الیکشن 2018: کیا خیبر پختونخوا میں الیکشن سے گلوکاروں کے دن پھر گئے؟

بیشتر انتخابی گیت پشتو زبان یا مقامی لہجوں میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کے لیے عام گلوکاروں کے علاوہ نامور فنکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
Image caption بیشتر انتخابی گیت پشتو زبان یا مقامی لہجوں میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کے لیے عام گلوکاروں کے علاوہ نامور فنکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شاید پہلی مرتبہ مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی طرف سے حالیہ انتخابات میں ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پشتو کے مقامی گلوکاروں اور شعرا کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس سے نہ صرف غربت کے مارے ہوئے فنکاروں کے دن پھر گئے ہیں بلکہ وہ خوف کی کیفیت سے بھی نکل رہے ہیں۔

صوبائی دارالحکومت پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں آج کل بمشکل ہی کوئی ایسا فنکار ہوگا جس نے کوئی نہ کوئی انتخابی ترانہ یا گیت نہ گایا ہو۔

بیشتر گلوکاروں کے پاس ریکارڈنگ کی اتنی آفرز تھیں کہ وہ ان کے لیے وقت نکالنے سے قاصر رہے۔

الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

الیکشن 2018: بی بی سی ک

الیکشن میں گلوکاروں اور شعرا کی خدمات

’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے سوشل میڈیا سیلز تو بہت پہلے سے اپنے عوامی جلسوں میں موسیقی کے ذریعے سے عوام کی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔

لیکن حالیہ انتخابات میں یہ رجحان پہلی مرتبہ آزاد امیدواروں کی جانب سے دیکھا جا رہا ہے جس میں انتخابی ترانے یا گیت گا کر ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ انتخابی ترانے صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں بلکہ دیہاتی مقامات پر بھی امیدواروں نے اپنے نام سے انتخابی گیت ریکارڈ کروائے ہیں جنھیں عوامی جلسوں کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بھی شئیر کیا جا رہا ہے۔

بیشتر انتخابی گیت پشتو زبان یا مقامی لہجوں میں ریکارڈ کیے گئے ہیں جس کے لیے عام گلوکاروں کے علاوہ نامور فنکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ تاہم یہ رجحان اتنا تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کہ اب اس دوڑ میں غیر پیشہ ور یا شوقیہ فنکار بھی شامل ہو گئے ہیں۔

اگر ایک طرف ان انتخابی گیتوں سے ایک گہما گہمی کی کفیت برقرار ہے تو دوسری جانب یہ نیا رجحان غربت اور خوف کے مارے ہوئے خیبر پختونخوا کے فنکاروں کے لیے کسی رحمت سے بھی کم نہیں۔

Image caption ہشمت سحر نے حالیہ انتخابات میں سات سے زیادہ انتخابی گیت ریکارڈ کروائے ہیں۔

فنکاروں کا کہنا ہے کہ کام کے بڑھنے کی وجہ سے نہ صرف انہیں معاشی طور پر فائدہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے ان میں ڈر اور خوف کی کیفیت بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔

ہشمت سحر پشتو کے ایک نامور گلوکار سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے حالیہ انتخابات میں سات سے زیادہ انتخابی گیت ریکارڈ کروائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے کے دوران وہ تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی ترانے گا چکے ہیں جس میں پی ٹی آئی، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'آج کل کام اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ ہمیں وقت نکالنا مشکل ہے کیونکہ ہر طرف سے امیدواروں کی جانب سے آفر دی جا رہی ہیں، جلسوں میں بھی لے کر جا رہے ہیں اور ان کے لیے ترانے بھی ریکارڈ کرائے جا رہے ہیں۔'

ان کے مطابق پہلے میوزک صرف پی ٹی آئی کے جلسوں تک محدود ہوتا تھا لیکن اب یہ رجحان ہر جماعت میں مقبول ہو رہا ہے اور ویسے بھی عوام کو اکھٹا کرنے کے لیے ساز کی اہمیت آج بھی اپنی جگہ پر موجود ہے۔

ان کے بقول ’2018 کے الیکشن میں یہ پہلی مرتبہ دیکھا جارہا ہے کہ امیدواروں نے انفرادی طور پر بڑے پیمانے پر انتخابی مہم کی کامیابی کے لیے گلوکاروں اور شعرا کی خدمات حاصل کی ہیں جس سے میوزک سے وابستہ تمام افراد کی معاشی حالت بھی بہتر ہوتی جارہی ہے۔'

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے باعث جہاں ہر شعبہ زندگی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، وہاں صوبے کی فنکار برادری بھی کئی قسم کے مسائل سے دوچار رہے۔

Image caption حالیہ انتخابات میں یہ رحجان پہلی مرتبہ انفرادی طور پر امیدواروں کی جانب سے دیکھا جارہا ہے جس میں انتخابی ترانے یا گیت گا کر ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

شدت پسندی کے باعث نہ صرف وہ بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہوئے بلکہ کئی نامور گلوکاروں کو ملک چھوڑ کر بیرون ممالک میں پناہ لینا پڑی۔ تاہم صوبے میں امن کی بحالی کے بعد فنکاروں کے ڈیرے پھر سے آباد ہونے لگے ہیں۔

پشاور میں پشتو موسیقی اور ثقافت پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر تجزیہ نگار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ حالیہ انتخابی ماحول سے نہ صرف فن سے وابستہ ہنرمندوں کے دن پھر رہے ہیں بلکہ اس سے پشتو موسیقی کی ترقی بھی ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی مہم میں دیکھا گیا ہے کہ کئی نئے اور نوجوان شوقیہ گلوکار سامنے آرہے ہیں جو مستقبل میں پشتو موسیقی کے لیے ایک سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے خیبر پختونخوا کی فنکار برادری کئی سالوں سے خوف کی کیفیت میں مبتلا رہی ہے لیکن ایسے ماحول میں جہاں دیہات میں بھی بلاخوف و خطر میوزک بج رہا ہو اس سے تمام فائدہ فنکاروں کا ہی ہے۔

شیر عالم شنواری نے مزید کہا کہ کچھ علاقوں میں انتخابی مہم کے دوران پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے کسی حد تک ماحول افسردہ ہو گیا ہے ورنہ اس سے پہلے ہر طرف جشن جیسا ماحول تھا اور شاید اس کی وجہ انتخابی مہم میں میوزک کا زیادہ سے زیادہ استعمال تھا۔

اسی بارے میں