’نواز شریف کے دل کی حالت تسلی بخش نہیں ہے‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹرز کے مطابق اس کے باوجود کہ نواز شریف کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا وہ کسی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی نہیں دیے

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور نیب ریفرنس میں سزا یافتہ قیدی نواز شریف کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کی رائے ہے کہ نواز شریف کے دل کی طبی حالت بہت اچھی نہیں ہے اور اگر یہ حالت بہتر نہیں ہوتی تو انھیں انجائنا کا دورہ پڑنے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی دس برس قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں۔ اتوار کو ان کی طبیعت کی ناسازی کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ان کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کی ٹیم نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم کی حالت پانی کی کمی اور زیادہ پسینہ بہہ جانے کی وجہ سے خراب ہوئی ہے۔

اس کے بعد پیر کو اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے پانچ رکنی بورڈ نے نواز شریف کا جیل میں تفصیلی معائنہ کیا تھا اور بعض ٹیسٹ بھی کیے تھے۔

نواز شریف کی اب تک کی رپورٹس کے مطابق، جس کی ایک نقل بی بی سی کے پاس موجود ہے، نواز شریف کے دل کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نواز شریف کی طبیعت ناساز، جیل سے پیغام جاری

'سر صرف پی ٹی وی ہوم اور پی ٹی وی سپورٹس کی اجازت ہے'

’نواز شریف کو مناسب سہولیات فراہم کی جائیں‘

’نواز شریف کا ٹرائل جیل کی بجائے اوپن کورٹ میں ہو گا‘

’جیل تو جانا ہے دعا کرو پیروں پر چل کر جائیں‘

ان رپورٹس میں ای سی جی بھی شامل تھی۔ ای سی جی کی رپورٹ ڈاکٹرز کے مطابق ٹھیک نہیں آئی اور اس میں کچھ وقفے دکھائی دے رہے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ دل کی دھڑکن میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

ڈاکٹرز کی رائے میں نواز شریف کے دل کا بائی پاس ہو چکا ہے اس کے باوجود ان کے دل کی دھڑکن مناسب نہیں ہے اور دل کو مناسب الیکٹرک کرنٹ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن کسی وقت بے ترتیب ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے سینے کے بائیں جانب سانس اور اس کی آواز ہموار نہیں ہے جو دل کے والو میں گڑبڑ کی نشاندہی کر رہی ہے۔

اس صورتحال کی مزید تحقیق کے لیے منگل کو دل کے ڈاکٹرز اور عملے نے جیل ہی میں نواز شریف کے دل کی ’ایکو گرافی‘ اور بعض دیگر ٹیسٹ کیے جن کی رپورٹ بدھ تک تیار کر لی جائے گی۔

اس رپورٹ کی تیاری کے بعد پمز ہسپتال کا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ جمعرات کو نواز شریف کا دوبارہ تفصیلی معائنہ کرے گا جس کی بنیاد پر انہیں ہسپتال منتقل کرنے یا نہ کرنے کی حتمی رائے دے گا۔

تاہم ان ڈاکٹرز کی ابھی تک رائے یہی ہے کہ مریض کے دل کی موجودہ حالت اور میڈیکل ہسٹری کے پیش نظر انھیں ہسپتال منتقل کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے باوجود کہ انھیں جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات میں کافی بہتری آئی ہے، انھیں آرام دہ ماحول فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔

نواز شریف نے ڈاکٹرز کو معائنے کے دوران بتایا کہ انھیں ایک غذائی ماہر کی نگرانی میں کم پروٹین والی مناسب خوراک دی جارہی ہے جس میں مرغی کا گوشت اور سبزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ دہی کا استعمال باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔

انھوں نے ڈاکٹرز کو یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے سیل سے ملحق برآمدے میں ایک گھنٹہ چہل قدمی بھی کرتے ہیں۔ اس پر ڈاکٹرز نے انہیں چہل قدمی کا وقت کم کرنے کا مشورہ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی دس برس قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں

ڈاکٹرز کی رائے میں نواز شریف کے کمرے میں مناسب صفائی تھی اور کسی قسم کی بدبو نہیں آ رہی تھی اس کے باوجود کہ ان کے کمرے کے اندر موجود دروازہ پانچ فٹ سے اوپر کھلا ہوا ہے۔

ان کی لوہے کی چارپائی پر فوم کا گدا تھا جس پر سفید رنگ کی صاف چادر بچھی تھی۔ ان کے کمرے میں سپلٹ ائیرکنڈیشنر چل رہا تھا جسے نواز شریف نے خود 25 ڈگری پر رکھا ہوا تھا۔

ڈاکٹرز نے پولیس اور جیل عملے کی موجودگی میں یہ سارا عمل مکمل کیا اور ان سے یہ بھی پوچھا کہ انھیں کوئی اور تکلیف تو نہیں ہے جس پر نواز شریف نے مسکراتے ہوئے نفی میں جواب دیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق اس کے باوجود کہ نواز شریف کا بلڈ پریشر بڑھا ہوا تھا وہ کسی قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی نہیں دیے۔

ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق قیدی ہوش میں، ہشاش بشاش تھا اور انہوں نے عملے کے ساتھ مکمل تعاون کیا۔

اس کے باوجود ڈاکٹرز کا خیال ہے کہ نواز شریف کی طبی صورتحال انہیں زیادہ دن جیل میں گزارنے نہیں دے گی اور جلد یا بدیر انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں