نواز شریف کا پیغام: برسوں سے خرابیوں کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا لگانے کا وقت آ گیا ہے

نواز تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان انسٹٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم نے پیر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا طبی معائنہ کیا ہے اور اُنھیں ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ نواز شریف نے جیل سے ایک آڈیو پیغام بھی جاری کیا ہے۔

پیر کی شام سوشل میڈیا پر مریم نواز کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ میں نواز شریف کا جیل سے آڈیو پیغام جاری کیا گیا۔ جس میں وہ عوام سے 25 جولائی کو ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ 'برسوں سے خرابیوں کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا لگانے کا وقت آ گیا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اور ان کی بیٹی مریم نواز جیل میں اس لیے قید ہیں کیونکہ انھوں نے عوام کی عزت اور ووٹ کی عزت کے لیے تحریک شروع کی۔

'وقت آگیا ہے کہ آپ اس تحریک کو کامیاب بنائیں اور ایسا تاریخی فیصلہ سنائیں جو ان تمام فیصلوں کو بہا لے جائے جنھوں نے پاکستان کو انصاف کا قبرستان بنا دیا ہے۔'

اس سے قبل نواز شریف کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی حالت پانی کی کمی اور زیادہ پسینہ بہہ جانے کی وجہ سے خراب ہوئی ہے۔

بی بی سیکے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گرمی اور کم نیند کی وجہ سے نواز شریف کی صحت متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کے خون میں یوریا کی مقدار میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

'سر صرف پی ٹی وی ہوم اور پی ٹی وی سپورٹس کی اجازت ہے'

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

’نواز شریف کا ٹرائل جیل کی بجائے اوپن کورٹ میں ہو گا‘

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو سابق وزیر اعظم کے گردے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی ٹیم نے نواز شریف کے خون کے نمونے بھی لیے جنھیں ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوا گیا۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نواز شریف کے خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کا رزلٹ نارمل ہے تاہم یوریا کی مقدار 64 اور کریٹنین لیول ایک اعشاریہ تین ہے۔

نواز شریف کے کچھ ٹیسٹ کل کیے جائیں گے جن میں خون کے ٹیسٹ کے علاوہ ایکو کارڈیو گرافی بھی شامل ہے۔

اڈیالہ جیل کا دورہ کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم نے رائے دی تھی کہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے نواز شریف کی صحت متاثر ہوئی ہے۔

اس سے پہلے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ میجر جنرل (ریٹائرڈ) اظہر کیانی نے تین مرتبہ اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم کا معائنہ کیا تھا اور اُنھوں نے بھی تحریری طور پر جیل کے حکام کو مجرم کو علاج معالجے کے لیے ہسپتال منتقل کرنے کی تجویز دی تھی۔

اڈیالہ جیل کے ایک اہللکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ جیل کے حکام نے نواز شریف کی صحت کے بارے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا تھا اور صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا تھا تاہم متعلقہ حکام نے اس بارے میں جیل کی انتظامیہ کو کوئی واضح ہدایات نہیں دی اور صرف اسی بات پر اکتفا کیا کہ 'صبر کرو'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نواز شریف کے ذاتی معالج نے جیل کی انتظامیہ کو متعدد بار ملنے کی درخواست بھی کی ہے تاہم جیل کے اہلکار کے مطابق نواز شریف کے ذاتی معالج کو صرف دو بار ان سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ اہلکار کے بقول انھیں 'اوپر سے' کوئی حکم نہیں ملا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر اور سابق وزیر اعظم کے بھائی میاں شہباز شریف نے پنجاب کے نگراں وزیر اعلی کو درخواست بھی دے رکھی ہے جس میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ میاں نواز شریف کو جیل میں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جارہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اُنھیں مناسب طبی سہولتیں بھی فراہم نہیں کی جارہیں۔

دوسری طرف صدر ممنون حسین نے نواز شریف کے صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نگراں وزیر اعظم جسٹس ریٹائرڈ ناصر الملک سے رابطہ کیا ہے اور اُنھیں سابق وزیر اعظم کو تمام تر طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

’حق اور جیل مینئول کے مطابق سہولیات ملیں گی‘

اسی بارے میں بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید نے نگراں وفاقی وزیر اطلاعات علی ظفر سے سوالات کیے تو انھوں نے کہا کہ نواز شریف کو جیل مینئول کے مطابق سہولیات دی جا رہی ہیں۔

'یہ کوئی قانون نہیں کہ آپ وزیر اعظم رہے ہوں یا وزیر یا کوئی اہم شخص ہوں تو آپ کو بہتر کیٹیگری ملے گی۔ اگر آپ سزایافتہ ہیں تو پھر آپ کو باقی قیدیوں سے مختلف ٹریٹمنٹ نہیں مل سکتی، پھر آپ کو آپ کے حق کے مطابق اور جو جیل مینول میں ہے، وہی ملے گا'۔

مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کے اس بیان پر کہ نواز اور مریم نواز کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، بیرسٹر ظفر کہا کہ 'قید تنہائی سزائے موت کے قیدیوں کے لیے ہوتی ہے، باقی قیدیوں کے اپنے اہل خانہ اور ملاقاتو ں کے لیے دن مقرر ہیں۔'

نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر جیل مینئول کے مطابق سہولیات نہیں دی جا رہیں تو ہر قیدی کے پاس یہ حق موجود ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے، 'تاہم نواز شریف یا مریم نواز کی جانب سے ایسی کوئی شکایت نہیں آئی ہے'۔

انھوں نے مزید بتایا کہ مریم نواز کی جانب سے سہالہ گیسٹ ہاؤس منتقل ہونے کی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

اسی بارے میں