کوئٹہ خودکش حملے میں 31 ہلاک، دولتِ اسلامیہ نے ذمہ داری قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد قریبی پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ کا سلسلہ روک دیا گیا تھا جو بعد میں بحال کر دیا گیا

پاکستان میں عام انتخابات کے موقع پر صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں بدھ کی صبح ہونے والے خودکش دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کر لی ہے۔

خودکش حملے میں حکام کے مطابق کم از کم 31 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم نے اس بات کا اعتراف نے اپنی نیوز ایجنسی اعماق پر جاری ایک بیان میں کیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ کے حوالے سے بتایا کہ کوئٹہ کے مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ایک پولنگ سٹیشن کے قریب ایک خودکش حملہ ہوا اور حملے کے وقت ڈی آئی جی کوئٹہ عبد الرزاق چیمہ قریبی پولنگ سٹیشن کے دورے پر تھے اور ان کو اس حملے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

عام انتخابات میں پولنگ: بی بی سی کی لائیو کوریج

’مستونگ میں خودکش حملہ کرنے والا سندھ کا رہائشی تھا‘

مستونگ خود کش حملہ: 128 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

مستونگ دھماکہ: ’تین بیٹے دیکھنے گئے تھے، تینوں مارے گئے‘

اطلاعات کے مطابق حملے کے بعد قریبی پولنگ سٹیشن پر ووٹنگ کا سلسلہ روک دیا گیا تھا جو بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔

کوئٹہ میں سول ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ نے بھی تصدیق کی ہے کہ دھماکے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 31 ہو گئی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں انتخابات سے قبل بھی انتخابی مہم کے دوران کئی دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے مستونگ میں ایک امیدوار کی کارنر میٹنگ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی سمیت سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے چند دن پہلے پشاور میں بھی عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ میں ہونے والے دھماکے میں ہارون بلور ہلاک ہو گئے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے لیے بلوچستان سمیت ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں قائم پولنگ سٹیشنز کی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور صوبے میں 60 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار ڈیوٹی پر معامور ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں