگا‘

نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملک میں کروڑوں ووٹرز اور لاکھوں پولنگ سٹیشنز کی حفاظت کے لیے خود مدد مانگی اور اس کی ہدایت پر ساڑھے چار لاکھ پولیس اہلکار اور تین لاکھ فوجی پولنگ کے دن ملک بھر میں تعینات ہوں گے'۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ایوانِ بالا میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی اور اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے الیکشن کمیشن کو اس معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2013 کے انتخابات میں بھی حساس قرار دیے گئے پولنگ سٹیشنز پر تعینات فوجی اہلکاروں کو مجسٹریٹ کا اختیار دیا گیا تھا تاہم اس مرتبہ تمام پولنگ سٹیشنز پر تعینات افسران کے پاس یہ اختیار ہو گا

انتخابی عمل میں ریاستی اداروں کی مداخلت کا الزام

اس سوال پر کیا ریاستی ادارے انتخابات پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور یہ کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ایسا نہ ہو، نگران وفاقی وزیر نے کہا کہ کسی بھی ریاستی ادارے کے 'انتخابی عمل یا نتائج پر اثرانداز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘۔

انھوں نے ان الزامات کو 'سنی سنائی باتیں' اور 'سیاسی بیانات' قرار دیتے ہوئے رد کر دیا۔

'اگر کوئی بات کر رہا ہے تو ثبوت لے کر آئے۔ عدالتیں بھی ہیں اور الیکشن کمیشن بھی، ان کے پاس شکایت لے کر جائیں تاکہ وہ تحقیقات کے بعد سزا سنائیں۔ سنی سنائی باتوں پر نہ تو ہم ایکشن لے سکتے ہیں اور نہ ہی یہ ہمارا مینڈیٹ ہے‘۔

بیرسٹر علی ظفر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کے حالیہ متنازع بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا 'جب تک ٹھوس ثبوت نہ دے کہ یہ شخص آیا، اس نے اثرانداز ہونے کی کوشش کی تو اس پر ایکشن لیا جا سکتا ہے اور لینا چاہیے لیکن اس کے بغیر بیان دینا درست نہیں ہے‘۔

25 جولائی کو سکیورٹی صورت حال

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ انتخابات کے دن دہشت گردی کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے وزارت داخلہ، الیکشن کمیشن، تمام ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے، صوبائی حکومتیں بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نگران حکومت الیکشن کو پر امن رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور ’یہ الیکشن پرامن ہو گا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مقامی میڈیا پر سینسرشپ اور دباؤ

نگران وزیر اطلاعات و قانون نے بیرسٹر ظفر نے مقامی میڈیا کی جانب سے سینسرشپ اور دباؤ کے الزامات کو بھی بےبنیاد قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ سینیٹ میں سامنے آیا اور اس پر کمیٹی بنا کر تحقیقات کی ہدایت کی گئی لیکن 'وہاں سے ابھی تک ایسی کوئی ہدایت نہیں ملی کہ یہ مسئلہ ہے'۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں اُن کے پاس شکایت نہیں آئی ہے۔

بیرسٹر ظفر نے کہا کہ کیپل آپریٹیر اور ٹی وی چینلز کے درمیان نمبر گیم کا مسئلہ دس سال سے چل رہا ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی گیا تاہم پارلیمان نے اس پر کوئی قانون سازی نہیں کی۔

’اب ہم سے دو مہینے میں توقع کرنا کہ ہم ٹھیک کریں گے تو ہم پر الزام لگانا جائز نہیں ہے'۔

اسی بارے میں