الیکشن اور لو میرج

فاٹا والوں کو پہلی بار اپنے علاقے میں جماعتی بنیاد پر منعقد انتخاب میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر اپنا نمائندہ چننے کا موقع ملے گا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آج پولنگ سٹیشنوں کے باہر قطار میں دو طرح کے ووٹر ہوں گے۔ ایک وہ جو خود چل کے پہنچے، دوسرے وہ جو لائے گئے۔ جو خود پہنچیں گے انھیں نسبتاً آزادی ہو گی کہ وہ اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے سٹال پر جا کر ووٹ نمبر اور نام کی پرچی بنوا سکیں۔

جو گھروں سے لائے گئے ہوں گے ان میں سے بیشتر کے پاس شاید پہلے سے پرچیاں ہوں یا پھر امیدوار کے کارکن انھیں کسی مخصوص سیاسی سٹال پر لے جائیں اور پرچی بنوا کر ایک دستی اشتہار یہ کہتے ہوئے تھمائیں: ’بس تسی ایس نشان تے مہر لانی اے، کیہ سمجھے!‘

آج سب سے زیادہ خوش فاٹا اور کراچی کے ووٹر ہوں گے۔ فاٹا والوں کو پہلی بار اپنے علاقے میں جماعتی بنیادوں پر منعقدہ انتخابات میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر اپنا نمائندہ چننے کا موقع ملے گا اور کراچی کے اکثر ووٹروں کو تیس برس بعد ہاتھ سے ووٹ ڈالنے کا مزہ آئے گا۔

آخری بار انہوں نے 1988 میں اپنے ہاتھ سے ووٹ ڈالا تھا۔ اس کے بعد جتنے بھی الیکشن ہوئے ان کا ووٹ خود بخود اڑ کے بیلٹ بکس میں جا کر بیٹھ گیا۔ آج سسپنس اپنے مالک کا ہاتھ پکڑ کے پولنگ بوتھ تک جائے گا ووٹ ڈلوائے گا اور غیر متوقع نتیجہ دکھائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی میں مذہب اور مسلک کی بنیاد پر ووٹ

’انتخابی مہم میں غالب رنگ بےیقینی اور تقسیم کا رہا‘

ٹرانسجینڈر امیدوار بھی انتخابی میدان میں سرگرم

تینوں صوبوں کی طرح آج بلوچستان میں بھی پولنگ ہو رہی ہے۔ کیسی ہو رہی ہے، کتنی ہو رہی ہے، کیوں ہو رہی ہے، ان سوالوں کا جواب بلوچستانی جانیں یا انتخاب کروانے والے۔ چاروں صوبوں میں بلوچستان شاید واحد صوبہ ہے جہاں پچھلے کئی برس سے ووٹر کو کم اور امیدوار کو ووٹر کی زیادہ ضرورت ہے۔ لاکھ ووٹ کے حلقے میں ساڑھے سات سو بھی ڈل جائیں تو بھی چلتا ہے۔ روکھی سوکھی جمہوریت ہی سہی، مل تو رہی ہے۔

آئیڈیل انتخابات لو میرج کی طرح ہیں۔ لڑکی لڑکے نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ ملاقاتیں ہوئیں۔ پسند کیا۔ تب کہیں جا کے والدین کو اعتماد میں لیا اور منایا۔ والدین نے ضروری انتظام کیا۔ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ شادی ہنسی خوشی چلی تو سبحان اللہ، نہ چلی تو میں اپنے گھر تو اپنے گھر۔ نیا فیصلہ میری زندگی اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔

مگر موجودہ انتخابات کی تیاریاں دیکھ کر بہت سوں کو کیوں لگ رہا ہے گویا آج ووٹر اور بیلٹ بکس کی ارینج میرج ہے۔ رشتہ والدین نے تلاش کیا۔ جہیز میں کیا دینا کیا لینا ہے، کھانا کیا پکے گا، قاضی کون ہو گا، بارات کیسے اور کتنے بجے آئے گی، نکاح کب ہو گا، مہر کتنا طے ہو گا۔ لڑکی کا سر پکڑ کے تین بار کون ہلائے گا اور ’قبول ہے قبول ہے‘ کہتے ہوئے ہوا میں چھوارے کون اچھالے گا۔ سب کچھ تو بزرگوں نے طے کر دیا۔

لڑکے لڑکی کو صرف دولھا دلھن کا کردار نبھانا ہے اور ووٹروں کی دعاؤں کے سائے میں رخصت ہونا ہے۔ باقی ایام بزرگوں کی شفقت کے زیرِ سایہ گزارنے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہو سکتا ہے لڑکی کا جی چاہے ایسی شادی سے بہتر ہے پچھلی کھڑکی سے کود کر کہیں بھاگ جائے مگر جائے کہاں اور کس کے ساتھ؟

یہ سب فضولیات اس وقت دل و دماغ پر چھائی ہوئی ہیں مگر برادری میں رہنا ہے تو شادی میں تو شرکت کرنی ہو گی۔ دنیا والوں کے سامنے مسکرانا تو ہو گا۔

پچھلے انتخاب میں ووٹ دینا مجھے کتنا آسان لگ رہا تھا۔ تبدیلی چاہیے تو بلا، نہیں چاہیے تو تیر، سٹیٹس کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو بدلنا ہے تو شیر کی پیٹھ۔

پر اس بار مینیو خاصا تبدیل ہے۔ اگر لبیک کو ووٹ دے دوں تو جنت کا پکا وعدہ، ن کو دوں تو ووٹ کی عزت بحال کرنے کا وعدہ، تحریکِ انصاف کو ووٹ دوں تو نیا پاکستان دکھانے کا خواب، ایم کیو ایم کی پتنگ اڑاؤں تو ڈور کٹنے کا ڈر۔

متحدہ مجلسِ عمل کو ووٹ تو دے دوں مگر 1970 سے اب تک ایم ایم اے کی جماعتیں اسلام نافذ ہی کیے چلی جا رہی ہیں اور اسلام ہے کہ ان کے ہاتھوں نافذ ہونے پر آمادہ ہی نہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کو ووٹ دے تو دوں مگر یہ تو پتہ چلے کہ یہ اس وقت کس سوچ میں ہے؟ شیر کے ساتھ جانا چاہتی ہے یا شکاری کے ساتھ یا دونوں کے ساتھ؟

بہت سے آزاد امیدوار بھی ہیں۔ ان میں جبران ناصر بہت اچھی باتیں کر رہا ہے، مگر ان باتوں کے بدلے فیس بک پر جبران کو جتنے لائکس مل رہے ہیں اگر ان کا ایک چوتھائی بھی ووٹ پڑ جائے تو بات بن جائے۔ مگر میں جبران کو اس لیے ووٹ نہیں دینا چاہتا کہ بڑا ہو کر یہ بھی عمران خان بن گیا یا بنا دیا گیا تو؟

پہلے زمانے میں میڈیا کی مدد سے بھی دماغ کسی فیصلے پر پہنچ جاتا تھا۔ لیکن جب ہر چینل اور اخبار کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا بادشاہ گر کا گرگا لگنے لگے تو ووٹ پھر کسے دوں؟

میرے قدم تو پولنگ سٹیشن کی طرف اٹھ رہے ہیں مگر ہر قدم کے ساتھ میں سعادت حسن منٹو کا بشن سنگھ آف ٹوبہ ٹیک سنگھ بنتا جا رہا ہوں۔ اوپڑ دی گڑگڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی وال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ آف پاکستان۔۔

میں بشن سنگھ نئے پاکستان میں جانا چاہتا ہوں نہ پرانے پاکستان میں رہنا چاہتا ہوں۔ میں تو بس پولنگ سٹیشن کے اوپر سایہ ڈالے برگد پر رہنا چاہتا ہوں۔ وہیں بیٹھے بیٹھے بیلٹ پیپر کا جہاز بنا کر اڑانا چاہتا ہوں۔

نہ بھیج نہ مائے مجھ کو۔ میں نئیں جانا نئیں جانا۔ میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال ۔۔۔

دل اندر جانے سے روک رہا ہے پر دماغ آگے دھکیل رہا ہے۔۔ شناختی کارڈ دکھائیے، یہ لیجیے بیلٹ پیپر، پردے کے پیچھے چلے جائیے، مہر وہیں ہے۔ مہر لگاؤ جہاں بھی پڑ جائے۔ ارینج میرج میں پوچھنا کیا دیکھنا کیا، قبول ہے قبول ہے، مبارک سلامت۔ ووٹر کون ہے اہم نہیں، اہم یہ ہے کہ گنتا کون ہے؟

مگر میری بقراطیوں میں ہرگز ہرگز نہیں آئیے گا۔ آج ووٹ ضرور دیجیے لیکن جوق در جوق۔ تنہا ووٹ فرق ڈالے نہ ڈالے جوق در جوق ضرور ڈالتا ہے۔ اتنا ووٹ ڈالو کہ گنتی کرنے والے گھبرا جائیں۔ جمہوریت ایسے ہی تو دبے پاؤں آتی ہے۔ کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

اسی بارے میں