پاکستان الیکشن 2018: ’ خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں خدشات کہ شاید خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں‘

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ EPA

خیبر پختونخوا میں ملاکنڈ ڈویژن اور ضلع صوابی کے بعض علاقوں میں خواتین کے کم ووٹ ڈالنے کی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں جس کا الیکشن کمیشن نے نوٹس لے لیا ہے اور خصوصی خواتین شکایات ڈیسک قائم کر دیا ہے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انتخابات کی دوڑ میں شامل امیدوار اور مقامی حد تک سیاسی جماعتیں بھر پور کوششیں کر رہی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنز میں لایا جا سکے۔

مقامی سطح پر ایسے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بعض علاقوں میں شاید خواتین ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ سٹیشنز نہیں آ پائیں گی اور بعض علاقوں میں شاید کچھ خواتین پہلی مرتبہ ووٹ ڈال سکیں گی۔

الیکشن 2018 سے متعلق یہ بھی پڑھیے

آپ کا ووٹ کہیں ضائع نہ ہو جائے!

’خواتین کے پولنگ سٹیشن اپنے علاقے میں قائم کیے جائیں‘

کراچی میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر ووٹ

مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بعض مقامات پر خواتین اور مردوں کے مشترکہ پولنگ سٹیشنز بنائے ہیں یا ان کے علاقوں سے دور بنائے گئے ہیں جس وجہ سے خواتین ووٹ ڈالنے نہیں جا پائیں گی۔

ندا اکبر لوئر دیر میں یونیورسٹی کی طالبہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے میں اس مرتبہ کوششیں جاری ہیں کہ زیادہ سے زیادہ خواتین ووٹ ڈالیں اور ہو سکتا ہے کہ امیدوار اس میں کامیاب بھی ہو جائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کے بعض دیہاتوں میں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ان کے گھرانوں کے مرد حضرات نہیں دیں گے یا عورتیں شاید خود ہی ووٹ ڈالنے نہ آئیں۔

مقامی سطح پر امیدواروں یا مقامی سیاسی قائدین کی جانب سے اب تک کوئی ایسا معاہدہ سامنے نہیں آیا جس میں عورتوں کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کی گئی ہو۔ ماضی میں مقامی سطح پر ایسے معاہدے کیے گئے تھے جن میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی ان میں ملاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقے شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق سال 2017 میں منظور کیے گئے قانون کے تحت ہر حقلے میں دس فیصد خواتین کا ووٹ پول ہونا ضروری ہے اور اگر کسی بھی حلقے میں خواتین کے دس فیصد سے کم ووٹ پول ہوں گے تو اس حلقے کا نتیجہ روک دیا جائے گا۔

لوئر دیر سے مقامی صحافی حلیم اسد کا کہنا ہے ایسے علاقے ہیں جہاں شاید پہلی مرتبہ خواتین ووٹ پول کریں گی اور اس کے لیے مقامی امیدوار بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ سیاسی جماعتوں کی حد تک جن میں جماعت اسلامی اور دیگر جماعتیں شامل ہیں انھوں نے اپنی خواتین کارکنوں کو پولنگ ایجنٹ کی تربیت دی ہے اور انھیں کہا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خواتین کو پولنگ سٹیشنز لایا جا سکے۔

الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا نے خواتین کو ووٹ کی اجازت نہ دینے کے خدشات پر نوٹس لیا ہے اور ملاکنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں اور صوابی ضلع کی حد تک متعلقہ حکام کو خط لکھا ہے جس میں ان شکایات کا نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پولنگ کے دن الیکشن کمیشن میں خواتین کی شکایات کے حوالے سے ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے جو پولنگ کے ختم ہونے تک رہے گا۔ اس شکایات ڈیسک کے نمبر کے ذرائع ابلاغ میں اشتہار دیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس بارے میں خواتین کے حوالے سے انتخابات کو مانیٹر کرنے والی عورت فاؤنڈیشن کی عہدیدار صائمہ منیر نے بی بی سی کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کی شق نمبر 91 کے تحت ہر حلقے میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح کم سے کم دس فیصد ہونی چاہیے اور اس کے لیے سیاسی جماعتیں کوششیں کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر خواتین کے پولنگ سٹیشنز پر اعتراضات ہیں جیسے کہیں مشترکہ پولنگ سٹیشنز ہیں تو وہاں عورتوں کا جانا مشکل ہوتا ہے یا کہیں پولنگ سٹیشنز دور قائم کر دیے جاتے ہیں حالنکہ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ ایک کلومیٹر کے اندر پولنگ سٹیشنز ہونے چاہیئں۔

صائمہ منیر کے مطابق الیشکن کمیشن نے بعض علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں جس وجہ سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں ’جیسے قانون سازی کر کے دنیا کو ایک چہرہ دکھایا گیا ہے اور پھر پولنگ سٹیشنز کی سکیم ایسی بنائی گئی ہیں جس سے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں‘۔

خواتین کے ووٹ ڈالنے کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں لوگوں کو خدشات لاحق ہیں اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے بظاہر کوششیں کی جا رہیں لیکن بعض لوگوں کا اب بھی یہ کہنا تھا کہ ان سیاسی قائدین کی خاطر وہ اپنے گھر کی عورتوں کو کیوں باہر لائیں۔

اسی بارے میں