تحریک لبیک پاکستان کی کامیابی، دیگر مذہبی جماعتیں ناکام

ملی مسلم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کراچی میں ناظم آباد ویمن کالج پولنگ سٹیشن کے باہر موجود 35 سالہ شخص سے ہم نے معلوم کیا کہ کس کو ووٹ دیا تو اس کا جواب تھا تحریک لبیک پاکستان۔

ہمارا دوسرا سوال یہ تھا کہ اس سے پہلے کس کو ووٹ دیتے تھے؟ تو اس نے بتایا ایم کیو ایم کو اور اس کی وجہ متبادل کا نہ ہونا بتایا۔ حالیہ انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان شہر کی روایتی مذہبی جماعتوں جماعت اسلامی اور جے یو آئی سے بھی آگے نکل گئی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کی کامیابی

کراچی سے تحریک لبیک پاکستان نے دو صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے یہ دونوں حلقے متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ رہے ہیں۔ پی ایس 107 لیاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کے جاوید ناگوری امیدوار تھے جبکہ تحریک لبیک کے یونس سومرو نے انھیں شکست دی ہے۔

لیاری ٹاؤن کا پی ایس 104 کا علاقہ سندھی زیادہ تر کچھی کمیونٹی پر مشتمل ہے۔ گذشتہ تین انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کچھی کمیونٹی کو نظر انداز کرکے دیگر امیدواروں کو ٹکٹ دیا جبکہ عزیر بلوچ کی قیادت میں پیپلز امن کمیٹی سے تصادم کی وجہ سے بھی یہ علاقہ متاثر ہوا اور درجن سے زائد لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ جس نے یہاں پی پی مخالف جذبات کو جنم دیا اور نتیجے میں بلدیاتی انتخابات میں یہاں کے اکثریت نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک لبیک پاکستان نے پنجاب میں جنم لینے اور مقبولیت کے باوجود اس نے دو نشستیں کراچی سے لی ہیں

تحریک لبیک کے حصے میں دوسری نشست پی ایس 115 بلدیہ آئی ہے، جہاں سے مفتی محمد قاسم فخری نے 21000 سے زائد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ علاقہ ایم کیو ایم پاکستان کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، ایم کیو ایم کے انتشار اور پروگریسو ووٹر کے باہر نہ نکلنے کا فائدہ تحریک لبیک کو پہنچا۔

تحریک لبیک نے قومی اسمبلی کی 175 نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے جبکہ پنجاب اسمبلی کے امیدواروں کی تعداد 364 جبکہ سندھ میں 68 امیدوار تھے۔

پنجاب میں جنم لینے اور مقبولیت کے باوجود اس نے دو نشستیں کراچی سے لی ہیں جبکہ قومی اسمبلی کی تین نشستوں پر اس کے امیدوار دوسرے نمبر پر ہیں جن میں لیاری سے احمد بلال قادری نے 42345 ووٹ حاصل کیے ہیں، ان کے ووٹوں کی تعداد بلاول بھٹو سے زیادہ ہے۔ بلال قادری سنی تحریک کے بانی سلیم قادری کے بیٹے ہیں۔

تجزیہ نگار ضیاالرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی میں مہاجر ووٹ کو تحریک لبیک نے بڑا ڈینٹ کیا ہے جس کا مجموعی فائدہ تحریک انصاف کو پہنچا ہے۔ ماضی میں جمعیت علمائے پاکستان ایک بڑی بریلوی جماعت کے طور پر کراچی میں موجود تھی جس کا ایک بڑا ووٹ بینک ایم کیو ایم بننے کے بعد وہاں چلا گیا۔

’تحریک لبیک کی صورت میں ایسا لگ رہا ہے کہ بریلوی سیاست دوبارہ زندہ ہوئی ہے اور وہ ایک مضبوط سٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں ان کا اثر زیادہ تر کچھی، میمن آبادیوں اور مہاجر غریب بستیوں سے ووٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔‘

تحریک لبیک پاکستان گذشتہ ایک سال کے عرصے میں اپنی تنظیم سازی کی اور ختم نبوت کے نام پر ووٹ مانگا، گذشتہ سال نومبر میں اراکین پارلیمینٹ کے حلف نامے پر اسلام آباد راولپنڈی انٹرچینج پر ایک طویل دھرنا دیا تھا، جو احتجاج بعد میں ملک بھر میں پھیل گیا۔ یہ تنظیم ممتاز قادری کو اپنے ہیرو کے طور پر پیش کرتی ہے، جس کو پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ RaheHaq/Facebook
Image caption کالعدم سپاہ صحابہ کے مرکز جھنگ سے راہ حق پارٹی کسی ایک نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے

پاکستان راہ حق پارٹی کی شکست

کالعدم سپاہ صحابہ جو اس وقت اہل سنت و الجماعت کے نام سے سرگرم ہے کی قیادت نے انتخابات کے لیے راہ حق کا پلیٹ فارم استعمال کیا تھا۔پاکستان راہ حق پارٹی نے گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے تیسرے مرحلے میں کراچی سمیت پنجاب بھر سے 40 سے زائد نشستیں حاصل کی تھی۔

2018 کے انتخابات میں راہ حق پارٹی نے قومی اسمبلی کے لیے 26 امیدوار نامزد کیے تھے، جن میں اہل سنت و الجماعت کے سرپرست مولانا احمد لدھیانوی جھنگ، تنظیم کے مرکزی صدر علامہ اورنگزیب فاروقی کراچی کی دو نشستوں اور بلوچستان کے سربراہ رمضان مینگل کوئٹہ سے امیدوار تھے۔

راہ حق پارٹی نے صوبائی اسمبلیوں میں سب سے زیادہ امیدوار صوبہ سندھ سے کھڑے کیے تھے جن کی تعداد 26 تھی جبکہ خیرپختونخوا سے 17 امیدوار تھے جن میں راہ حق پارٹی کے بانی و صدر مولانا ابراہیم خان قاسمی بھی شامل تھے، بلوچستان اسمبلی کے امیدواروں کی تعداد پانچ تھی جبکہ پنجاب میں امیدواروں کو صرف جھنگ ضلعے تک محدود رکھا گیا تھا۔

اہل سنت و الجماعت نے کراچی، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت بھی کی، جن میں مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، بلوچستان عوامی پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی شامل تھی لیکن پیپلز کی قیادت اس کی تردید کرتی رہی۔

اورنگزیب فاروقی کراچی میں قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے امیدوار تھے جن میں این اے 238 پر انھوں نے 19463 ووٹ حاصل کیے انھیں مقامی طور پر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف اور ملی مسلم لیگ کی بھی حمایت حاصل تھی۔ یہاں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار رفیع بلوچ کامیاب قرار دیے گئے۔

کالعدم سپاہ صحابہ کے مرکز جھنگ سے راہ حق پارٹی کسی ایک نشست پر کامیابی حاصل نہیں کرسکی ہے، تنظیم کے سرپرست اعلیٰ علامہ احمد محمد لدھیانوی 68616 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے انھیں تحریک انصاف کی غلام بی بی بھروانہ نے شکست دی۔ گذشتہ انتخابات میں وہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر یہاں سے لدھیانوی کو ہراچکی ہیں۔

کوئٹہ کے حلقے این اے 266 سے جماعت اہل سنت والجماعت کے صوبائی رہنما مولانا رمضان مینگل کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ صرف گیارہ سو سے زائد ووٹ حاصل کرسکے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے آغا حسن 2034 ووٹوں کے ساتھ کامیاب قرار دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملی مسلم لیگ نے تحریک اللہ اکبر کے ساتھ 250 سے زائد قومی اور صوبائی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے

ملی مسلم لیگ بھی ناکام

جماعت دعوۃ کے سیاسی پلیٹ فارم ملی مسلم لیگ کا قیام گذشتہ سال عمل میں لایا گیا تھا اور تنظیم نے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں شریک ہوکر انتخابی سیاست کا اغاز کیا۔

عام انتخابات میں ملی مسلم لیگ نے تحریک اللہ اکبر کے ساتھ 250 سے زائد قومی اور صوبائی نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں کراچی، لاہور، کوئٹہ اور پشاور بھی شامل تھا۔ تاہم کسی بھی حلقے سے وہ قابل ذکر ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

امریکہ نے جماعت الدعوۃ پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ انڈیا ممبئی بم دھماکوں میں جماعت الدعوۃ کے سربراہ حفاظ سعید کو ملوث قرار دیتا ہے، ملی مسلم لیگ کے قیام اور انتخابات میں حصہ لینے پر عالمی میڈیا میں سخت اعتراضات کیے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں