الیکشن 2018: ووٹ ڈالنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

راولپنڈی میں پریزائیڈنگ افسر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں 25 جولائی کو عام انتخابات ہوں گے

پاکستان میں بدھ کو عام انتخابات میں دس کروڑ 60 لاکھ کے قریب ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے جا رہے ہیں لیکن پولنگ سٹیشن جانے سے پہلے ووٹ ڈالنے کے بارے میں جاری کیے گئے ہدایت نامے پر ایک نظر لازمی ڈالتے جائیں تاکہ آپ کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے اور نہ ہی آپ کا ووٹ ضائع ہو۔

الیکشن کمیشن کے ہدایت نامے میں سب سے اہم چیز آپ کا قومی شناختی کارڈ ہے کیونکہ ووٹ صرف اور صرف اصل شناختی کارڈ ہونے کی صورت میں ڈال سکیں گے چاہے وہ زائد المیعاد ہی کیوں نہ ہو۔ اصل شناختی کارڈ کے علاوہ نہ تو اس کی فوٹو کاپی چلے گی اور نہ ہی ڈرائیورنگ لائسنس، پاسپورٹ سمیت دوسری کوئی شناختی دستاویز تسلیم کی جائے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی یاد رہے کہ پولنگ سٹیشن میں کیمرا یا فون لے جانے کی اجازت نہیں ہے اور خواتین اپنا دستی بیگ نہ لائیں کیونکہ اس صورت میں آپ کو زحمت کا سامنا کرنا پر سکتا ہے اور موبائل فون اور بیگ کو محفوظ جگہ پر رکھنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

الیکشن میں گلوکاروں اور شعرا کی خدمات

پاکستانی انتخابات پر بی بی سی اردو کی خصوصی کوریج

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ ECP

آپ کا ووٹ ضائع کیسے ہو سکتا ہے؟

اصل شناختی کارڈ کے بعد ووٹ ڈالنے کا مرحلہ آتا ہے جس میں طریقۂ کار سے ہٹ کر ووٹ ڈالنے کی صورت میں آپ کا ووٹ ضائع ہو سکتا ہے اور ہر عام انتخابات میں اسی وجہ سے ایسے ووٹ بھی اچھی تعداد میں سامنے آتے ہیں جنھیں رد کر دیا جاتا ہے۔

تو اس صورتحال سے بچنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ماضی کی طرح اس بار بھی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں پہلی احتیاط یہ ہے کہ آپ اپنا بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے بعد سب سے پہلے دیکھیں کہ آیا اس پر سرکاری کوڈ کا نشان موجود ہے اور اس کے ساتھ پریزائیڈنگ افسر کے دستخط موجود ہیں اور اس پر الیکشن کمیشن کا واٹر مارک موجود ہے، اگر ایسا نہیں تو آپ کا بیلٹ پیپر قابل استعمال نہیں اور اگر ووٹ ڈال دیا تو یہ شمار نہیں کیا جائے گا۔

دوسری احتیاط یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے عملے کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری مہر کا استعمال کریں اور یہ سرکاری مہر نو چھوٹے چھوٹے ڈبوں پر مشتمل ہوتی ہے۔

بعض اوقات یہ اطلاعات سامنے آتی ہیں کہ ووٹر اپنے امیدوار کو یہ یقین دلانے کے لیے کہ ووٹ اسے ہی دیا تھا، کوئی نہ کوئی نشانی بیلٹ پیپر پر لگا دیتا ہے جیسا کہ کوئی کاغذ یا کسی قسم کی چیز یا قلم سے کوئی نشانی وغیرہ۔ اگر ان میں سے کسی قسم کا نشان بیلٹ پیپر پر دیکھائی دیا تو سمجھیں آپ کا ووٹ یقینی طور پر ضائع ہو چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ECP

تیسری اہم چیز جس کو تقریباً تمام ووٹر اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہ صرف قومی اور صوبائی حلقے کے ایک ایک امیدوار کو ہی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اس صورت میں صرف اپنے امیدوار کے انتخابی نشان کے سامنے ہی مہر لگائیں اور یہ نشان والے ڈبے کے اندر ہی ہونی چاہیے۔

اگر ایک سے زیادہ نشانوں پر مہر لگائی تو ووٹ ضائع ہو جائے گا لیکن اگر غلطی سے مہر کسی اور نشان پر لگا لی ہے تو اس صورت میں عملے سے رجوع کیا جا سکتا ہے وہ آپ کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ سرکاری مہر ایک بار امیدوار کے انتخابی نشان پر لگانے کا مطلب ہو گا کہ آپ قوانین کے تحت اس بیلٹ پیپر پر موجود دیگر امیدواروں کو مسترد کر چکے ہیں اور اس کے لیے آپ کو مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔

ان دنوں سماجی رابطوں پر کچھ ویڈیوز سامنے آئی ہیں کہ آپ اپنے امیدوار کے نشان پر ووٹ کی مہر لگائیں اور دوسرے امیدوار کے نشان پر اپنی ناپسندیدگی ظاہر کرنے کے لیے کراس یا کوئی اور نشان لگائیں۔ یہ بالکل غلط ہے، اس صورت میں آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ECP

رنگ

بیلٹ پیپر کے حوالے سے معلومات یہ ہیں کہ سبز بیلٹ پیپر قومی اسمبلی کے لیے اور سفید بیلٹ پیپر صوبائی اسمبلی کے لیے ہے اور جس ڈبے میں ووٹ کی پرچی ڈالی جائے گی ان کے رنگ بھی سفید اور سبز ہوں گے۔

چند دیگر سہولیات اور ہدایات

پولنگ بدھ کی صبح آٹھ بجے شروع ہو گی اور شام چھ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی۔ چھ بجے کے بعد جو لوگ پولنگ سٹیشن میں ہوں گے، وہ ووٹ ڈال سکیں گے مگر باہر سے کوئی نہیں آ سکے گا۔

الیکشن کمیشن بزرگ، حاملہ خواتین، شیر خوار بچوں والی خواتین، معذور افراد اور خواجہ سرا پولنگ سٹیشن پر ترجیحی سلوک کے مستحق ہیں۔

ووٹر، انتخابی عملے، سکیورٹی اہلکار اور پولنگ سٹیشن پر موجود دیگر افراد پر لازم ہے کہ وہ ووٹ کی راز داری کو یقینی بنائیں۔

پریزائیڈنگ افسر سکیورٹی اہلکار کی تعاون سے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹروں کو پولنگ سٹیشن پر پرامن دوستانہ، اور محفوظ ماحول میسر ہو اور ووٹروں کو کسی بھی صورت میں ووٹنگ سے روکنے کے لیے ڈرایا یا دھمکایا نہ جا سکے۔

اسی بارے میں