خیبر پختونخوا سے پارٹی سربراہان کیوں ہار گئے؟

مولانا فضل الرحمان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے عام انتخابات میں جہاں پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق دیگر پارٹیوں کے امیدواروں پر واضح برتری حاصل کی ہے وہاں اسی صوبے سے ملک کی چھوٹی بڑی، بہت سی سیاسی پارٹیوں کے سربراہان کو بھی زیادہ تر پی ٹی آئی ہی کے امیدوارں کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

پارٹی سربراہان جو آبائی حلقوں سے بھی ہار گئے

انتخابات میں جیپ چلی نہ شیر دھاڑا

مولانا فضل الرحمان، جمعیت علمااسلام

گذشتہ کئی دہائیوں سے انتخابات میں جیتنے والے جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فصل الرحمان بھی اپنے آبائی علاقہ ڈی آئی خان کے دو حلقوں این اے 38 اور این اے 39 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے لیکن دونوں ہی حلقوں سے وہ ہار گئے ہیں۔

اس حلقہ سے پی ٹی آئی کے علی امین خان نے 80236 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان 45457 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

اسی طرح پی ٹی آئی ہی کے امیدوار محمد یعقوب شیخ نے 5511 ووٹ لے کر حلقہ این اے 39 میں فضل الرحمان کو شکست دی ہے جبکہ مولانا 4076 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

سراج الحق،جماعت اسلامی

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI/GETTY IMAGES

جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اپنے آبائی حلقے لوئیر دیر کے حلقہ این اے 7 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے جہاں پی ٹی آئی کے امیدوار محمد بشیر نے 63017 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی ہے۔

اس حلقے سے کل آٹھ امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ سراج الحق 46046 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار نظیر خان 19543 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر رہے۔

مذہبی پارٹیوں کے سربراہان کی شکست پر تجزیہ کار نورین نصیر کہتی ہیں کہ اب عوام مزید اسلام کے نام پر ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے اور یہ عوام کو ملک میں کئی دہائیوں سے جاری جنگ نے سکھایا ہے کہ 'جہاد' کے نام پر انہیں مزید دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ عمران خان پر بھی الزامات لگائے جاتے ہیں کہ وہ شدت پسندوں کے ہمدرد ہیں، تو اس کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ عمران خان کو یہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ شدت پسندوں سے ڈائیلاگ کی بات کرتے ہے لیکن وہ کسی کو 'جہاد' کی ترغیب نہیں دیتے۔

'عوام کسی بھی طریقے سے ملک میں دہشتگردی کی اس جنگ کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے ڈائیلاگ کے ہی ذریعے کیوں نہ ہو۔ لیکن اب دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی اپنے دعووں پر پوری اترے گی یا نہیں۔'

اسفندیار ولی خان،عوامی نیشنل پارٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان اپنے آبائی علاقہ حلقہ این اے 24 سے انتخابات لڑ رہے تھے جہاں پی ٹی آئی کے فضل محمود خان نے 83495 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔

اسفندیار ولی خان 59483 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

اسفندیار کی شکست کی وجہ نورین نصیر نے یہ بتائی کہ چونکہ انہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کے بارے میں سوچ سمجھ سے کام نہیں لیا۔

نورین نصیر کہتی ہے کہ ان کے بیٹے ایمل ولی خان کئی دفعہ پی ٹی ایم پر تنقید بھی کر چکے ہیں لیکن بحیثیت پارٹی سربراہ اسفندیار ولی کا اس پر واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم چونکہ اسفندیار 2013 کے عام انتخابات میں بھی ہار چکے تھے اور دوبارہ اپنے آبائی حلقہ سے ہارے ہیں تو پارٹی کی پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر غور بھی کیا جانا چاہیے۔

آفتاب شیرپاؤ(قومی وطن پارٹی)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ کو بھی اپنے آبائی حلقے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس حلقے سے پی ٹی آئی کے انور تاج 59371 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ آفتاب شیرپاؤ 33561 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

نورین نصیر نے بتایا کہ افتاب شیرپاؤ کا لوگوں کے ساتھ رابطہ نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام ہمیشہ پارٹی کے سربراہ کو اپنے درمیان دیکھنا چاہتے ہیں۔

عائشہ گلالئی، پی ٹٰی آئی(گلالئی)

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK/PTI

پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی سابق خاتون رہنما عائشہ گلالئی جو پاکستان تحریک انصاف (گلالئی) پارٹی کی سربراہ ہیں، کو ضلع نوشہرہ کے حلقہ این اے 25 میں پی ٹی آئی کے امیدوار اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ہاتھوں شکست ہوئی ہے۔

پرویز خٹک 82118 ووٹوں کے ساتھ پہلے، پی پی پی کے پرویز خان 35658 ووٹوں کے ساتھ دوسرے اور متحدہ مجلس عمل کے سید ذوالفقار شاہ تیسرے نمبر پر رہے۔

عاشئہ گلالئی کل 9 امیداروں میں 959 ووٹوں کے ساتھ ساتویں نمبر پر رہی۔

عائشہ گلالئی اسلام آباد کے حلقہ این اے 53 سے مسلم لیگ نواز کے شاہد خاقان عباسی اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے بھی مدمقابل تھیں۔ عمران خان اسی حلقے سے 92891 ووٹوں کے ساتھ پہلے جبکہ شاہد خاقان عباسی 44314 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

تجزیہ کار نورین نصیر نے بتایا کہ عائشہ گلالئی کو پہلے تو اپنی پارٹی کو قائم کرنے پر بھرپور انداز میں کام کرنا چاہیے تاکہ وہ عوام میں مقبول ہو سکیں۔

دوسری اہم بات نورین نصیر کے مطابق یہ ہے کہ پاکستان کے پدری معاشرے میں خواتین کا کسی بھی حلقے سے کھڑے ہو کر مردوں کو ہرانا مشکل کام ہے۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں تمام نتائج الیکشن کمیشن کی اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ فارم47 سے لیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں