الیکشن 2018: پی ٹی ایم رہنماؤں کی انتخابات میں جیت، تنظیم کا کیا بنے گا؟

محسن داوڑ تصویر کے کاپی رائٹ Mohsin Dawar/ Twiiter
Image caption اداروں پر بے جا تنقید کبھی نہیں کی اور اب بھی وہی تنقید کریں گے اور حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے: محسن داوڑ

پاکستان میں پشتونوں کے ’حقوق‘ کے لیے آواز بلند کرنے کا دعویٰ کرنے والے تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے سرکردہ ارکان محسن داوڑ اور علی وزیر آزاد حیثیت سے وزیرستان سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے حلقہ این اے 48 سے انتخابات میں حصہ لینے والے پی ٹی ایم کے محسن داوڑ الیکشن سے پہلے انتخابی مہم کے دوران پاکستانی اداروں پر مختلف الزامات بھی لگا چکے ہیں۔

انتخابات سے ایک روز قبل انھوں نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا تھا کہ انتخابی مہم کے شروع دن سے اب تک ’ملٹری اسٹیبلشمنٹ‘ اور ’سکیورٹی فورسز‘ نے اپنی بھرپور کوشش کی تاکہ ان کے حامیوں کو روک سکیں۔

کیا پی ٹی ایم اصل مقصد سے ہٹ گئی؟

پی ٹی ایم: مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ

ایک دوسری ٹویٹ میں انھوں نے یہ دھمکی بھی دہ تھی کہ اگر دھاندلی کی گئی تو ریاست ماضی کے دھرنے بھول جائے گی۔

یاد رہے پشتون تحفظ موومنٹ نے پچھلے مہینوں میں ملک کے تمام بڑے شہروں میں اپنے حقوق مانگنے کے لیے مظاہرے کیے تھے جس کے بعد محسن داوڑ اور علی وزیر نے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور تنظیم کے بانی رہنما منظور پشتین سرکردہ رہنماؤں میں اکیلے رہ گئے۔

تمام الزامات کے باوجود محسن داوڑ اور علی وزیر، وزیرستان سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 48 اور این اے 50 سے کامیاب ہوئے۔ یہ دونوں ان کے آبائی حلقے تھے۔ سنہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی ان دونوں امیدواروں نے حصہ لیا لیکن ان کو کامیابی نہیں ملی تھی۔

محسن داوڑ نے 16496 ووٹ لے کر متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مصباح الدین کو شکست دی۔ اسی حلقے سے کل 35 امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ اسی طرح علی وزیر(محمد علی) نے حلقہ این اے 50 سے 23530 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ دوسرے آزاد امیدوار سید طارق گیلانی 8250 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

Image caption اکثر لوگ یہ خیال ظاہر کر رہے ہیں کہ پی ٹی ایم کے بعض عہدیدار کسی ' ڈیل' کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں جس کا بظاہر مقصد تحریک کو کمزور کرنا ہے

اداروں کے بارے میں موقف

محسن داوڑ اور علی وزیر کے انتخابات میں حصہ لینے پر پی ٹی ایم کے کچھ حامیوں اور تجزیہ کاروں نے یہ کہہ کر تنقید بھی کی تھی کہ ان کے انتخابات میں حصہ لینے کی وجہ سے پی ٹی ایم کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

اپنے حلقے میں موجود محسن داوڑ نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ ان کو انتخابی مہم میں مسئلے ضرور آئے تھے لیکن ان کی حمایت اتنی زیادہ تھی کہ کوئی بھی ان کے حامیوں کو نہیں روک سکا۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اب بھی وہ اس طرح پاکستانی اداروں پر تنقید اور 'حقوق' کے لیے آواز بلند کریں گے، تو ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’بے جا تنقید کبھی نہیں کی اور اب بھی وہی تنقید کریں گے اور حقوق کے لیے آواز بلند کریں گے۔‘

'جس طرح پہلے جائز تنقید کرتے تھے اور انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتے تھے وہ بھی کریں گے۔ پارلیمنٹ کے باہر بھی کریں گے اور اندر بھی کریں گے اور اس میں کسی قسم کے کمپرومائز کی گنجائش نہیں ہوگی۔ اگر میں کمپرومائز کرتا تو مجھے پارٹیوں سے ٹکٹ دینے کی پیشکش بھی ہوئی تھی جو میں نے ٹھکرائی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Ali Wazir/Twitter
Image caption علی وزیر(محمد علی) نےحلقہ این اے 50 سے 23530 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی

پی ٹی ایم کو فائدہ یا نقصان

کیا محسن داوڑ اور علی وزیر کے پارلیمنٹ جانے کے بعد پی ٹی ایم پر اثر پڑے گا، اس کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ پی ٹی ایم کو جب بھی حتیٰ کے انتخابی مہم کے دوران ضرور پیش آئی ہے ہم وہاں گئے ہے۔

انھوں نے مزید بتایا،'پارلیمان کے ساتھ پی ٹی ایم کو لیڈ کرنا اتنا مشکل کام نہیں ہے کیونکہ پی ٹی ایم جس مقصد کے لیے بنی ہے پارلیمانی سیاست بھی میری اسی طرح ہوگی۔‘

پی ٹی ایم پر ابتدا ہی سے نظر رکھنے والے تجزیہ کار ڈاکٹر خادم حسین سمجھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے محسن داوڑ اور علی وزیر تنظیم کے بہتر مفاد میں ہوں گے۔

انھوں نے کہا، ’پی ٹی ایم کو اپنی سرگرمیاں کرنے میں مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اگر اس قسم کا کوئی مسئلہ پی ٹی ایم کو درپیش آتا ہے تو یہ دونوں نمائدے پارلیمان میں آواز اُٹھائیں گے۔'

کیا پی ٹی ایم ان دونوں سرکردہ رہنماؤں کے بغیر چل پائے گی، اس کے جواب میں خادم حسین کا کہنا تھا کہ تنظیم نے اگر اپنے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا تو یہ نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے اور ان کے مطابق ان کو لیڈرشپ کا مسئلہ پیش نہیں آئے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پارلیمان میں ہونے کا فائدہ

خادم حسین کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کا اپنا ایک ضابطہ اخلاق ہوتا ہے اور انہی کے اندر وہ کسی بھی جائز مطالبات اور مسئلے پر پارلیمان میں بات کر سکتے ہیں۔‘

قبائلی صحافی رسول داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگر محسن داوڑ اور علی وزیر وفاق میں پی ٹی آئی کے ساتھ حکومتی بینچوں پر بیٹھتے ہیں تو یہ ان کے لیے اور بھی فائدہ مند ہوگا کیونکہ ماضی میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اسی تنظیم کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

’پی ٹی آئی نے علی وزیر کے مخالف اپنا امیداور بھی کھڑا نہیں کیا تھا اور مجھے لگتا ہے پی ٹی ایم کے جائز مطالبات کو ماننے کے لیے تنظیم کو ابھی پارلیمان ایک اچھا پلیٹ فارم حاصل ہوگا۔‘

پی ٹی ایم کے بانی رہنما منظور پشتین نے محسن داوڑ اور علی وزیر کی جیت پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پی ٹی ایم ایک غیر سیاسی تنظیم ہے اور اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

ان رہنماؤں کی جانب سے پارلیمان میں پی ٹی ایم کے لیے آواز اٹھائے جانے کے امکان پر ان کا کہنا تھا کہ ’کوئی پارلیمان میں آواز اٹھائے یا نہ اٹھائے لیکن پی ٹی ایم عوام کی تنظیم ہے اور عوام کے حقوق کے لیے کاوشیں جاری رکھے گی۔‘

اسی بارے میں