پاکستانی ووٹر کن چیزوں پر ووٹ دیتا ہے؟

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کی تاریخ کے 11ویں عام انتخابات کا سورج 25 جولائی کو طلوع ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 'تمام سیاست مقامی ہوتی ہے' لیکن پاکستان میں تقریباً دو مہینے پر محیط انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں نے ملک کے طول و عرض میں عوام کے سامنے اپنے جو منشور پیش کیے وہ بڑی بڑی پالیسیوں پر مبنی تھے۔

کہیں انھوں نے عوام کی تقدیر بدلنے کے وعدے کیے اور کہیں اپنے مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کی اور کہیں مذہب کے نام پر ووٹوں کی فرمائش کی۔ اس سارے شور شرابے میں ووٹر کہاں گم ہو جاتا ہے کسی کو پتہ ہی نہیں حالانکہ آخری فیصلہ تو اسی کے ٹھپے نے کرنا ہوتا ہے۔

اسی حوالے سے بی بی سی نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ پاکستانی ووٹر کی سوچ آخر ہے کیا اور وہ ووٹ دینے سے پہلے کن چیزوں کو مدِ نظر رکھتا ہے؟

جب بی بی سی نے ہارورڈ یونیورسٹی سے پبلک پالیسی میں پی ایچ ڈی کرنے والے اسد لیاقت کے سامنے یہ سوال رکھا تو انھوں نے کہا کہ عوام کے لیے ووٹ ڈالنے کی کئی وجوہات ہوتی ہیں جیسے سیاسی، سماجی اور مذہبی شناخت، قومیت، برادری اور دھڑے بندی۔

اسد لیاقت کے مطابق اس کے علاوہ کئی لوگ جماعتی منشور اور اس کے نظریے کو ووٹ دیتے ہیں تو کہیں وہ سماجی وجوہات اور کام نکلوانے کے لیے، یعنی سروس کی فراہمی کے لیے ووٹ دیتے ہیں اور کہیں وہ صرف اس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں جو ان کے خیال میں جیتنے والا امیدوار ہو گا۔

دھڑے بندی یا برادری کی سیاست

اس حوالے سے سوال پر پاکستان کی انتخابی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 'اسے آپ برادری سے زیادہ دھڑے بندی کہیں۔ برادری کا مطلب تو یہ ہے کہ وڑائچ وڑائچ کو ووٹ دے مگر ایسا نہیں ہے۔ اگر وڑائچ کسی گجر کا دھڑا ہو، تو وہ اسی کو ووٹ دے گا۔ ہو سکتا ہے کہ سارے وڑائچ ایک دھڑے میں نہ ہوں۔ جب دھڑا کہیں جاتا ہے تو پورا دھڑا اس کے ساتھ ہی جاتا ہے۔'

تحقیقی تھنک ٹینک ورسو کنسلٹنگ کی ڈائریکٹر عظیمہ چیمہ کہتی ہیں کہ 'پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرتی نظام کا ارتقا مقامی برادریوں، قبائل، خاندانوں کی بنا پر ہوا ہے۔ یہی اس خطے کی ریت رہی ہے۔ اور اسی لیے سیاسی سرپرستی کے، سیاسی نمائندگی کے، یہاں تک کے ووٹرز کی توقعات کے، سب کے رجحانات انھی پر مبنی ہیں۔'

خدمات کی فراہمی

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انگریزی جریدے ماہنامہ ہیرالڈ کے مدیر بدر عالم سے جب بی بی سی نے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ جو بنیادی وجہ کسی بھی ووٹر کو اس کے گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کرتی ہے وہ اس کا یہ یقین یا سوچ ہوتی ہے کہ وہ کیسے اپنی ذاتی زندگی اور اپنے ارد گرد کے ماحول میں کوئی تبدیلی دیکھنا چاہتا ہے۔ چاہے وہ تبدیلی یا بہتری اس کو فوری چاہیے ہو یا طویل مدتی۔

انتخابات میں انڈیا سے تعلقات کیوں موضوع نہیں؟

’عوام اگر سوال پوچھ لیں تو نمائندوں کی توہین ہو جاتی ہے‘

تجزیہ کار طاہر مہدی کہتے ہیں کہ پاکستان میں ووٹر کے لیے سب سے اہم چیز امیدوار تک رسائی ہے۔ ان کی رائے میں پاکستانی شہری امیدوار کے ذریعے پاکستانی ریاست کے ساتھ بھاؤ تاؤ کرتا ہے اور چونکہ تمام سہولیات تمام شہریوں کے لیے یکساں میسر نہیں ہیں اسی لیے آپ کو امیدوار تک رسائی درکار ہے۔

'آپ کو کہیں بھی پہنچنے کے لیے واسطہ یا کوئی جان پہچان چاہیے ورنہ آپ کو قواعد و ضوابط میں پھنسا دیا جائے گا۔'

اسد لیاقت نے بھی اس نکتے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کو اگر اپنے علاقے میں گلی محلے کے مسائل حل کرنے ہوں یا کورٹ کچہری کے چکر کاٹنے ہوں یا اسے نوکری لگوانی ہو، وہ اسی سوچ سے ووٹ دیتا ہے کہ ان سب کاموں میں کون اس کی مدد کر سکتا ہے۔

البتہ عظیمہ چیمہ کے مطابق ووٹروں کا طرز عمل بدل رہا ہے اور اب بات تبدیل ہو کر ایشوز پر چلی گئی ہے۔

'عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف 2013 کا الیکشن اسی وجہ سے ہاری تھی کہ انھوں نے پنجابی ووٹروں کے مسائل پر انتخابی مہم نہیں چلائی۔ الیکشن سے ڈیڑھ سال پہلے یہ بات نظر آ گئی تھی کہ ووٹر کہہ رہے تھے کہ جو پارٹی ہمارے مسائل کے بارے میں بات کرے گی ہم اس کو ووٹ دیں گے۔

’شمالی پنجاب میں اہم ایشو تھا روزگار، مہنگائی، بجلی جبکہ پی ٹی آئی نے اس پر زیادہ بات نہیں کی۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ن نے ان ایشوز پر بات کی اور میدان جیت لیا۔ جن ایشوز کی بات پی ٹی آئی نے بات کی وہ تھے ڈرون یا بدعنوانی، یہ خیبر پختونخوا میں اہم تھے اور اس کے نتائج آپ کے سامنے ہیں۔'

پارٹی وابستگی

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں عام رواج سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کا زیادہ ہے، نہ کہ امیدوار کی اپنی مقبولیت۔ لیکن ملک کے چند حصوں، جیسے صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں الیکٹیبلز، یعنی وہ امیدوار جن کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں حمایتی ہوتے ہیں، وہ اس روایتی فہم کے مخالف جاتی ہے کہ ووٹ صرف پارٹی کو ملتا ہے۔

تجزیہ کار شاہد انور کہتے ہیں کہ 'الیکٹیبل امیدوار پارٹی کا برانڈ استعمال کر کے ملک کی سب سے اہم طاقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سودا کرتا ہے۔'

لیکن تجزیہ کار طاہر مہدی کے مطابق پارٹی وابستگی کی اہمیت بہت کم ہوتی ہے لیکن پارٹی کے جیتنے کے امکانات اہم ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امیدوار کے ساتھ لوگ پارٹی کا بھی جائزہ لیتے ہیں۔ اور پارٹی کے جائزے میں صرف ایک چیز اہم ہے کہ کیا اس پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات ہیں یا نہیں۔

'بار بار پارٹی تبدیل کرنے کے حوالے سے پاکستانی سیاسی میں کوئی اخلاقیات نہیں ہوتیں۔ یہ صرف ایک شہری بیانیے کا حصہ ہے۔ حلقے کی سیاست میں یہ اہم بالکل نہیں ہے۔ یہ ان کی عقل مندی سمجھی جاتی ہے یا سیاسی شعور سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ لنگڑے گھوڑے کو کوئی ووٹ نہیں دیتا۔'

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مذہب

ماسوائے ایک دو دفعہ، عام انتخابات میں تاریخی طور پر مذہبی جماعتوں کو مسلسل شکست و ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس کے باجود پاکستانی سیاست میں مذہبی عناصر کا کردار ہمیشہ کافی اہم رہا ہے اور انھوں نے کئی مضبوط حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ہے۔

چاہے بھٹو دورِ حکومت میں دوسری آئینی ترمیم کی بات کی جائے یا نواز شریف کے تیسرے دور حکومت میں ختم نبوت کے متعلق قوانین، مذہبی جماعتوں کا اثر اور کردار کبھی ثانوی سطح پر نہیں گیا۔

کراچی میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر ووٹ

گذشتہ سال فوجی حکام کی جانب سے کہا گیا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کو بھی قومی دھارے میں لانے کے لیے مصر ہیں جس کے بعد تحریک لبیک پاکستان، ملی مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کو سامنے آکر اپنے بیانیہ سامنے پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔

اس پر سوال اٹھتا ہے کہ جیسے عالمی سطح پر قومیت اور مذہبی انتہا پسند جماعتوں کی انتخابات میں مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، کیا یہی پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملے گا؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ 'مذہب پر بھی کچھ پاکستانی ووٹ کا فیصلہ کرتے ہیں، مثلاً تحریکِ لبیک ہے، یا حافظ سعید کی پارٹی اللہ اکبر تحریک، لیکن پاکستان میں مجموعی طور پر لوگ خاص طور پر پنجاب میں مذہب کی بنیاد پر ووٹ نہیں دیتے۔ خیبر پختونخوا میں اس کا رجحان قدرے زیادہ ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی مذہبی وابستگی تو ہو سکتی ہے، کسی خاص ایشو پر وہ حساس ہو سکتے ہیں، جیسے ختم ِ نیوت کا معاملہ ہے، عشقِ رسول کا معاملہ ہے، لیکن مجموعی طور پر وہ مذہبی جماعتوں کو ووٹ نہیں دیتے۔ تحریکوں کے علاوہ مذہب کا کردار نہیں ہے، کم از کم الیکشن میں نہیں ہے۔'

طاہر مہدی کا خیال ہے کہ مذہبی وابستگی اکیلی اتنی اہم نہیں کہ آپ کو ووٹ دلائے۔ 'صرف کچھ علاقے ہیں جہاں مذہب اتنا حاوی ہو گیا ہے کہ دیگر شناختیں دب کر رہ گئی ہیں۔'

کیا یہ علاقے کسی جغرافیائی حدود میں بند ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ 'ایسے علاقے ہر جگہ ہیں، پگڑیوں اور ان کے رنگوں کی صورت میں نظر آتے ہیں، ایسے لوگوں کو اپنی مذہبی شناخت سب سے زیادہ عزیز ہے، وہ صرف اسی پر ووٹ دیں گے۔'

اسد لیاقت بھی کہتے ہیں کہ مذہب کبھی بھی انتخابات میں مرکزی بیانیہ بن کر سامنے نہیں آیا کہ لوگ اس کی بنیاد پر ووٹ ڈالیں۔

'ہم نے حال ہی میں ہیرالڈ میگزین کے ساتھ سروے کیا تھا جس میں یہ ظاہر ہوا کہ مذہبی جماعتیں دین کے نام پر ووٹ مانگتی ہیں لیکن وہ کوئی خاطر خواہ مقبولیت نہیں رکھتیں۔'

کرشماتی شخصیت

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ Anadolu Agency

پاکستانی سیاست میں شخصی اہمیت کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ چاہے وہ 70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے بعد ان کی صاحبزادی بےنظیر یا پھر کراچی سے سامنے آنے والے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین۔ فوجی آمر کے زیر سایہ اپنا سیاسی کرئیر شروع کرنے والے تین دفعہ کے وزیر اعظم نواز شریف ہوں، یا پاکستان کے سب سے کامیاب کرکٹر عمران خان۔ ان تمام کی شخصی پسندیدگی ان کی جماعتوں کی کامیابی کی وجہ بنی ہے۔

تو کسی ووٹر کے ذہن پر ووٹ ڈالتے وقت رہنما یا امیدوار کی ذاتی مقبولیت کتنی اثرانداز ہوتی ہے؟

اس بارے میں اسد لیاقت نے کہا کہ اس کی اہمیت کافی ہوتی ہے کہ پارٹی کا رہنما مقبول ہو کیونکہ عوام اسے اپنا رہبر مانتے ہیں۔

'نواز شریف اس حوالے سے ایک مختلف حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کی شخصیت میں وہ کرشماتی عنصر نہیں ہے، لیکن وہ متوسط طبقے کی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ طبقہ اسی لیے ان کا گرویدہ ہے۔'

دوسری جانب بدر عالم کے نزدیک پاکستان میں مقبول سیاستدانوں نے عوام میں مختلف سطح پر اپنی دھاک بٹھائی۔ کسی رہنما نے نظریاتی بنیادوں پر مقبولیت حاصل کی تو کسی نے ذاتی حیثیت میں ان کی حمایت حاصل کی۔

'یہ مقبولیت کسی حد تک تو ووٹروں کو باہر نکلنے پر مجبور کرتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے ووٹ ڈالتے ہیں۔'

قومیت یا نسل

الیکشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

21ویں صدی میں پاکستان میں ہونے والے یہ چوتھے انتخابات ہوں گے اور گذشتہ تین انتخابات میں جو بات سامنے ابھر کر آئی ہے کہ دو سیاسی جماعتوں نے صوبائی طور پر اپنی اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے کہ اس سے تاثر ملتا ہے کہ ووٹنگ قومیت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔

کیا یہ حقیقت ہے یا مفروضہ، اس بارے میں ہیرالڈ کے بدر عالم نے کہا کہ قومیت کا معاملہ پاکستان کے سیاسی اور معاشی نظام میں انفرادی طور پر معنی نہیں رکھتا۔

'اگر جنوبی پنجاب کے لوگ خود کو سیاسی اور معاشی طور پر غیر اہم نہیں سمجھتے تو میرا نہیں خیال کہ وہ کبھی بھی ان جماعتوں کی بات سنیں جو سرائیکی بمقابلہ پنجابی کے مسئلے پر سیاست کرتی ہیں۔'

انھوں نے ایم کیو ایم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب سندھ کے شہری علاقوں میں نوجوان اور پڑھے لکھے لوگوں کو نوکریاں نہیں ملیں اور ان کو لگا کہ ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے، تو اس جماعت کی مقبولیت بڑھی لیکن اس سے پہلے جو مہاجر قومیت کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتیں تھیں وہ کبھی کامیاب نہیں تھیں۔

قومیت کے سوال پر اسد لیاقت نے بی بی سی کو بتایا کہ سکالر اور محقق ڈاکٹر علی چیمہ کے ساتھ ان کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذات اور قومیت پنجاب کے شہری علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے اہم کردار نہیں رکھتی اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں اس کی کچھ اہمیت ہے لیکن دیگر وجوہات کے مقابلے میں پھر بھی کم ہے۔'

'سندھ میں البتہ صورتحال ایسی ہے کہ پی پی پی کو ہی ایک ایسی جماعت سمجھا جاتا ہے جو سندھیوں کے حقوق کے لیے بات کرے گی اور اس باوجود اس حقیقت کے کہ پیپلز پارٹی کی کارکردگی صوبے میں کافی ناقص رہی ہے، ان کی مقبولیت ابھی بھی انھیں ووٹ دلانے میں کامیاب رہتی ہے اور دوسری جانب سندھ کے عوام کو مہاجر حکومت منظور نہیں ہے۔'

لائن
الیکشن

۔

اسی بارے میں